پاکستانی معیشت کیلئے اصل نجات دہندہ کون؟ حکومت، فوج یا کوئی تیسرا؟

موجودہ حکومت اور نیب کی کارروائیوں سے بزنس کمیونٹی کا جی ایچ کیو پر دیرینہ اعتماد متزلزل ہوا ہے لیکن حکومت کی جانب سے نیب ترمیم کی صورت میں جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں وہ کافی دیر پہلے اٹھائے جانے چاہیے تھے

991

آخری بار آپ نے ایک کاروباری گروپ کو اپنی پروڈکٹس کی تشہیر کی بجائے بطور ایک کارپوریٹ ادارہ اپنی تشہیر کرتے کب دیکھا؟ شائد گزشتہ رات ہی کسی بڑے چینل پر آپ نے اینگرو کارپوریشن کے مخلتف کاروباروں کے بارے میں اشتہارات دیکھے ہوں جن میں پاکستان کی معیشت اور معاشرت پر ان کے مثبت اثرات کے بارے میں بتایا گیا ہو۔

ظاہر ہے اس تشہیر کی وجہ صرف اور صرف برانڈ بلڈنگ ہوتی ہے، اینگرو ممکنہ طور پر سپلائیرز، کسٹمرز، ملازمین، فنانسرز اور کاروباری شراکت داروں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ کمپنی پر نظر التفات زیادہ کردیں، لیکن کمپنی کی اسطرح کی سرگرمیاں  شائد محض اتفاقاََ نہ ہوں کیونکہ حالیہ عرصے میں کمپنی کے چیئرمین اور سب سے بڑے شئیرہولڈر حسین دائود اور انکے بیٹے اینگرو کے بورڈ ممبر صمد دائود کا نام قومی احتساب بیورو (نیب) کی انکوائری میں سامنے آیا۔

اس انکوائری کے بعد تشہیر کرنے کی شائد سادہ سی وجہ یہ ہو کہ کمپنی عوام کی عدالت کی جانب رجوع کر رہی ہے تاکہ رپورٹرز کی جانب سے ہیجانی سوالات کا مقابلہ کیا جا سکے جو اینگرو اور اسکے حکام کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔

اگرچہ زیادہ تر ناظرین نے شاید اشتہاروں پر زیادہ توجہ نہیں دی ، یہ اشتہارات پاکستان میں طاقت کی حرکیات میں ایک دلچسپ اور اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پاکستان میں یہ غیر معمولی بات ہے کہ اینگرو جیسے بڑی اور بارسوخ کمپنی حکومت تک اپنا مدعا پہنچانے کیلئے کوئی لابی کرنے کی بجائے رائے عامہ کی جانب آ رہی ہے۔

اینگرو کے ایسا کرنے کی وجہ غیر معمولی سہی لیکن 1950ء سے پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ بزنس کمیونٹی کے پاس اس سوال کا واضح جواب نہیں کہ ’’پاکستان میں حکومت کا اصل انچارج کون ہے؟‘‘

پاکستان میں اور بیرون پاکستان سیاسی حرکیات کے نباض پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کو اس لیے ’’ہائبرڈ حکومت‘‘ قرار دیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک موجودہ حکومت کی تشکیل میں جمہوری اور مطلق العنان ملٹری دونوں طرز کے عناصر کارفرما ہیں اور یہ دوہرا نظام حکومت بزنس کمیونٹی میں کنفیوژن کا سبب بن رہا ہے کیونکہ ان کے خلاف نیب کافی جارحانہ انداز میں متحرک ہو چکا ہے۔

دوسری طرف 27 دسمبر 2019 کو حکومت نے نیب ترمیمی آرڈی نینس متعارف کرایا ہے جس میں نیب کو کسی قدر بے اختیار کیا گیا ہے لیکن کچھ سوالات پھر بھی سر اٹھائے کھڑے ہیں کہ کسی آفت کی صورت میں کاروباری افراد اپنے مسئلے لیکر کس سے رجوع کریں؟ حکومت کا مدار المہام کون ہے؟ اور اس سارے منظر نامے کے تناظر میں انکا اپنا مستقبل کیا ہوگا اور پاکستان کی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟

