کیا پاکستان میں ای کامرس کا شعبہ دم توڑ رہا ہے؟

1856

پاکستان میں ای کامرس کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، اعدادوشمار کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 2017ء میں پاکستان میں ای کامرس سیلز 20.7 ارب روپے تھیں وہ 2018ء میں 93.7 فیصد بڑھ کر 40.1 ارب روپے ہو گئیں۔ سیلز میں اس اضافے کی وجہ زیادہ لوگوں کی انٹرنیٹ تک رسائی بھی ہے۔ مارچ 2019 تک پاکستان میں موبائل فون صارفین کی تعداد 159 ملین ہو چکی ہے۔ جن میں سے 66 ملین تھری جی اور فورجی استعمال کرتے ہیں جبکہ 68 ملین براڈ بینڈ سبسکرائبرز ہیں۔

ان اعدادوشمار کو دیکھ کر ایک حوصلہ افزاء تصویر سامنے آتی ہے، لیکن اگر آپ ای کامرس بزنس کی حالت یا پاکستان میں ای کامرس ’سٹارٹ اپ‘ کی بات کریں تو یہ تصویر ذرا دھندلی پڑ جاتی ہے۔

آن لائن قیمتوں کا موازنہ کرنے والے پلیٹ فارم ’’PriceOye‘‘ کی’’2019ء این پی ایس سٹڈی فار لوکل ای کامرس‘‘ کے عنوان سے ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں آن لائن شاپنگ کرتے ہوئے کسٹمرز کو کافی تحفظات ہوتے ہیں، اس تحقیق کے دوران پاکستان میں ای کامرس کے منظر نامے کو سمجھنے کیلئے نیٹ پروموٹر سکور (NPS) کو بطور پیرامیٹر استعمال کیا گیا ہے۔

این پی ایس ایک ایسا انڈیکس ہے جو کسٹمرز کی پسندیدگی کا اندازہ لگا کر برانڈز تجویز کرتا ہے، سروے کے دوران کسٹمرز سے ایک سوال پوچھا جاتا ہے، کہ وہ 11 نکاتی پیمانے سے ریٹ کریں کہ وہ کسی دوسرے کو ایک کمپنی یا برانڈ کے بارے میں کیسے بتائیں گے۔ کسٹمرز کے سکورز کی بنیاد پر جواب دینے والوں کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا ہے: روکنے والے (detractors)، غیر متحرک (passives) اور ترقی دینے والے (promotors)۔

Detractors، جو کہ زیرو سے چھ تک سکور دیتے ہیں، کمپنی کی پروڈکٹس سے خوش نہی ہوتے اور زیادہ تر کمپنی کی شہرت کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ Passives، (جو سات سے آٹھ سکور دیتے ہیں) عام طور پر غیر جانبدار رہتے ہیں اور منفی سفارش نہیں کرتے اورکم ہی ایسا ہوتا ہے کہ کسی کو کمپنی کے بارے میں بتائیں۔ Promotors جو کہ نو یا دس کا سکور دیتے ہیں کسی بزنس کیلئے خزانے سے کم نہیں، وہ ہمیشہ اپنے پسندیدہ برانڈ یا کمپنی کے بارے میں دوسروں کو آگاہ کرنے کیلئے پرجوش رہتے ہیں۔

PriceOye نے Daraz، Goto، Mega اور HumMart سے متعلق این پی ایس سروے کرکے آن لائن بزنس کے بارے میں کسٹمرز کے خیالات جاننے کی کوشش کی Quantitative analysis کے علاوہ اس طرح کے سوال بھی پوچھے گئے کہ Quantitative analysis کیلئے کسٹمر نے ایک خاص سکور کا انتخاب کیوں کیا؟

پرائس اوئے کے شریک بانی اور سی ای او عدنان شفیع نے بتایا کہ ’’ہم نے نوٹ کیا ہے کہ کسٹمرز کے ای کامرس کے بارے میں خیالات اور کمپنیوں کے کسٹمرز کے بارے میں خیالات میں کافی خلاء موجود ہے، ہمارے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ لوگ آن لائن شاپنگ کو ترجیح نہیں دیتے، ہم نے یہی جاننے کیلئے تحقیق کی ہے کہ لوگوں کے ای کامرس کے بارے میں کیا تحفظات ہیں۔‘‘

تحقیق کےنتائج حیران کن تھے، پاکستان میں ایک کامرس کی سب سے بڑی کمپنی دراز کا این پی ایس سکور منفی 27 تھا جس کا مطلب ہے کہ detractors کی تعداد promotors  سے زیادہ تھی، غلط چیزیں موصول ہونے کے علاوہ انہوں نے سب سے زیادہ خدشات پروڈکٹ کے معیار کے بارے میں ظاہر کیے، جبکہ Daraz کے پروموٹرز کی نظر میں ڈلیوری ٹائم بہترین ہے۔

بھارت میں Daraz کی حریف کمپنیوں کیستاھ موازنہ کریں تو 2016 کی ایک تحقیق کے مطابق Flipkart  کا سکور 97، ایمازون کا 95 اور Paytm کا 75 تھا۔

آن لائن کمپنی Goto کا این پی ایس سکور منفی 6.7 ہے جو Daraz  سے قدرے بہتر ہے لیکن یہ بھی نیگیٹو ہی ہے، Detractors کے مطابق قیمتوں کی درستگی اس پلیٹ فارم کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جبکہ promotors چیزوں کے معیار سے خوش ہیں۔

Mega.pk کا این پی ایس سکور 10 ہے جبکہ ہم مارٹ کا سکور 14 ہے، Shophive کا این پی ایس سکور 16 جبکہ ishopping.pk کا سکور 20 ہے۔

آن لائن مارکیٹ  جو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے کیلئے پرائس اوئے نے سات اندسٹریز سے متعلق سروے کیا جن کی پرڈکٹس آن لائن زیادہ فروخت کی جاتی ہیں۔

جوتوں کی آن لائن خریدوفروخت سب سے زیادہ ہوتی ہے، تاہم اس اندسٹری کا این پی ایس سکور منفی 30 رہا، پاکستان میں یہ ابھرتا ہوا رجحان ہے لیکن جنہوں نے آئن لائن جوتے خریدے وہ زیادہ تر detractors تھے جو مزید کسی کسٹمر کو آن لائن شاپنگ کے بارے میں سفارش نہیں کرتے۔

اسی طرح رائیڈ سروس کا این پی ایس سکور منفی 27 رہا، یہاں بھی detractors  کی تعداد promotors سے زیادہ رہی اور انہوں نے تحفظ اور ڈرائیورز کی پیشہ ورانہ صلاحتیوں کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا۔

فوڈ انڈسٹری کا این پی ایس سکور منفی 10 رہا، detractors کو ڈلیوری ٹائم کیساتھ یہ بھی تحفظات رہے کہ ان کا نقصان پورا نہیں جاتا۔

کلاسیفائیڈ اندسٹری کا این پی ایس سکور منفی 9 رہا۔

اچھی کوالٹی کی وجہ سے آن لائن فیشن انڈسٹری کا این پی ایس سکور 45، میک اپ اندسٹری کا سکور 60 رہا۔ قابل اعتماد ہونے کی وجہ سے آن لائن ٹکٹنگ انڈسٹری کا سکور 47 رہا، گوکہ detractors نے یہ اعتراضات اٹھائے کہ ٹکٹنگ انڈسٹری میں ادائیگی اور نقصان کی بھرائی کیلئے بہت کم سہولتیں موجود ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here