کیا پاکستان میں ابوظہبی گروپ کا اختتام ہو رہا ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟

1671

اگر آپ کو لاہور میں کسی ایلیٹ ایریا میں رہنے کا موقع ملے تو آپ کونسے علاقہ میں رہنا چاہیں گے؟ ہوسکتا ہے آپکو ڈیفنس پسند ہو لیکن وہاں  پیسے کی ریل پیل آپکو اچھی نہ لگے، آپکو ماڈل ٹائون یا گلبرگ پسند ہو لیکن شوروغل اور کشادگی اچھی نہ لگے اور شاہ جمال کا علاقہ تو ویسے ہی صفائی کے لحاظ سے گیا گزرا ہے۔

تو ایسی صورت میں اگر آپ پاکستان آئیں تو کہاں گھر بنانا چاہیں گے؟ یقیناََ آپکا جواب ہوگا ’’کنٹونمنٹ‘‘۔ جو کہ لاہور کی ایلیٹ کلاس کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

یہ کہانی بھی کینٹ کے دو گھروں کے گرد گھومتی ہے، ان گھروں میں بشیر طاہر اور عدیل باجوہ رہتے ہیں، دونوں شخصیات میں جتنی قدریں مشترک ہیں اتنی ہی متضاد بھی ہیں۔ دونوں اقبال ٹائون میں رہتے تھے، دونوں نے کاروبار میں خوب ترقی کی اور بعد ازاں کینٹ میں رہائش اختیار کی ۔ دونوں نے کاروبار میں نقصان بھی اٹھایا، اب دونوں ہی قبل از ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پراپرٹی کے ایک تنازعے میں دونوں ایک دوسرے کے حریف ہیں، دونوں ہی کا ایک شخص سے تعلق رہا ہے اور وہ شخص ہے شیخ نہییان بن مبارک النہییان۔

شیخ نہییان، اگر آپ نے پہلے انکے بارے میں نہیں سنا تو جان لیں کہ متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کے اہم فرد اور ملک کے موجودہ ’’وزیر برائے بردباری‘‘ ہیں۔ انکی کامیابی کا سفر  1980 میں شروع ہوا۔ شیخ النہیان نے آکسفرڈ یونیورسٹی کے میگڈیلن کالج (Magdalen College) سے تعلیم حاصل کی، یہ وہی کالج ہے جہاں سے ایرون شروڈنگر، آسکر وائلڈ اور انگلینڈ کے کنگ ایڈورڈ ہشتم فارغ التحصیل ہیں۔ بزنس میں دلچسپی کی وجہ سے النہییان نے ابوظہبی گروپ کی بنیاد رکھی جس کا مقصد دنیا کے مختلف حصوں میں سرمایہ کاری کرنا تھا اور اس گروپ نے پاکستان میں بھی خاطر خواہ سرمایہ کاری کی۔

ابو ظہبی گروپ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنےوالے بڑے گروپس میں سے ایک ہے، گو کہ یہ گروپ افریقہ اور وسطی ایشیاء میں بھی سرمایہ کاری کر رہا تھا لیکن پاکستان شیخ النہیان کی پلے گرائونڈ اورسرمایہ کاری کیلئے سب سے اہم مرکز بن گیا، یہ گروپ بینک الفلاح (پاکستان میں ساتواں بڑا بینک) میں بڑی تعداد میں حصص کا مالک ہے، ٹیلی کام کمپنیوں وطین اور جاز کے علاوہ  پاکستان کے تیسرے بڑے یونائٹڈ بینک میں بھی حصہ دار ہے اور کروڑوں ڈالرز کے رئیل اسٹیٹ پروجیکٹس کا مالک بھی ہے۔

شیخ النہییان نے دو پاکستانیوں کو مختلف اوقات میں گروپ کا چیف ایگزیکٹو مقرر کیا، ان میں سے پہلے بشیر طاہر تھے اور بعد میں ان کے بھائی پرویز شاہد بھی گروپ کے چیف ایگزیکٹو رہے، کئی سال دونوں بھائیوں نے گروپ پر راج کیا لیکن 2011 میں انہیں پراسرار طور پر گروپ سے نکال باہر کیا گیا اور آئندہ پانچ سالوں کے لیے شیخ نے ابوظہبی گروپ کے معاملات چلانے کیلئے چار یورپی شہریوں کا ایک بورڈ مقرر کیا لیکن ان کیساتھ بھی کام نہ چل سکا تو 2016 میں پورے بورڈ کو ختم کردیا گیا۔