اس سٹوری کیلئے پرافٹ اردو نے مخلتف کمپنیوں کے ان سابق اور موجودہ حکام سے بات کی جو نیب کا سامنا کر چکے تھے یا کر رہے ہیں، انہوں نے اپنے نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر جو کچھ بتایا وہ آپکی نذر ہے۔ تاہم جو کچھ انہوں نے گوش گزار کیا وہ حکومت اور ان کمپنیوں کی اندرونی کہانی ہے جہاں فیصلہ سازی کی قوت مفلوج ہوچکی ہے، افسران نیب کے ڈر سے منصوبوں کے معاہدوں پر دستخط کرنے سے ڈرتے ہیں طویل المدتی منصوبوں کی منصوبہ بندی جس کے لیے حکومت کا تعاون یا منظوری ضروری ہوتی ہے وہ بھی رک چکی ہے، ایل این جی پروجیکٹس سمیت سرمایہ کاری کے کئی منصوبے صرف اور صرف اسی ڈر اور خوف کی وجہ سے رک چکے ہیں کہ جس افسر نے اسکے معاہدے پر دستخط کیے نیب اسکے پیچھے پڑ جائے گا۔

اسکی ایک مثال دیکھ لیں، ایسوسی ایٹڈ گروپ کے اقبال زیڈ احمد کو اس وقت نیب نے گرفتار کیا جب وہ انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کیلئے آنے والی کچھ بیرونی سرمایہ کاروں کے ساتھ میٹنگ کر رہے تھے۔

غیریقنی کی کیفیت پاکستان کیلئے کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، یہاں حکومتوں کیساتھ ہی ان کی پالیسیاں بھی اسی تیزی سے بدلتی ہیں جس کی وجہ سے کمپنیوں اور کاروباری اداروں کو نت نئے قواعد وضوابط کیساتھ چلنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غیرمعمولی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ان کاروباری اداروں کیساتھ بھی ہو رہا ہے جن کے بارے میں یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ انہیں سینئر ملٹری قیادت کی یقین دہانی حاصل ہے کہ نیب انہیں ہراساں نہیں کریگا۔ تاہم پاکستان میں ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ فوجی تحفظ کے باوجود بھی ڈلیورکرنے میں ناکامی ہو۔

بزنس اور ملٹری تعلقات کی مختصر تاریخ:

اگرچہ پاکستان میں بڑے کاروباری اداروں/ افراد اور ملٹری کے مابین سماجی نوعیت کے تعلقات رہے ہوں تاہم دونوں کے اصل تعلقات اس وقت مائل بہ پرواز ہوئے جب اکتوبر 1958ء میں پہلی فوجی بغاوت کے نتیجے میں ایوب خان ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔

ایوب خانی حکومت کا مطمئہ نظر نجی صنعتی سیکٹر کی ترقی رہی اور یہی انکی انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں سنگ بنیاد تھا لہٰذا بڑے کاروباری اداروں کو ترقی اور توسیع کی راہ میں حائل مشکلات اور رکاوٹوں کوسمجھنا اور انہیں دور کرنا حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل تھا۔ ان ترجیحات کا مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ بڑے کاروباری اداروں کے مالکان کو حکومتی فیصلہ سازوں تک آسانی سے رسائی مل گئی، یوں ملک میں کاروبار بڑھا، صنعت اور روزگار کو فروغ ملا اور ساٹھ کی دہائی میں پاکستان تیزی سے آگے بڑھا۔

لیکن یقینی طور پر اسکا منفی پہلو بھی سامنے آنا ہی تھا، وہ یہ کہ حکومت عام شہریوں کی نسبت کاروباری اداروں کی ضروریات کے بارے میں زیادہ فکرمند تھی، حکومتی پالیسیوں نے ڈرامائی طور پر ملک میں عدم مساوات کو بڑھاوا دیا، یہاں تک کہ ان پالیسیوں کے معمار ڈاکٹر محبوب الحق تھے، 1968 تک ملک میں زیادہ تر نجی دولت “22 خاندانوں” کی ملکیت ہو کر رہ گئی۔

تاہم ایک چیز واضح تھی کہ بزنس لیڈرز کو اگر کوئی مسئلہ درپش ہوتا تو وہ جانتے تھے کہ حل کیلئے کس کے پاس جانا ہے، حتمی فیصلہ ساز ایوب خان خود تھے اور جنہیں انہوں نے فیصلہ سازی کے اختیارات دئیے تھ وہ بھی حکومت کی جانب سے اپنا کردار ادا کرتے رہے۔

یحیٰ خان کا دور سیاسی طور پر کافی ہنگامہ خیز رہا، 1971 کی جنگ کے نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا، جس کے بعد پہلی بار پاکستان میں جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو مسند اقتدار پر براجمان ہوئے۔

