امریکی انرجی فرمز اور مینو فیکچررز پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں: ایلس ویلز

دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اور دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے کیلئے پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہیں، اسلام آباد ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عمل کرکے عالمی برادری کو مطمئن کرے، میڈیا بریفنگ

291

واشنگٹن: امریکا کی نائب وزیر خارجہ اور جنوبی ایشیائی امور پر سنیئر سفارتکار ایلس ویلز نے کہا ہے کہ امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے حوالے سے ایکشن پلان کا مکمل نفاذ عمل میں لائے. انہوں نے کہا کہ امریکی انرجی فرمز اور مینو فیکچررز پاکستانی مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ میں اپنے دورہ پاکستان کے حوالے سے میڈیا بریفنگ میں ایلز ویلز نے کہا کہ ’’یہ ایک سیاسی عمل نہیں لیکن پھر بھی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے حوالے سے اقدامات کے نفاذ کیلئے ہم پاکستان کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔‘‘

اس سوال پر کہ پاکستان نے گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے امریکی مدد مانگی ہے، ایلس ویلز نے کہا کہ ’’ایف اے ٹی ایف کی کسی لسٹ میں آنا اور اس سے نکلنا ایک تکنیکی عمل ہے، پاکستان کو ایک ایکشن پلان دیا گیا تھا، اب پاکستان پر ہے کہ وہ مذکورہ ایکشن پلان پر کس قدر عمل پیرا ہوتا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ہم دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اور دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنے کیلئے پاکستان کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہتے ہیں، ہم پاکستان کی اس حوالے سے بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ ایف اے ٹی ایف کیساتھ ملکر ایکشن پلان پر مکمل عمل کرکے عالمی برادری کو مطمئن کرے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی اصلاحات کی کوششوں سمیت اس کے آئی ایم ایف پروگرام کے لیے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کا مکمل ہونا اہم ہے۔

اس سوال پر کہ اگر پاکستان ایف اے ٹی ایف کے مطالبات پورے نہیں کر پاتا تو کیا آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو قرض فراہمی پر کوئی اثر پڑے گا؟ ایلس ویلز نے کہا کہ اگر پاکستان مطولبہ نتائج نہیں دے پاتا یا بلیک لسٹ میں چلا جاتا ہے تو یہ پاکستان کی معاشی اصلاحات اور بیرونی سرمایہ کاری حاصل کرنے کیلئے تباہ کن ہوگا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اقدامات پر امریکا خوش ہے۔

دو طرفہ تعلقات میں بہتری کی جانب پیشرفت:

ایلس ویلز نے امریکا اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات میں حالیہ پیشرفت پر بھی روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ ہم نے بین الاقوامی عسکری تعلیم اور تربیتی پروگرام کی بحالی سے ڈیووس میں وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر کی تعمیری ملاقات جیسی اعلیٰ سطح کی بات چیت سے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں کافی پیشرفت دیکھی ہے۔

’پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع دیکھ رہے ہیں‘

سی پیک پر اپنے بیان کے حوالے سے پاکستان کے ردعمل سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ایلس ویلز نے کہا ’’پاکستان اس بات کا فیصلہ کرنے میں مکمل خودمختار ہے کہ وہ کہاں سے اور کن شرائط پر سرمایہ کاری حاصل کرتا ہے۔‘‘

تاہم انہوں نے کہا کہ بطور دوست امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان ایسی سرمایہ کاری حاصل کرے جس سے ناصرف ملک میں دولت پیدا ہو بلکہ روزگار اور معاشی خوشحالی بھی آئے، ہمارے پاس پاکستانی مارکیٹ کیلئے کافی آپشنز موجود ہیں۔

دراصل ان اشارہ اپنی اس بات کی جانب تھا کہ امریکی انرجی فرمز اور مینو فیکچررز پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایکسن موبل اور ایکسلریٹ کارگل ہنی ویل جیسی امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور مزید نئی سرمایہ کاری کرنے پر غور کر رہی ہیں، اوبر پاکستان میں 80 ہزار نوکریاں فراہم کر چکی ہے۔

ایلس ویلز نے کہا کہ ہم 2020 میں 10 پاکستانی خریداروں کے وفد اور 5 علاقائی تجارتی شوز کا خیرمقدم کرنے کے منتظر ہیں کیونکہ اس سے پاکستان اور امریکی کمپنیوں کے درمیان گہرا تعلق قائم ہوگا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here