سی پیک کے حوالے سے اپنا مفاد دیکھیں گے، ٹرمپ نے دورہ پاکستان پر آمادگی ظاہرکی ہے، شاہ محمود

سی پیک کا مجموعی قرض تقریباً 4 ارب 90 کروڑ ڈالر ہے جو پاکستان کے مجموعی قرض کا 10 فیصد بھی نہیں بنتا، ترجمان دفتر خارجہ، امریکی دعوے مسترد 

206

اسلام آباد (مانیٹرنگ رپورٹ): وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سی پیک کے حوالے سے ہمیں اپنا مفاد دیکھنا ہے جو چیز ہمارے مفاد میں ہے ہم اس پر عمل پیرا رہیں گے، صدر ٹرمپ نے دورہ پاکستان پر آمادگی کا اظہار کیا ہے، وہ جلد پاکستان آنے کے خواہشمند ہیں۔

جمعرات کو ایک بیان میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالہ سے ہم اپنے مفاد کو دیکھیں گے جو چیز ہمارے مفاد میں ہے ہم اس پر عمل پیرا رہیں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ ہم اپنا نکتہ نظر دنیا کے سامنے رکھیں، اگر کشمیر میں حالات بگڑتے ہیں یا جنوبی ایشیاء میں کوئی چپقلش جنم لیتی ہے تو خطہ کی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے، ان سارے مسائل کو اجاگر کرنا ہمارے فرائض میں شامل ہے اور وزیراعظم عمران خان نے انہیں اجاگر کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے دورہ پاکستان پر آمادگی کا اظہار کیا ہے وہ جلد پاکستان آنے کے خواہشمند ہیں۔ امریکی صدر سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایک اہم ملک ہے وہ پاکستان کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کو بڑھانا چاہتے ہیں۔

 ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے بھی سی پیک سے متعلق امریکی دعوئوں کو مسترد کیا ہے کہ یہ منصوبہ ہمیشہ قرضوں کا باعث یا ریاستی ضمانت کے ساتھ غیر ریاعتی مالی معاونت پر مبنی ہے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران امریکی سینئر سفیر ایلس ویلز کے سی پیک سے متعلق حالیہ بیانات پر سوالات کا جواب دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی ہفتہ وار بریفنگ دے رہی ہیں

انہوں نے واضح کیا کہ سی پیک کا مجموعی قرض تقریباً 4 ارب 90 کروڑ ڈالر ہے جو ملک کے مجموعی قرض کا 10 فیصد بھی نہیں ہے۔

عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ سی پیک ایک طویل مدتی منصوبہ ہے جس پر ایک جامع عمل کے ذریعے بات چیت کی جاتی ہے، منصوبے سے پاکستان کو توانائی، انفرااسٹرکچر، صنعت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ترقیاتی فرق کو دور کرنے میں مدد کی ہے۔

عائشہ فاروقی نے کہا کہ پاکستان اور چین اسٹریٹجک شراکت دار ہیں، سی پیک پاکستان کے لیے تبدیلی کا منصوبہ ہے جس کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانا پاکستان کی اولین ترجیح ہے اور اسی سلسلے میں حال ہی میں ایک سی پیک اتھارٹی قائم کی گئی ہے تاکہ منصوبوں کی تکمیل کو دیکھا جاسکے۔

یاد رہے گزشتہ دنوں امریکی سفیر ایلس ویلز نے تھنک ٹینک کی ایک تقریب سے خطاب میں چین کے ون بیلڈ ون روڈ انیشی ایٹو منصوبے پر تنقید کی تھی.

جس پر ایلس ویلز نے اسلام آباد سے سی پیک میں شمولیت کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی تھی۔

 قبل ازیں پاکستان میں چینی سفارتخانے نے بھی امریکہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here