نئی دہلی: بھارتی حکومت ایئر انڈیا کی فروخت کے لیے گاہکوں کی تلاش میں

149

نئی دہلی: انڈیا کی پرچم بردار ایئرلائن ایئرانڈیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ قرضوں میں جکڑی قومی ایئر لائن ایئرانڈیا کے تمام شیئرز فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

حکومت قبول ازیں اکثریتی شیئر فروخت کرنے کے لیے کوئی بھی پیشکش حاصل کرنے میں ناکامیاب رہی تھی۔ کمپنی کے ذمے اس وقت آٹھ ارب ڈالر قرض واجب الادا ہے جو تنخواہوں کی ادائیگی اور فیول خریدنے کے تناظر میں مشکلات کا شکار ہے، جیسا کہ حکام نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ اگر خریدار نہیں ملتا تو ایئر انڈیا کو بند کرنا ہو گا۔

وزارت سول ایوی ایشن نے سوموار کو ایک دستاویز جاری کی جس میں 100 فی صد شیئرز نیلامی کے لیے پیش کیے گئے ہیں اور ابتدائی بڈ کے لیے 17 مارچ کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے، دلچسپی رکھنے والے خریدار کو قریباً 3.26 ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی اپنے ذمے لینی ہو گی۔ 2018 میں حکومت اس وقت ایئر انڈیا کے 76 فی صد شیئرز فروخت کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد روکنے پر مجبور ہو گئی تھی کیوں کہ بڈرز نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ انڈیا کا ٹاٹا گروپ، سنگاپور ایئرلائنز اور انڈی گو ایئر لائن کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے تیار تھیں لیکن بالآخر انہوں نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔

ایئر انڈیا کا قیام تقسیم سے قبل 1932 میں عمل میں آیا اور قبل ازیں انڈیا کی ایئرالائن انڈسٹری پر اس کی اجارہ داری رہی ہے، کمپنی کو  پیار سے آسمانوں کا مہاراجہ کہا جاتا تھا۔ لیکن یہ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والی لیکن سب سے زیادہ مسابقتی ایئرلائن مارکیٹ میں اپنا شیئر کھو چکی ہے۔ گزشتہ برس نومبر میں وزیر برائے ایوی ایشن ہردیپ سنگھ پوری نے کہا تھا کہ ایئرلائن کی اگر نجکاری نہیں ہوتی تو اسے بند کرنا ہو گا۔

سرکاری آئل کمپنیوں نے اگست میں ایئر انڈیا کو فیول کی سپلائی روک دی تھی جس کی وجہ واجب الادا رقم کی عدم ادائیگی تھی، بعدازاں اگرچہ حکومت کی ثالثی سے ایک ماہ بعد تیل کی سپلائی بحال کر دی گئی تھی۔ ملک کا ایوی ایشن سیکٹر گزشتہ برس جیٹ ایئرویز کی بندش کے بعد زوال کا شکار ہو چکا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here