اگلے پاکستانی جنہیں شیخ النہیان نے اہم ترین عہدہ سونپا وہ عدیل باجوہ تھے جو پہلے وکیل اور بعد ازاں بینکر بن گئے، 2016 میں ابوظہبی گروپ کے گورا بورڈ کی برطرفی کے بعد باجوہ نے بطور سی ای او ذمہ داریاں سنبھالیں، کم و بیش تین سال کام کرنے کے بعد مارچ 2019 میں انہوں نے بھی ’استعفٰی‘ دیدیا، ان کی جگہ کولمبیا اور ایم آئی ٹی کی گریجوایٹ اور سابق منجمنٹ کنسلٹنٹ ڈومینیک لیانا روسو (Dominique Liana Russo) نے ذمہ داریاں سنبھالیں۔

شیخ کے دو سابق پسندیدہ افراد گو کہ شیخ اور گروپ کے بارے میں کافی کچھ کہہ سکتے ہیں تاہم دونوں منہ کھولنےسے ہچکچا رہے ہیں۔

بشیر طاہر ۔۔۔ سابق سی ای او ابوظہبی گروپ

’’منافع‘‘ کے ساتھ انٹرویو میں بشیر طاہر نے اورعدل باجوہ کے قریبی افراد نے پولیس مقدمات، کرپشن اور دھمکیوں سے متعلق ایک تمیز دار خاموشی برقرار رکھی، لیکن اس خاموشی کے پیچھے بہت کچھ چھپا ہے، دوسری جانب شیخ ہر طرح کی افواہ پر یقین کر لیتے ہیں، بشیر طاہر اور عدیل باجوہ تو ان کے معتمد خاص رہے ہیں، دونوں شیخ کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے رہے، دونوں کی ایک دوسرے سے مخاصمت بھی ڈھکی چھپی نہیں۔ اس سب کا اثر ابوظہبی گروپ پر بھی پڑا ہے۔

اب جبکہ گروپ پاکستان سے جاتا دکھائی دے رہا ہے تو ہو سکتا ہے یہ اپنی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی نکال لے جائے۔ پنجاب حکومت پہلے ہی انہیں روکنے کی کوشش کر چکی ہے لیکن کیا شیخ پاکستان میں مزید ٹھہریں گے؟ شیخ اپنے گروپ کی ناکامی میں خود کتنے ذمہ دار ہیں؟ ان سب باتوں کا جائزہ لینے کیلئے ہمیں بالکل ابتداء سے شروع کرنا ہوگا۔

ناکامی کے بعد دوبارہ کامیابی:

بشیر طاہر 1970 سے بینکنگ سیکٹر سے وابستہ چلے آرہے تھے، انہوں نے 1991 کے لگ بھک بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل (بی سی سی آئی) کو اس وقت خیر باد کہا جب وہ بالکل زوال پذیر تھا۔ اسی سال وہ بینک کے کچھ دیگر اعلٰی عہدیداروں کے ہمراہ تین سال کیلئے گرفتار بھی ہوئے۔ لیکن ان کا اماراتی شاہی خاندان سے رابطہ 1980میں ہوا تھا۔ وہ پہلی بار نہییان خاندان میں سے مبارک بن محمد النہییان سے ملے تھے، جو اس وقت یو اے ای کے وزیر داخلہ اور ہماری اس کہانی کے مرکزی کردار کے والد تھے۔ لندن میں ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں شیخ مبارک کی موت کے بعد ان کے بیٹے نہییان بن مبارک نے والد کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور یہی وہ وقت تھا جب بشیر طاہر کے شیخ نہییان کے ساتھ تعلقات قائم ہوئے۔

اس وقت بی سی سی آئی کی دو برانچیں یو اے ای میں کام رہی تھیں آغا حسن عابدی نے بی سی سی آئی کی طرز کا بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس ایمریٹس (بی سی سی ای) قائم کرنے کا فیصلہ کیا، اور اس کے جنرل مینجر کے عہدے کیلئے انکی نظرانتخاب بشیر طاہر پر پڑی۔

