سرمایہ کاری پر تحفظ فراہم کرنے والی پاکستان کی چھٹی بڑی انشورنس کمپنی ٹی پی ایل انشورنس غیر ملکی سرمایہ کاروں سے ایک ارب روپے کی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں تقریبا کامیاب ہو گیا ہے۔ 26 نومبر کو ایک تجزیاتی بریفنگ کے دوران ٹی پی ایل کی انتظامیہ نے کہا کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری سے یہ کمپنی اپنے کام کا دائرہ کار وسیع کرنے اور اس کی ترقی کیلئے اہم حکمت عملیوں کے آغاز جیسے اقدامات بخوبی کر سکتی ہے۔
سیکیورٹی بروکریج فرم اور انویسٹمنٹ بینک نیکسٹ کیپیٹل کے تجزیہ کاروں نے بریفنگ کے کچھ دیر بعد کلائنٹس کو دیئے گئے نوٹ میں لکھا ’’انتظامیہ نے ٹرانزیکشن کے دورانیہ پر وضاحت کرنے سے گریز کیا ہے لیکن انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ اب یہ کام اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔‘‘
انتظامیہ کے مطابق یہ سرمایہ کاری کمپنی کا لگ بھگ 25 فیصد حصہ ہو گی۔
ٹی پی ایل کا شمار پاکستان کی قدرے چھوٹی انشورنس کمپنیوں میں ہوتا ہے اور شاید اپنے سے بڑے حریفوں کے مقابلے میں یہ زیادہ پرانی بھی نہ ہو۔ یہ کمپنی ٹی پی ایل کارپوریشن کی ایک ذیلی کمپنی ہے۔ ٹی پی ایل کارپوریشن زیادہ تر چوری اور ڈکیتی سے بچانے کیلئے گاڑیوں میں ٹریکر نصب کرنے والی کمپنی ٹی پی ایل ٹریکر کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔
اپنے آغاز سے اب تک یہ انشورنس کمپنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ مارکیٹ کی دوسری نان لائف انشورنس کمپنیوں کی نسبت چھوٹے پیمانے پر ہونے کے باوجود ٹی پی ایل انشورنس 30 ہزار سے زائد صارفین کے ساتھ پاکستان میں گاڑیوں کی انشورنس میں تیسرے نمبر ہے۔
ٹی پی ایل پاکستان میں نان لائف انشورنس کے کاروبار میں جدت کی حامل ہے اور کمپنی کی انتظامیہ مقامی معیار کے مطابق مسابقتی برتری کیلئے ٹیکنالوجی کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔
نان لائف انشورنس ہماری مجموعی قومی پیداوار کا 0.3 فیصد ہے۔ اس کے مقابلے میں ایشیا اور لاطینی امریکہ میں یہ شرح 1.6 فیصد تک ہے جبکہ شمالی امریکہ میں 6.8 فیصد اور یورپ میں یہ شرح 3.3 فیصد ہے۔
ٹی پی ایل نان لائف انشورنس کی مختصر مارکیٹ میں کافی مضبوط امیدوار ہے۔ مجموعی نان لائف انشورنس کا تقریبا 39 فیصد آگ سے متاثرہ اکاؤنٹس جبکہ آٹو انشورنس تقریبا 20 فیصد ہے۔
پاکستان میں گاڑیوں کی انشورنس کی صنعت ابھی اتنی وسیع نہیں ہے۔ پاکستان کے ادارہ برائے شماریات کے مطابق ملک میں تقریبا 1 کروڑ 73 لاکھ گاڑیاں موجود ہیں۔ جن میں سے محض 6 لاکھ 50 ہزار گاڑیوں کی انشورنس کی گئی ہے۔
قانون کے تحت گاڑیوں کے حادثہ پر کم از انشورنس 2 لاکھ روپے ہونے کے باوجود انشورنس کے میدان میں یہ کمی حیران کن ہے۔ زیادہ حیران کن امر یہ ہے کہ 1939ء کا موٹر وہیکل ایکٹ پاکستان بننے سے بھی پہلے کا ہے۔ ٹی پی ایل کی انتظامیہ انشورنس کی رقم کو بڑھا کر 2 لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔ اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں کہ حکومت اس تبدیلی کا اطلاق کب کرتی ہے۔
