افریقی ملکوں کے ساتھ تجارت کا فروغ، وزارت خزانہ 31-30 جنوری کو نیروبی میں دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کرے گی

319

اسلام آباد: حکومت کے زیراہتمام  لک افریقہ انیشی ایٹو کے عنوان سے وزارت خزانہ 30 اور 31 جنوری کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں پاکستان افریقہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ کانفرنس کا انعقاد کرے گی۔

وزارت کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق، یہ کانفرنس اپنی طرز کی اولین ایسی کانفرنس ہے جس میں 20 افریقی ملکوں سے دو سو مندوبین شریک ہو رہے ہیں جن میں حکام اور بزنس مین شامل ہیں، اس کانفرنس کا انعقاد بیرون ملک قائم پاکستانی سفارت خانوں نے کیا ہے۔

کانفرنس میں شرکت کرنے والے ملکوں میں میزبان پاکستان کے علاوہ کینیا، الجیریا، مراکش، تنیزیا، لیبیا، مصر، سینیگال، نائیجیریا، ایتھوپیا، تنزانیہ، نائیجر، جنوبی افریقہ، زمبابوے، سوڈان، موریشیس، روانڈا، یوگنڈا اور برونڈی شامل ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالرزاق دائود اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ کینیا کے وزیر خارجہ اور وزیر تجارت نے بھی کانفرنس میں شرکت کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ کینیا کے صدر یوہورو کینیاٹا کانفرنس کا افتتاح کریں گے۔

پاکستان کی ایک سو سے زیادہ نمایاں کمپنیاں جن میں ٹیکسٹائل، فارماسوٹیکل ، زراعت (چاول، چینی، گندم)، ٹریکٹرز اور زرعی آلات، بینکنگ و ٹرانسپورٹیشن، آلات جراحی، چمڑا اور کھیلوں کی مصنوعات، لائٹ انجینئرنگ و الیکٹرانکس، آئی ٹی و سافٹ ویئر اور سیمنٹ و تعمیراتی سیکٹر اپنی مصنوعات نمائش کے لیے پیش کریں گے۔

دو روزہ کانفرنس کے دوران پاکستانی وفد اپنے افریقی ہم منصبوں سے تجارتی تعلقات بہتر بنانے کے طریقوں،  بینکنک اور ٹرانسپورٹیشن کے شعبوں میں رابطے بڑھانے کے علاوہ دوطرفہ تعلقات میں بہتری اور ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو ختم کرنے پر بات ہو گی۔

ایک پریزنٹیشن بعنوان پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی دی جائے گی جس کے بعد پاکستانی بزنس مین اور افریقی تجارتی بلاک و ممالک کے بزنس مین اپنے اپنے شعبوں کے حوالے سے پریزنٹیشن دیں گے۔ مزیدبرآں، بزنس ٹو بزنس، گورنمنٹ ٹو بزنس اور گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ اجلاس بھی منعقد کیے جائیں گے۔

یہ ذکر کرنا نہایت اہم ہے کہ پاکستان کی افریقہ کے ساتھ تجارت 13-2012 سے 17-2016 کے دوران تین ارب ڈالر سالانہ پر رُکی رہی تاہم 19-2018 میں یہ بڑھ کر چار اعشاریہ چھ ارب ڈالر ہو گئی۔

وزارت کے مطابق، افریقہ کے ساتھ تجارتی حجم کے زیادہ نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اور افریقہ کے درمیان تعلقات بہت زیادہ پرجوش نہیں رہے۔

وزارت کے مطابق، تجارت کے فروغ اور اہم افریقی معیشتوں تک رسائی کے لیے وزارت خزانہ نے لک افریقہ انیشی ایٹو شروع کیا ہے جس سے افریقہ کے ساتھ تجارت کے مواقع کھلیں گے۔ 2019 میں وزارت خزانہ نے چھ کمرشل سیکشن یورپ سے افریقہ منتقل کر دیے تھے جن کی مجموعی تعداد اب 10 ہو گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here