اس نئے قائم ہونے والے بینک میں 40 فیصد حصص بی سی سی آئی کے تھے جبکہ دبئی اور ابوظہبی کی حکومتوں کے 10 فیصد حصص تھے باقی 40 فیصد مختلف افراد کے تھے۔ بشیر طاہر کے زیر انتظام اس بینک نے دس سال میں خاطر خواہ ترقی کی اور 1991 میں جب بی سی سی آئی خود دیوالیے کے قریب تھا تو بی سی سی ای کا نام بدل کر یونین نیشنل بینک رکھ دیا گیا اور بشیر طاہر اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیے گئے۔

لیکن 1983 میں بی سی سی ای قائم کرتے وقت حسن عابدی میں ایک اہم ترین فیصلہ کیا اور بشیر طاہر نے بھی ان کا ساتھ دیا، نیا بینک بنانے کیلئے اس کے چیئرمین کی ضرورت تھی تو بشیر طاہر نے فوراََ شیخ نہییان کا نام دیدیا، یہی سے دونوں کے مابین قریبی پیشہ ورانہ تعلقات کا آغاز ہوا۔

ابتداء:

وقت کیساتھ بی سی سی ای جو بعد میں یو این بی (یونین نیشنل بینک) بن گیا تھا وقت کیساتھ وہ بھی دیوالیہ ہو گیا، بشیر طاہر پہلے ہی بینک چھوڑ چکے تھے، انہیں قید ہوئی، رہا ہوئے اور اپنا وقت بیکاری میں کاٹ رہے تھے جب شیخ النہییان نے انہیں ابو ظہبی گروپ کا چیف ایگزیکٹو بننے کی دعوت دی۔

ابوظہبی گروپ ایک ایسے خاندان کا سرمایہ کار گروپ تھا جو اپنی انویسٹمنٹ آئوٹ لک میں کنزرویٹو تھا اور دنیا میں زیادہ جانا پہنچانا کاروباری خاندان بھی نہیں تھی لیکن یہ سب کچھ اس وقت بدل گیا جب اس خاندان نے ایک پاکستانی کو گروپ کا سی ای او بنایا۔ بشیر طاہر نے اس گروپ کو ان سیکٹرز میں سرمایہ کاری کرنے کے قابل بنا دیا جہاں دیگر انویسٹرز سرمایہ لگانے سے ڈرتے تھے، انہوں نے بینکنگ، ٹیلی کام اور رئیل اسٹیٹ پر زیادہ توجہ دی۔

’’منافع‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے بشیر طاہر نے کہا کہ گروپ کو ابھرتی ہوئی منڈیوں میں سرمایہ کاری سے متعلق خطرات کا اندازہ تھا اور بدعنوان حکام اور عوام سے متعلق بھی معلوم تھا، لیکن اس کے باوجود ہم نے ہر جگہ سرمایہ کاری کی۔

جیسا کہ بہت سارے لوگ سوچتے ہیں کہ بشیر طاہر پاکستان میں ہی ابوظہبی گروپ کے کرتا دھرتا نہیں تھے، وہ پورے گروپ کے کرتا دھرت ا تھے، شیخ النیہان افریقہ سمیت دنیا کے کسی بھی پسماندہ ملک میں سرمایہ کاری کیلئے جاتے تو بشیر طاہر ان کے ہمراہ رہتے۔ ’’لیکن بطور پاکستانی میرا دل فطری طور پر ہی اپنے ملک کی جانب کشش رکھتا تھا، شیخ النہییان کے والد نے کسی زمانے میں پاکستان کو اپنا دوسرا گھر کہا تھا اس لیے شیخ النہیان بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع میں گہری دلچسپی لیتے تھے۔‘‘

پرویز شاہد ۔۔۔ پاکستان میں ابوظہبی گروپ کے سابق کوآرڈینیٹر

اپنے ہی تخمینے کے مطابق بشیر طاہر 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان لے کر آئے، جبکہ پوری دنیا میں انہوں نے صرف 500 ملین ڈالرکی سرمایہ کاری کی۔ وہ خود دبئی میں بیٹھتے تھے اور ضرورت پڑنے پر شیخ کو مالیاتی اور سرمایہ کاری کے امورپر مشورہ دیتے تھے۔

