پی ایس او بدترین مالی بحران شکار، ائیرلائنز کو جیٹ فیول سپلائی بند ہونے کا خدشہ

سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ، پی آئی اے ، حکومت پاکستان سمیت تیل کے دیگر خریداروں کی جانب 355.7 ارب روپے واجب الادا، عدم ادائیگیوں کی وجہ سے مختلف سیکٹرز کو تیل کی سپلائی رک چکی

100

اسلام آباد: خسارے کا شکار پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) نے حکومت کو کہا ہے کہ وہ مقامی اور بین الاقوامی ائیرلائنز کو تیل کی سپلائی کرنے پر غور کر سکتے ہیں کیونکہ ادائیگیوں میں تاخیر کی وجہ سے کمپنی کو مالیاتی بحران کا سامنا ہے۔

20 جنوری 2020ء تک پی ایس او کی مختلف کمپنیوں کی جانب واجب الادا رقم 355 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، کمپنی کی خراب ہوتی مالی حالت سے بورڈ چیئرمین نے سیکریٹری فنانس کو پہلے ہی آگاہ کرچکے ہیں۔

یہ معاملہ کو گزشہ دنوں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں بھی زیر بحث آیا تھا، ای سی سی کو بتایا گیا کہ ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے پی ایس او کے قرضوں میں 28 ارب روپے اضافہ ہو گیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن نے ای سی سی یہ رقم ختم کرانے کی کوشش کی تھی۔

ای سی سی اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) اِن دنوں شدید مالی مشکلات سے اس لیے دورچار ہے کیونکہ اس کے تیل کے خریدار سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ، پی آئی اے اور حکومت پاکستان کی جانب مجموعی طور 355.7 ارب روپے واجب الادا ہیں۔

عدم ادائیگیوں کی وجہ سے پی ایس او ملک بھر میں مختلف سیکٹرز کو تیل فراہم نہیں کر پا رہی، صورتحال دیوالیہ ہونے تک پہنچ چکی ہے، اگر بحران شدت اختیار کرتا ہے تو ہو سکتا ہے پی ایس او کی جانب سے مقامی اور بین الاقوامی ائیر لائنز کو پاکستان کی حدود میں جیٹ فیول کی سپلائی معطل ہوجائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here