بھٹو کی نیشنلائزیشن کی پالیسی نے بزنس کمیونٹی کو ان کا ملامتی بنا دیا، حکومت بھی کاروباری افراد کی بپتا سننے پر آمادہ نہ تھی بلکہ جہاں تک ہو سکا ان کے ساتھ برا سلوک کیا گیا، اس زمانے میں فوج بھی کچھ کمزور ہو چکی تھی اس لیے وہاں سے بھی بزنس کمیونٹی کو کوئی سہارا میسر نہ آیا، بھٹو ہر لحاظ سے طاقتور تھے اس لیے ان کا کہا ہی انکی حکومت کی پالیسی بن جاتی۔

بھٹو کا زمانہ چونکہ نیشنلائزیشن اور ایسی ہی دیگر پالیسیوں کا مجموعہ تھا اس لیے ان کے بعد شائد بہت سوں کو توقع تھی کہ بزنس کمیونٹی کو کچھ ریلیف ملے گا ضیاء الحق کی حکومت بھی وہ ’اچھے دن‘ واپس نہ لاسکی جو تاجروں اور کاروباری طبقے نے ایوب دور میں دیکھ رکھے تھے، اچھے دن تو نہیں آئے لیکن اسٹیبلشمنٹ (سول و ملٹری) نے بزنس کمیونٹی کو ٹھیک اسی سانچے میں ضرور ڈھالنا چاہا جس میں ایوب خان دور میں ڈھالے رکھا تھا۔

دراصل ایوب خان کے دور میں زیادہ تر جو لوگوں ایلیٹ کلاس میںشامل تھے وہ تقسیم سے پہلے کے امیر چلے آ رہے تھے، البتہ ضیاء دور میں ایک نئی ایلیٹ کلاس سامنے آئی جس میں وہ لوگ شامل تھے جن کے حکومت کیساتھ تعلقات قائم ہوگئے تھے، یا پھر بھٹو کی نیشنلائزیشن کے بعد ضیاء دور میں بعض اثاثہ جات کی نجکاری ہوئی تو انہوں نے وہ اثاثے خرید لیے تھے یا بینکوں سے قرضے لیکر کاروبار جما لیے تھے۔

اسکے بعد ’جمہوریت کا عشرہ‘ آیا جو 1988ء سے شروع ہو کر 1999ء تک برقرار رہا، اس دوران کاروباری ایلیٹ کے حکومت کیساتھ تعلقات قدرے پیچیدگی کا شکار رہے۔ بے نظیر اور نواز شریف دونوں نے ایسی پالیسیاں متعارف کرائیں جس سے دولت کا ارتقاض سیاسی ہاتھوں میں چلا گیا، نواز شریف دور میں سرکاری اثاثوں کی دوسری بار نجکاری اور بے نظیر دور میں انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) پالیسی اسکی مثالیں ہیں اور اس دوران سرکاری بینکوں سے جابجا قرضے بھی لیے گئے۔

لیکن دونوں کے ادوار میں ایک چیز بھرپور طور پر نظر آتی ہے وہ یہ کہ جب بے نظیر اقتدار میں آتیں تو سرکاری مشینری نواز شریف کے کاروباری دوستوں کے پیچھے پڑ جاتی، انکے خلاف مقدمات بنتے اور مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جاتا، اسی طرح نواز شریف اقتدار میں آتے تو انکی حکومت بے نظیر کے قریبی کاروباری لوگوں کو زیر عتاب لے آتی۔

مثلاََ Lakson Group کے نمایاں شئیر ہولڈر اور بے نظیر دور میں سینیٹر رہنے والے سلطان لاکھانی کو نواز شریف کے دور میں مقدمات کا سامنا رہا اور جیل بھی جانا پڑا، اسی طرح میاں منشاء جن کے بارے میں بہت سوں کا خیل ہے کہ نواز شریف کے دوست ہیں، انہیں بے نظیر کے دورمیں اچھی خاصی مشکلات کا سامنا رہا۔

تاہم اس دوران کچھ دولت مند کاروباری افراد نے فرج کے ساتھ تعلقات کو زندہ رکھا، یہ بزنس لیڈرز اس وقت کے آرمی چیف کے اکثر جاتے اور انہیں سول حکومت کیخلاف بغاوت کرنے کی درخواستیں کرتے رہے۔ اس لیے جب اکتوبر 1999ء میں بغاوت کرکے مشرف مسند اقتدار پر براجمان ہوئے تو ان کاروباری افراد کو قدرے سکون میسر آیا۔  اور پھر ظاہر ہے مشرف حکومت نے اپنے کاروباری دوستوں کو مایوس نہیں کیا بلکہ انکے تحفظات دور کرنے اور اقتدار کی راہداریوں تک کاروباری افراد کی رسائی میں مشرف حکومت ایوب خان کی حکومت سے بھی زیادہ فراخ دل ثابت ہوئی۔