اپنے عروج کے دور میں ابو ظیبہ گروپ نے عالمی سطح پر بینک الفلاح، یونائیٹڈ بینک، وارد ٹیلی کام (پاکستان، بنگلہ دیش، ریپبلک آف کانگو، یوگنڈہ، جارجیا)، وطین ٹیلی کام، کے او آر سٹینڈرڈ بینک (جارجیا) راسین ٹیکنالوجیز (Raseen Technologies) الرازی ہیلتھ کئیر کے علاوہ صنعتی، فارما سیوٹیکل سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی۔

لیکن یہ سب بینک الفلاح سے شروع ہوا، یہ مشکل وقت میں خرید گیا تھا لیکن بشیر طاہر نے اپنے بھائی پرویز شاہد کے ساتھ ملکر اسے پاکستان کے پانچ سرفہرست بینکوں میں شامل کردیا۔

توسیع کا دور:

بینک الفلاح دراصل بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل (بی سی سی آئی) کے دیوالیے کے بعد پاکستان میں اس کے رہ جانے والے ڈھانچے پر تعمیر ہوا، آغا حسن عابدی کے سکینڈل کے بعد حکومت نے پاکستان میں موجود بینک کی تینوں برانچیں خرید لیں جنہں 1997 میں بشیر طاہر کے مشورے پر شیخ النہییان نے خرید کر بینک الفلاح بنا دیا۔ 1999 میں مشرف اقتدار میں آئے تو شائد شیخ النہییان نے اپنی سرمایہ کاری کے بارے میں کچھ سوچ بچار کی ہو کیونکہ ملک میں عدم استحکام کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی لیکن یہ حالات بھی بشیر طاہر کی راہ کی رکاوٹ نہ بنے اور شائد ان کے سب سے اچھے دن بھی مشرف دور کے تھے۔

بینک الفلاح نے ترقی کا سفر جاری رکھا، اور ایک دن لاہور کے مشہور چیئرنگ کراس چوک پر پنجاب اسمبلی کے بالکل سامنے تاریخی شاہ دین منزل میں صدر پاکستان پرویز مشرف ن  ے بینک الفلاح کی سب سے بڑی برانچ کا افتتاح کیا۔ بشیر طاہر نے پنجاب میں پرویز الٰہی انتظامیہ سے بھی قریبی تعلقات استوار کر لئے۔

 2002 میں حکومت پاکستان نے یونائٹڈ بینک کی نجکاری کا فیصلہ کیا تو اسے خریدنے والے کنسورشیم میں ابوظہبی گروپ بھی شامل تھا۔ شیخ النہیان اس بینک کے چیئرمین جبکہ دونوں بھائی پاکستان کے بینکنگ سیکٹر کے مدارالمہام بن گئے۔

یہی وہ وقت تھا جب گروپ نے پاکستان میں بینکنگ کے علاوہ دیگر سیکٹرز میں سرمایہ کاری کا سوچا، جن میں سے سب سے اہم پروجیکٹ وطین اور وارد ٹیلی کام تھے جن میں سے وارد جاز میں ضم ہو چکا ہے اور وطین ٹیلی کام خسارے کا شکار ہے۔

عدیل باجوہ کی انٹری:

2004 میں عدیل باجوہ کی بشیر طاہر اور پرویز شاہد کیساتھ ملاقات اچانک ایک پرواز کے دوران ہوئی۔ عدیل باجوہ کو سلمان تاثیر (سابق گورنر پنجاب) نے 2 جی کی نیلامی میں حصہ لینے کیلئے بطور قانونی مشیر بھیجا تھا تاہم وہ ناکام لوٹ رہے تھے اور کافی مایوس تھے، ایسے میں بشیر طاہر نے انہیں ابو ظہبی گروپ میں ایک نوکری کی پیشکش کی جو انہوں نے بغیر سوچے فوری طور پر قبول کرلی۔ سلمان تاثیر بھی اپنی تمام تر کوشش کے باوجود انہیں نہ روک سکے اور انہوں نے وارد اور وطین ٹیلی کام کے قانونی مشیر کے طور پر کام شروع کردیا۔

