پی ٹی سی ایل اور امارات کی نادہندہ کمپنی اتصلات کا معاملہ

256

متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کام کی بڑی کمپنی اتصلات نے پاکستانی حکومت کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی جانب واجب الادا 800 ملین ڈالر کی ادائیگی کا ابتدائی پروپوزل جمع کروا دیا ہے۔
18 جون 2005ء کو اتصلات نے پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص 2.598 بلین ڈالرز میں خریدے جبکہ حکومت کے پی ٹی سی ایل میں حصص 62 فیصد ہیں۔

جمعرات کے روز اتصلات نے وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں باقی ادائیگیوں کیلئے پروپوزل پیش کیا۔ اس موقع پر ٹیکنالوجی کے وزیر خالد مقبول صدیقی بھی موجود تھے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران سیکرٹری نجکاری رضوان ملک نے اس پروپوزل کی تفصیلات کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس فریم ورک پر نجکاری کمیشن اور امور خزانہ اور ٹیکنالوجی کی وزارتوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
بقایا جات کی ادائیگی کیلئے اتصلات نے پورے 12 سال بعد بات چیت کی ہے۔ ادائیگیوں میں تاخیر کی وجہ قانونی پیچیدگیوں کے باعث پی ٹی سی ایل کے اثاثہ جات کی عدم منتقلی ہے۔
رضوان ملک کا کہنا تھا ’’مسئلہ صرف اثاثہ جات کی عدم منتقلی کا نہیں بلکہ ادائیگیوں کے اس فریم ورک میں بہت سے ایسے نکات ہیں جن پر غور کرنا ابھی باقی ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ رواں ماہ کے آخر تک مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔
جمعرات کے روز ہونے والی ملاقات کے دوران حفیظ شیخ نے وفاقی سیکرٹریز برائے خزانہ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نجکاری کمیشن سے درخواست کی کہ ماہ جنوری کے اختتام سے قبل بقایا جات کی ادائیگیوں کیلئے حتمی پروپوزل پیش کریں۔
حفیظ شیخ کا کہنا تھا ’’طویل مدتی کاروباری اور ملکی مفاد کے پیش نظر ہم اس مسئلہ کو حل کرنا چاہتے ہیں جو گزشتہ 10 سالوں سے قوم کو درپیش ہیں۔‘‘

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here