Big Four اکائونٹنگ فرم کے ایک شراکت دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’مشرف دور میں اگر آپ کسی درمیانے درجے کی کمپنی یا کسی فرم میں شراکت دار بھی تھے تو ایک یا دو ہفتے میں ہی اُس وقت کے وزیر خزانہ (بعد ازاں وزیراعظم) کیساتھ ملاقات کرسکتے تھے۔ اور وہ بھی آپ کی بات واقعی سنتے تھے اور کم از کم یہ ضرور بتاتے تھے کہ وہ آپکے لیے کیا کر سکتے ہیں۔‘‘

 مشرف دور میں ہر بڑے کاروباری ادارے نے کا بزنس کئی گنا وسیع ہو گیا، بعد ازاں کئی بزنس کریش بھی کر گئے تاہم مشرف حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی غلطیوں کی وجہ سے۔ جیسے کہ زیادہ قرضے لے لیے گئے یا بے وقت توسیع دے دی گئی یا پھر حکمت عملی ناقص رہی۔

اس کے بعد آصف زرداری نے عنان اقتدار سنبھالی جو پہلے ہی’’مسٹر ٹین پرسنٹ‘‘ کی شہرت رکھتے تھے، اس بارے میں ایک بڑے مالیاتی ادارے کے اعلیٰ افسر نے نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا: ’’ایک بار ہمیں سرمایہ کاری ملی تو ہمیں ایک شخص کی کال آئی جس کے بارے میں ہمیں یقین تھا کہ وہ پارٹی قیادت کے ایماء پر بات کر رہا ہے، اصل میں وہ ہمیں ملنے والی سرمایہ کاری میں سے ’’10 فیصد‘‘ کا مطالبہ کر رہا تھا اور منطق یہ پیش کر رہا تھا کہ ہمیں جو سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے وہ حکومتی پالیسیوں کی مرہون منت ہے اس لیے 10 فیصد حصہ دیا جائے۔‘‘

پیپلزپارٹی کی حکومت اس حوالے سے سب سے برابر سلوک کرتی تھی، کاروباری افراد کا جب تک فیصلہ سازوں کیساتھ تعلق رہتا یا جب تک اسے حکومت سے مدد کی ضرورت رہتی، ہر کوئی ٹھیک رہتا، ’اپنا حصہ‘ وصول کرنے کا ایک طریقہ کار یہ تھا کہ اگر آپ حکومتی مدد چاہتے ہیں یا یہ چاہتے کہ آپکو ہراساں نہ کیا جائے تو آپکو کسی ایسے شخص تک پہنچنے کی ضرورت ہوگی جو پارٹی لیڈرشپ تک رسائی رکھتا ہو تاکہ وہ آپکی سفارش کرسکے۔ مذکورہ دوست پارٹی قیادت کیساتھ ایک میٹنگ رکھتا جس میں آپکو بلایا جاتا، وہاں کسی کاروبارموقع کا ذکر کیا جاتا اور آپ کو کہا جاتا کہ اس میں سرمایہ کاری کریں، ذاتی طور پر آپ سے کسی قسم کی رقم کا مطالبہ نہیں کیا جاتا، اسکی بجائے کسی مشترکہ دوست کو درمیان میں ڈال کراس کے ذریعے ٹرانزیکشن کی جاتی جو بالکل ایک معمول کی سرمایہ کاری یا خریدوفروخت دکھائی دیتی۔

ایسے میں آپ فوج سے مدد کی درخواست کرسکتے تھے لیکن اسے پہلے ہی داخلی محاذ پر جنگی صورتحال کا سامنا تھا، مشرف کی بغاوت اورسیاست کرنے کی وجہ سے فوج کی شہریت بھی داغ دار تھی، بہت کم ایسا ہوتا کہ آپ کسی سینئر افسر کو مدد کرنے پر آمادہ کر سکتے تو یہ بھی بڑی بات ہوتی۔ لیکن فوج بڑی حد تک یہی تاثر دیتی کہ وہ پالیسی ترجیحات کے حوالے سے حکومت پر کسی حوالے سے اثرانداز نہیں ہوئی۔

جہاں تک بزنس کمیونٹی کی بات تھی تو نواز شریف کا تیسرا دور بہت حد تک مشرف حکومت کی نقل تھا، سوائے ایک دو چیزوں کو چھوڑ کے۔ ان میں سے پہلی چیز یہ تھی کہ نواز شریف اپنا ایجنڈہ لیکر آئے اس لیے ان کے پاس ہاں یا ناں کہنے کی کافی وجوہات تھیں جبکہ مشرف دور میں معاشی پالیسی کافی حد تک بزنس لیڈرز کے زیر اثر رہی۔ دوسری چیز یہ تھی کہ حکومت کے انچارج خود نواز شریف تھے۔

