پاکستان فری لانس سافٹ ویئر برآمد کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک

86

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی ٹیکنالوجی کے شعبہ میں مہارت عرب ورلڈ کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے اور بالخصوص اگر سلطنت سعودی عرب کے ساتھ خصوصی تکنیکی شراکت داری قائم کی جاتی ہے۔

فواد چودھری نے عرب نیوز کو اپنے ایک انٹرویو میں کہا:میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں عرب دنیا کے ساتھ قریبی تعاون قائم کرنے کا خواہاں ہوں۔

انہوں نے مزید کہا، پاکستان اور سعودی عرب اگرچہ پہلے ہی بڑے پیمانے پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں تاہم سائنس کے شعبہ میں تعاون قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان دنیا کا چوتھا فری لانس سافٹ ویئر ایکسپورٹر ہے چنانچہ عرب ورلڈ معمول کے سافٹ ویئرز کے لیے امریکا اور یورپ پر انحصار کرنے اور ان پر بڑی رقوم خرچ کرنے کے بجائے پاکستان کی مدد حاصل کر سکتا ہے۔ ہم آپ کی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہوں گے اور اگر کھل کر بات کی جائے، ہم آپ کو وہ خدمات نہایت کم قیمت میں فراہم کر سکتے ہیں جو آپ حاصل کر رہے ہیں اور ان کے معیار میں بھی کوئی فرق نہیں ہو گا۔ عرب ورلڈ پاکستان کے تجربے سے بڑے پیمانے پر فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔

فواد چودھری نے کہا کہ ان کی یہ خواہش ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے تعلیمی شعبہ میں سرمایہ کاری کرے۔ ہم پاکستان اور سعودی عرب میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ٹیکنالوجی پارک بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ہم بڑے پیمانے پر تکنیکی تعاون فراہم کر سکتے ہیں اور سعودی عرب بجٹ کے تناظر میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ پاکستان کے اس تکنیکی تعاون سے سعودی عرب کے بہت سے ٹیکنالوجی کے مسائل حل ہوں گے۔

پاکستان اس وقت اسلامک ڈویلپمنٹ بنک کے سائنس، ٹیکنالوجی اور انوویشن ٹرانسفورم فنڈ کے تحت کئی ملین ڈالرز کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے جن کا مقصد مسلمان ملکوں کو ان کے ترقیاتی چیلنجوں کے حوالے سے اختراح کی طاقت کے ذریعے عملی حل فراہم کرنا ہے۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے مزید کہا، میں امید کرتا ہوں کہ ایک بار فنڈز کی دستیابی کے بعد ہم بہت سے دیگر مسلمان ملکوں کی مدد کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمارٹ ویلیجز کے تصور پر کام کرنا چاہتا ہے۔ ہم سمارٹ ویلیجز کا یہ تجربہ دوسرے مسلمان ملکوں، افریقی مسلم اقوام اور مشرق وسطیٰ سے بھی شیئر کرنا چاہتے ہیں۔

فواد چودھری نے ملک کی ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی کو نمایاں کرتے ہوئے پاکستان میں تیار ہونے والے انسان کے بغیر چلنے والی ایئریل وہیکلز کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا، پاکستان کی ڈرون ٹیکنالوجی یورپ سے زیادہ جدید ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ہم جاسوسی، زراعت اور دیگر بہت سے شعبوں میں عرب دنیا اور بالخصوص سعودی عرب کی غیر معمولی مدد کر سکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here