پی ٹی آئی حکومت میں ن لیگ کی نسبت کرپشن میں اضافہ ہوا، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل

پاکستان کا اسکور گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہو کر 33 سے 32 ہو گیا ہے جو ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن کا واضح ثبوت ہے اور نتیجتاً عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی رینکنگ 3 درجہ کم ہو کر 117 سے 120 ہو گئی ہے

356

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن کے حوالے سے جاری کردہ عالمی درجہ بندی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 3 درجہ تنزلی کے بعد پاکستان کرپشن انڈیکس میں 120ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ 2019ء (پی ٹی آئی دور حکومت) میں 2018ء (مسلم لیگ ن کا دور حکومت) کی نسبت کرپشن زیادہ ہوئی ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے جمعرات کو کرپشن پرسیپن انڈیکس (سی پی آئی) 2019ء کے حوالے سے عالمی درجہ بندی کی رپورٹ جاری کی ہے جس میں 180ملکوں اور علاقوں کے سرکاری اداروں میں ہونے والی کرپشن کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس میں سب سے زیادہ کرپٹ کو صفر اور شفاف ترین ملک کے لیے 100کا ہندسہ رکھا گیا ہے۔

پاکستان کا اسکور گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہو کر 33 سے 32 ہو گیا ہے جو ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن کا واضح ثبوت ہے اور نتیجتاً عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی رینکنگ 3 درجہ کم ہو کر 117 سے 120 ہو گئی ہے۔

مذکورہ رینکنگ میں پڑوسی ملک بھارت کا اسکور 41 اور وہ 80 ویں نمبر پر موجود ہے جبکہ بنگلہ دیش 26 پوائنٹس کے ساتھ 146ویں نمبر پر موجود ہے۔

صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ اکثر ترقی یافتہ ملکوں نے بھی توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھائی جن میں کینیڈا، فرانس، برطانیہ اور 2019 کے انڈیکس میں پہلے نمبر پر رہنے والا ڈنمارک بھی شامل ہے۔

اس رپورٹ کی تیاری کیلئے 13 عالمی اداروں کی مدد لی لی گئی ہے تاہم پاکستان کے حوالے سے 8 عالمی اداروں کی اسیسمنٹ کو دیکھا گیا ہے جن میں عالمی اقتصادی فورم کا ایگزیکٹو اوپنین سروے، ورلڈ بینک کنٹری پالیسی اینڈ انسٹیٹیوشنل اسیسمنٹ، ورلڈ جسٹس پروجیکٹ رول آف لاء پروجیکٹ اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کنٹری رسک سروس، گلوبل انسائیٹ کنٹری رسک ریٹنگ، آئی ایم ڈی ورلڈ کمپی ٹیٹیونیس سینٹر سروے وغیرہ شامل ہیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی منیجنگ ڈائریکٹر پیٹریشیا مریرا نے کہا کہ اکثر ملکوں میں کرپشن کے خلاف کوئی پیشرف نہ ہونا مایوس کن ہے جس سے دنیا بھر میں شہریوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے اور لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے سیاست اور بڑی رقوم کے درمیان تعلقات سے نمٹنا ہو گا، فیصلہ سازی میں تمام شہریوں کی نمائندگی ہونی چاہیے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here