اسکی ایک مثال یہ ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر سے وابستہ لابی نے جب اُس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ملنے کی کوشش کی تو انہوں نے انکار کردیا،  تب جا کر ٹیکسٹائل بزنس لیڈرز کو معلوم ہوا اگرچہ ڈار کو نواز شریف کا مکمل اعتماد حاصل تھا لیکن وہ مطلق العنان نہیں تھے بلکہ نواز شریف انکے فیصلوں کو منظور یا مسترد کرسکتے تھے۔

نواز شریف کے تیسرے دوراقتدار میں تقریباََ کسی نے بھی فوج کو اپنے لیے لابنگ کرنے کا نہیں کہا، بزنس لیڈرز کو جلد اندازہ ہو گیا کہ واحد فیصلہ ساز قوت نواز شریف خود ہیں اور فوج کیساتھ تعلقات کچھ سرد مہری کا شکار ہیں۔

’ہائی بریڈ حکومت‘ کی افراتفری:

عمران خان برسراقتدارآئے تو کاروباری برادری کو ابتداء میں ایسا لگا کہ حکومت اور اعلیٰ فوجی قیادت کلیدی معاملات کے حوالے سے ایک پیج پر ہے اور ظاہر ہے سب سے کلیدی معاملہ معیشت تھی، انہوں نے یہ بھی اندازہ لگا لیا کہ پی ٹی آئی حکومت کاروباری برادری کیساتھ دوستانہ رویہ اپنائے گی اور وزیر خزانہ اسد عمر کو تمام تر معاشی معاملات میں وزیراعظم کا اعتماد حاصل ہو گا اور معیشت کے حوالے سے وہی اہم ترین شخص ہونگے۔ لیکن کاروباری برادری کے یہ تینوں اندازے غلط نکلے۔

سب سے پہلے تو کاروبار دوست انتظامیہ والا سپنا چکنا چور ہوا جب حکومت نے نیب کو بالکل بے لگام چھوڑ دیا اور اس نے ہر اس کمپنی کو ہراساں کیا جس نے بھی نواز شریف دور میں کوئی قابل ذکر ٹرانزیکشن کی تھی۔ اینگرو کا کیس اسکی واضح مثال ہے جس کے سی ای او عمران الحق کو نیب نے جیل میں ڈال دیا اور 49 دنوں تک حبس بے جا میں رکھا اور کمپنی کے شئیر ہولڈر حیسن دائود کو بھی شامل تفتیش کیا گیا۔ اسی طرح KSB Pumps Pakistan کے سی ای او محمد مسعود اختر کو نیب نے گرفتار کر لیا انہیں آٹھ ماہ تک حبس بیجا میں رکھا۔ گو کہ یہ کیس پی ٹی آئی کی حکومت آنے سے پہلے سے چلررہا تھا تاہم پی ٹی آئی حکومت آنے پر نیب کے تفتیشی افسران اور پراسیکیوٹرز کا اس کیس میں جوش و جذبہ مزید بڑھ گیا، نیب نے لاہور ہائیکورٹ میں یہ کیس ہار کر اپیلوں کا سلسلہ جاری رکھا، اسکے باوجود کچھ ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

نیب تحقیقات بھگتنے والے افسران نے بتایا کہ نیب نے تفتیش کیلئے جو حکمت عملی اپنائی وہ کسی طرح بھی وائٹ کالر کرائم کے زمرے میں نہیں آتی تھی بلکہ انہیں صرف اور صرف ہراساں کیا جا رہا تھا تاکہ مجرم ثابت کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ مل سکے۔

ایسے ہی ایک شخص نے بتایا: ’’لگتا تھا نیب کے تفتیشی افسران کو بالکل معلوم نہیں کہ کوئی کاروبار کیسے چلتا ہے، وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات ظاہر ہے کہ مشکل کام ہے، کیس بنانے کیلئے شواہد اکٹھے کرنے میں آپکو مہینوں لگ جاتے ہیں، اور آپکو علم ہونا چاہیے کہ آپ کیا کرنے جا رہے ہیں۔‘‘