گزشتہ سال کی نسبت 2019ء کی تیسری سہ ماہی میں ٹی پی ایل انشورنس کے نیٹ پریمیئم ریونیو میں صرف 0.4 فیصد کا اضافہ ہوا۔ کمپنی کی انتظامیہ کا ماننا ہے مشکل حالات میں یہ معمولی اضافہ بھی کمپنی کی کامیابی ہے۔ 2019ء کے ابتدائی نو ماہ میں نیٹ پریمیم ریونیو میں گزشتہ سال کی نسبت تقریبا 9.9 فیصد کمی واقع ہوئی۔
روپے کی قدر میں گراوٹ کی وجہ سے نئی گاڑیوں کی فروخت میں بھی نمایاں کمی ہوئی جو نئی پالیسیوں کے تحت اس کمپنی کی ڈسٹری بیوشن کی سب سے بڑی حصہ دار تھی۔ ٹی پی ایل انشورنس میں نئے صارفین کی شرح تقریبا 70 فیصد ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ پریمیئم ریونیو میں خسارے سے بچنے کیلئے کمپنی کو ہر سال نئے صارفین درکار ہیں۔
پاکستان کی انشورنس انڈسٹری میں ٹی پی ایل کی سب سے بڑی جدت اس کی تیار کردہ ایپلی کیشن ہے جو نہ صرف صارفین کو پالیسی کی خرید، اسے ٹریک کرنے اور پریمئیم ادا کرنے کے علاوہ گاڑی استعمال کرنے والے کے انداز کو بھی ٹریک کرتی ہے اور انفرادی طور پر صارف کی لوکیشن اور دیگر عناصر کا جائزہ لیتے ہوئے رسک کا تعین کرتی ہے۔ اس ایپلی کیشن میں ٹیلی میٹرکس انشورنس کے ذریعے کمپنی مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے ہر ڈرائیور کے رسک عناصر کا تعین کرتی ہے۔
دیگر انشورنس کمپنیوں کے برعکس ٹی پی ایل کے صارفین اپنی معلومات کو بھی ٹریک کر سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ کمپنی نے ان کے رسک عناصر کے بڑھنے اور گھٹنے کا کیسے تعین کیا ہے۔
انشورنس کی بڑی کمپنیاں انسٹیٹیوشنل مارکیٹنگ کو اپنے کاروبار کے مرکز کے طور پر استعمال کرتی ہے اور ان کے صارفین میں ایسی کمپنیاں شامل ہیں جو اپنے ملازمین کو گاڑیاں فراہم کرتی ہیں جبکہ ٹی پی ایل انشورنس کا ہدف ریٹیل بزنس ہے جس میں وہ کمپنیوں کی بجائے انفرادی کار صارفین پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔
ریٹیل مارکیٹ میں مزید جگہ بناتے ہوئے اس کمپنی نے متعدد ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے ساتھ ایک نئے عہد کا آغاز کیا ہے جس سے لوگ اپنے پریمئیم عام دکانوں پر ملنے والے سکریچ کارڈز اور موبائل کے ذریعے ادا کر سکتے ہیں۔
گاڑیوں کی انشورنس کے ساتھ ساتھ یہ کمپنی زرعی انشورنس کے میدان میں بھی اپنا دائرہ کار وسیع کر رہی ہے جہاں فصلوں اور مویشیوں کی بھی انشورنس کی جا سکے گی۔ یہ انشورنس بڑے بینک فراہم کر ہے جس سے دیگر خودمختار انشورنس کمپنیوں کی نسبت ٹی پی ایل کے ساتھ کسانوں کا رشتہ مزید بہتر ہو گا۔ فی الحال زرعی انشورنس کے کاروبار سے یہ کمپنی منافع نہیں کما رہی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here