ریگولیٹری کے حوالے سے دیکھا جائےتو ٹیلی کام خاصا پیچیدہ شعبہ ہے اور اس بزنس کیلئے اچھے قانونی مشیر ہونا ضروری ہیں، لائسنس کا حصول کافی مشکل ہوتا ہے اس کے علاوہ بے شمار جھنجھٹ ہیں تاہم عدیل باجوہ ابو ظہبی گروپ کیلئے بہتر آدمی ثابت ہوئے۔ 2005-6 میں جب بنگلہ دیش میں گروپ کے ٹیلی کام شعبے کو کچھ مشکلات کا سامنا درپیش ہوا تو مسئلے سے بنرد آزما ہونے کیلئے عدیل باجوہ کو ہی بھیجا گیا۔ ان کے ساتھ پرویز شاہد بھی تھے، دونوں نے 6 ماہ ڈھاکہ میں گزارے اور بالآخر مسئلہ حل کرکے لوٹے۔

آئندہ کے چند سالوں میں ناصرف گروپ نے خاصی ترقی کی بلکہ دونوں بھائیوں (بشیر طاہر اور پرویز شاہد) اور عدیل باجوہ نے بھی خوب ترقی کی گو کہ وہ ٹاپ پوزیشن پر نہیں تھے تاہم بتدریج وہ آگے بڑھ رہے تھے۔ بنگلہ دیش میں کامیابی سمیٹنے کے بعد انہیں افریقہ میں بھیجا گیا تاکہ وہ وہاں جا کر مختلف ٹیلی کام لائسنس حاصل کر سکیں، یوں وہ ٹیلی کام سیکٹر میں شیخ النہییان کے اہم ترین آدمی بن گئے جنہیں بیرون ملک اہم مشنز پر بھیجا جانے لگا۔

یوگنڈہ اور کانگو میں ٹیلی کام سیکٹر مقامی طاقتور افراد اور کمپنیوں کے ہاتھ میں ہے اور جب شیخ النہیان نے وہاں ٹیلی کام سیکٹر میں کام کرنے کی کوشش کی تو عدیل باجوہ کو بھیجا گیا لیکن وہاں جا کر ایک وقت میں ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہو گئے تھے۔ بعد ازاں انہیں Kor Standard Bank کی ایکوزیشن کیلئے جارجیا بھی بھیجا گیا۔ ایک انٹرویو میں ان کے کچھ قریبی لوگوں نے کام سے انکی لگن کے حوالے سے کافی تعریف کی اور بتایا کہ جارجیا میں باجوہ صرف ایک ہی رات میں بینک کی ایکوزیشن کا کام نمٹا کر واپس پلٹ آئے تھے۔ ان کا کام نظر آ رہا تھا اور یوں وہ گروپ کی مشینری کا اہم ترین پرزہ بن گئے۔

اسی دوران باجوہ دبئی منتقل ہو گئے اور پاکستان میں وارد اور وطین میں انکا کام محض قانونی مشیر کا رہ گیا، کچھ عرصہ تمام معاملات بالکل ٹھیک چلتے رہے۔ بشیر طاہر آگے بڑھ رہے تھے اور شیخ کا ان پر اعتماد بھی کافی ہو چکا تھا۔ 2006 میں انہوں نے شیخ کے اسی اعتماد اور پرویز الٰہی کیساتھ اپنے تعلقات کو پنجاب میں تعاون (Taavun) کے نام سے رئیل اسٹیٹ کا بڑا منصوبہ شروع کرنے کیلئے استعمال کیا۔ ابوظہبی گروپ لاہور کی فیروز پور روڈ پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے ایک بڑی عمارت بھی تعمیر کر رہا تھا، عدیل باجوہ نے بھی گروپ میں کسی قدر جگہ بنا لی تھی۔ لیکن چیزیں بڑی تیزی سے تبدیل ہونے لگیں اور بشیر طاہر اور پرویز شاہد عروج سے تنزل کی طرف آنے لگے، ان کی زرہ میں چھید بالآخر ظاہر ہونے لگے، 2008 میں مشرف دور ختم ہونے پر شیخ النہییان جیسے بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان میں دلچسپی نہ رہی، پنجاب میں شریف برسراقتدار آگئے تو چودھریوں کیساتھ ان کی سیاسی رقابت کی وجہ سے ابوظہبی گروپ پر بھی اثر پڑا۔ شہباز شریف انتظامیہ گو کہ پنجاب میں ابوظہبی گروپ کی سرمایہ کاری چاہتی تھی لیکن پرویز الٰہی کے قریبی لوگوں کو سزا دینے کی خواہش کی وجہ سے گروپ کے کافی پروجیکٹس کی سرکاری منظوری رک گئی، گروپ پاکستان میں ہیلتھ کئیر کے شعبے میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کرنا چاہتا تھا تاہم گلبرگ میں ایک ڈائیگناسٹک سینٹر بنانے کے علاوہ شیخ نے مزید سرمایہ کاری روک دی کیونکہ کچھ دیگر کھلاڑی بھی اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے لگے تھے۔ سندھ میں ایک شوگر مل میں بھی شیخ نے سرمایہ کاری بند کردی۔