اس شخص نے مزید کہا: ’’نیب کے تفتیشیوں کو ریونیو اور پرافٹ کا فرق ہی نہیں معلوم ہوتا خاص کر جب وہ ہمارے حکومت کیساتھ کنٹریکٹس کے حوالے سے پوچھ تاچھ کرتے ہیں تو وہ ریونیو کے اعدادوشمار کو ہی منافع بتاتے رہتے ہیں، وہ انٹرنل ریٹ آف ریٹرن، آپریٹنگ کاسٹ کاکچھ معلوم نہیں ہوتا، حتیٰ کہ انہیں یہ تک پتا نہیں ہوتا کہ ہمارے کنٹریکٹ غیر قانونی کیسے تھے۔‘‘

یہ حکمت عملی ایسے لوگوں کو ڈرانے کے لئے استعمال کی جاتی ہے جنہوں نے کبھی کوئی جیل نہیں دیکھی ہوتی اور امید کی جاتی ہے کہ وہ اعتراف جرم کرلیں گے۔ نیب تحقیقات بھگتنے والے ایک افسر نے بتایا: ’’جو لوگ تعاون کر رہے ہوں، ہر بلاوے پر حاضر ہوتے ہوں، نجی شعبے کے لوگ جن کے بھاگنے کا ڈر نہ ہوں اور جو کچھ آپ (نیب) پوچھیں وہ بلا چوں چراں کیے بتانے پر آمادہ ہوں تو پھر ایسے افراد کو گرفتار کیوں کیا جاتا ہے؟ صرف اس لیے کہ آپکو (نیب) شواہد ڈھونڈنے کا تردد نہ کرنا پڑے اوروہ خود ہی اعتراف جرم کر لیں؟‘‘

نیب کی کارروائیوں کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حکومت کیساتھ کام کرنے والی کم و بیش ہر انرجی کمپنی کے اعلیٰ افسران اپنی کمپنی کی ترقی کیلئے کچھ کرنے کے بجائے آدھا دن نیب کیلئے اپنے جوابات تیار کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ حکومت کی جانب سے نیب ترمیمی بل کی صورت میں اعلان کردہ حالیہ ریلیف ناجانے کیسا ہوگا۔

پی ٹی آئی حکومت کے ابتدائی دنوں میں لگتا تھا کہ سابق وزیر خزانہ اسد عمر شائد کاروباری برادری کی کچھ مدد کرنے کے قابل ہوں گے، کاروباری افراد کے ساتھ ملاقاتوں وہ یقینی طور انکا نکتہ نظر سمجھتے تھے، لیکن لگتا تھا کہ وہ اس سطح کام کبھی نہیں کر سکیں گے جس کی باتیں وہ خود اور وزیر اعظم عمران خان قوم سے کرتے رہے، اپریل 2019ء میں انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا اسکے ساتھ یہ خیال بھی دم توڑ گیا کہ وہ معاشی میدان کی کلیدی شخصیت تھے ۔

اسکے ساتھ ہی یہ خیال بھی ہوا ہو گیا کہ سول حکومت اور فوج ملکر کام کر رہے ہیں، پاکستانی بزنس کمیونٹی میں کوئی شخص بھی یہ یقین نہیں کرتا کہ حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ بنانا وزیراعظم عمران خان کا فیصلہ ہو گا، یہ بات بالکل واضح ہے کہ حفیظ شیخ کو یہ عہدہ انکے فوج کیساتھ گرم جوش تعلقات کی وجہ سے ملا ہے۔

حفیظ شیخ کی تعیناتی اچانک عمل میں آئی تاہم اس سے قبل بزنس کمیونٹی یہ مفروضہ عام تھا کہ سول حکومت کو بائی پاس کرکے براہ راست ملٹری قیادت سے بات کی جائے۔ لیکن جب پیسہ (ٹیکس وغیرہ) دینے کی بات آئی تو بزنس لیڈرز نے اندازہ لگانا شروع کیا کہ جسے وہ ’ہائی بریڈ رجیم‘ سمجھ رہے تھے وہ سول لباس میں دراصل فوجی حکومت ہی ہے۔

لیکن اس مفروضے کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ پورا سچ نہیں، کئی بزنس لیڈرز جنرل باجوہ سمیت فوجی قیادت کیساتھ اپنے تعلقات کی بناء پر جانے جاتے ہیں، انہوں نے ایک موقع پر نیب سے پیچھا چھڑانے کیلئے جنرل باجوہ سے مدد کی درخواست کی جو منظور ہوئی اور کئی ماہ کیلئے نیب کا دبائو ہٹ گیا۔

اینگرو کیس کی مثال لیں تو دسمبر 2018ء میں کمپنی کی انتظامیہ نے جنرل باجوہ کو تھر کول فیلڈز کا دورہ کرایا تھا جو منظر عام پر نہیں آنے دیا گیا، تاہم اس حوالے سے باوثق ذرائع نے پرافٹ کو بتایا کہ جنرل باجوہ نے اینگرو انتظامیہ کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی، اینگرو انتظامیہ سے واقفیت رکھنے والے ذرائع نے کم از کم اس یقین دہانی کا یہ مطلب لیا کہ وہ (جنرل باجوہ) اینگرو کے ایل این جی ٹرمینل سمیت توانائی منصوبوں پر جاری نیب انکوائری روکنے کیلئے حکومت سے درخواست کرینگے، یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ جنرل باجوہ کے اس دورے کے کیا دور رس نتائج نکلے۔

2019ء میں پورا سال بزنس لیڈرز جنرل باجوہ سے براہ راست مدد حاصل کرنے کیلئے مواقع تلاش کرتے رہے، اس کا ایک پہلو تب سامنے آیا جب گزشتہ سال جولائی میں حکومت نے نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل بنانے کا اعلان کیا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی شامل کیا گیا، ایک سول حکومت کے دور میں معاشی معاملات کے حوالے سے فیصلہ سازی میں یہ ایک قسم کا براہ راست کردار غیر معمولی بات تھی۔

بلومبرگ میں فصیح منگی کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2019 سے آرمی چیف اور بزنس لیڈرز کے مابین کم از کم تین ملاقاتیں ہو چکی ہیں، تیسری ملاقات راولپنڈی میں ہوئی جس کا میڈیا میں بھی خاصا چرچا رہا اور تاثر ایسا سامنے آیا گویا وزیراعظم کو کمزور کیا جا رہا ہو کیونکہ اس ملاقات میں کابینہ اور حکومت کے کچھ ارکان بھی شامل تھے جو وزیراعظم کی بجائے آرمی چیف کے لیے بات کرتے نظر آئے۔

ڈان کے خرم حسین کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات کے دوران کچھ بدمزگی بھی پیدا ہوئی اگرچہ آرمی چیف سے ملنے والے کاروباری افراد میں سے کچھ نے بڑی پھرتی سے اس تاثر کا ازالہ بھی کردیا۔

ان ملاقاتوں میں جہاں معاشی اصلاحات کی بات ہوئی وہیں نیب کے جارحانہ رویے پر بھی بحث ہوئی اور کاروباری افراد نے اصرا کیا کہ حکومت نیب آرڈینینس 1999ء کو منسوخ کرنے کا اپنا وعدہ پورا کرے جس کی وجہ سے نیب کو بے لگام اختیارات حاصل ہیں اور جو کسی کو بھی 90 دن تک حراست میں رکھ سکتا ہے۔

اگرچہ جنرل باجودہ نیب قانون کو مکمل ختم کرنے پرراضی نہیں ہوئے تاہم انہوں نے کم از کم نجی طور پر ایگزیکٹوز (کاروباری افراد) کیساتھ عہد کیا کہ نیب کی زیادتیاں رکوانے میں فوج مدد کریگی، جنرل باجوہ کی تجویز پر ہی حکومت نے ایک کمیٹی بنائی جس میں سرکاری حکام کیساتھ نجی شعبے سے بھی کچھ شخصیات کو شامل کیا گیا تاکہ کوئی ایسا لائحہ عمل تشکیل دیا جاسکے جس سے نیب کی بڑے بزنس مینوں کیساتھ روا رکھی جا رہی زیادتیوں کا ازالہ ہوسکے۔ تاہم یہ کمیٹی بے اختیار دکھائی دیتی ہے، ذرائع نے پرافٹ کو بتایا کہ نجی شعبے سے اس کمیٹی میں شامل کچھ افراد کو اپنی شمولیت کا علم میڈیا کے ذریعے ہوا اور وہ طریقہ کار سے اب بھی لاعلم ہیں۔

تاہم ان ملاقاتوں کے بعد بھی نیب کا رویہ جارحانہ رہا، حتیٰ کہ جو بزنس ٹائیکونز جنرل باجوہ کو ملے انہیں بھی نیب کی جانب سے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، ان ملاقاتوں کی خبر رکھنے والے ذرائع نے بتایا کہ بزنس ٹائیکونز یہ تاثر لیکر اٹھے تھے کہ آرمی چیف کو انکی پوزیشن سے ہمدردی ہے اور وہ مدد کرنے کیلئے ضرور مداخلت کرینگے۔ ان بزنس مینوں میں ملک ریاض سمیت ملک کے بڑے بڑے رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز کے علاوہ دیگر بھی شامل تھے۔

تھوڑی بہت حرکت ضرور ہوئی لیکن کیا یہ کافی ہے؟

ان سب اقدامات کا نتیجہ یہی نکلا کہ 27 دسمبر کو حکومت کی جانب سے نیب قانون میں کچھ ترامیم کا عندیہ دیا گیا جس سے مخصوص حد تک نیب کے اختیارات محدود ہو گئے، جیسا کہ نیب ان سرکاری افسران کیخلاف کارروائی نہیں کر سکے گا جن کیخلاف محکمانہ انکوائری پہلے سے جاری ہو گی، نجی سیکٹر کے حوالے سے بھی نیب کے اختیارات کم کر دئیے گئے ہیں اور یہ اس شعبے کے معاملات ایف بی آر، سکیورٹیز اینڈ ایکسسچیج کمیشن آف پاکستان اور بلڈنگ کنٹرول اٹھارٹیز دیکھا کریں گی۔

نیب میں مذکورہ اصلاحات کو اگر کامیابی سے ہمکنار کردیا جائے تو ہوسکتا ہے کاروباری برادری کا اعتماد بحال کرنے کیلئے یہی بات کافی ہو اور انہیں فوج سے مدد نہ مانگنی پڑے۔ تاہم یہ پہلی دفعہ بھی نہیں ہوا کہ حکومت نے نیب کے اختیارات کو محدود کیا ہو، ہوسکتا ہے آگے چل کر نیب کو اس سے بھی زیادہ اختیارات دے دیے جائیں۔

اگرچہ اب جنرل باجوہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے کاروباری ایلیٹ سے کو کرائی گئی یقین دہانیوں کو نبھایا اور نیب کے برے عناصر کو ٹھیک کردیا۔

بہر حال ایک سوال بلکہ اہم ترین سوال باقی ہے اور وہ یہ کہ: کیا جنرل باجوہ واقعی ہی حکومت کے انچارچ ہیں؟ یا پھر وہ بھی حکومت پر اثرورسوخ رکھنے والے دیگر بہت سے افراد میں سے ایک ہیں؟

لیکن اس سے مزید گھمبیر قسم کے سوالات جنم لیتے ہیں: اگر وزیراعظم، انکی کابینہ اور فوج بھی پاکستان کی معاشی پالیسی کے حوالے سے حتمی اختیارات نہیں رکھتی تو پھر اصل کرتا دھرتا کون ہے؟

ہم نے جن ذرائع سے بات چیت کی ان میں سے ہر ایک کے پاس لمبی چوڑی تھیوری تو موجود تھی لیکن کوئی خاص جواب نہیں تھا، سب سے عام جواب یہ کہ ہائبرڈ طرز حکومت کی وجہ سے ایک واضح چین آف کمانڈ کی عدم موجودگی میں نیب کے اختیارات کو چیک کرنے کیلئے کوئی شخص موجود نہیں۔ تاہم ، اس وضاحت میں بھی خلاء موجود ہے کہ جب نیب کسی کے خلاف کارروائی شروع کرتا ہے تو یہ نہیں بتاتا کہ اتنا عرصے اسے کس نے روکے رکھا۔

اس حوالے سے حکومت کی جانب سے بھی کوئی واضح جواب موجود نہیں، مسلم لیگ ن سمجھتی ہے کہ نیب کی کارروائیاں اتفاقیہ نہیں، پی ٹی آئی سیاسی مخالفین کیخلاف ان کاروباری افراد کے خلاف استعمال کر رہی ہیں جنہوں نے ماضی کی حکومتوں کے دوران بڑے معاہدے یا ادائیگیاں کیں۔

ہم کسی چیز کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہتے، پاکستان کی معاشی ایلیٹ کا فوج پر اعتماد متزلزل ہوا تھا بالکل ختم نہیں ہوا تھا، اور پھر گزشتہ ہفتے میں جو معاملات طے (نیب ترمیم وغیرہ) ہوئے اور معاشی ایلیٹ کے مطالبات پورے ہوتے نظر آئے تو لگتا ہے کہ وہ اعتماد بحال ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔

فوج اب بھی مقبول ترین ادارہ ہے، لیکن ہائبرڈ انتظامیہ کی جانب سے کچھ تحفظات دور کرنے میں ناکامی کی وجہ سے بزنس کمیونٹی میں یہ تاثر ابھرا کہ وہ معاشی معاملات کے حوالے سے کس پر اعتماد کریں۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ یہ معاشی ایلیٹ کلاس جمہوریت اور قانونی کی حکمرانی کو اپنے تحفظ کا ضامن سمجھے؟ کسے پتا۔ لیکن امید تو کی جاسکتی ہے۔

رپورٹ: فاروق ترمذی

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here