اسی دوران وطین ٹیلی کام بھی لڑکھڑانے لگی اور شیخ نے اسے سہارا دینے کیلئے مزید رقم لگانا مناسب نہ سمجھا۔ یہ سرگوشیاں بھی سامنے آئیں کہ دونوں بھائیوں کے دور میں اور بعد ازاں سی ای او طارق ملک کے دور میں وطین ٹیلی کام انتظامی ابتری کی مثال بن گئی۔ ٹیلی کام راتوں رات تبدیل ہونے والا بزنس ہے، کامیابی اسی میں ہے سرمایہ کاری کرتے رہیں اور اس کا پھل ملنے کا انتظار کریں، لیکن اسی میں شیخ النہییان ناکام رہے، کیونکہ وہ وطین اور وارد میں مزید پیشہ لگانے پر راضی نہ تھے۔ اس سب کے باوجود دونوں بھائی سرمایہ کاری کرتے رہے اور نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ شیخ کی نظروں سے بھی گر گئے۔

کریش:

سنہ 2011 میں وارد اور وطین کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے ارکان بشیر اے طاہر اور پرویز اے شاہد نے دونوں کمپنیوں سے استععفیٰ دیدیا، گروپ چونکہ ٹیلی کام اور بینکنگ سیکٹرز میں اربوں کی سرمایہ کاری کرچکا تھا، جب استعفیٰ کی خبر سامنے آئی تو بشیر طاہر نے کہا کہ انہوں نے ذاتی وجوہات کی بناء پر استعفیٰ دیا ہے، تاہم سی ای او طارق ملک کے استعفیٰ کے بعد وطین میں کافی تبدیلیاں متوقع تھیں اس کے بعد شیخ نے نقصانات کا جائزہ کیلئے ایک شخص کو ابوظہبی سے بھیجا۔

شیخ اور دونوں بھائیوں میں آمنے سامنے آ چکے تھے۔ وطین میں مزید سرمایہ لگانے کی ضرورت تھی لیکن شیخ کو اس  سے کوئی دلچسپی نہ تھی، یوں کمپنی دن بدن خسارے کا شکار ہوتی گئی۔ صورتحال اس قدر خراب ہوئی کہ وطین کا اپنے ملازمین کو تنخواہیں دینا اور یوٹیلیٹی بلز ادا کرنا مشکل ہو گیا۔  ایسے میں دونوں بھائیوں پر  مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگے، یہ بھی افواہیں اڑیں کہ دونوں نے بینک الفلاح کی برانچوں کیلئے اپنے پراپرٹیز مہنگے داموں کرائے یا ٹھیکے پر دیں۔ آڈٹ اور ٹیکس کی عالمی فرم KPMG نے فرانزک آڈت بھی کیا۔ پرویز کے مطابق آڈٹ میں یہ واضح ہو گیا کہ دونوں بھائی کسی قسم کی غلط کاری میں ملوث نہ تھے لیکن چونکہ اس وضاحت کو پبلک نہیں کیا گیا تھا، دونوں بھائی بھی اسی زعم میں خاموش رہے کہ ایک زمانے میں انہوں نے اس گروپ پر حکمرانی کی ہے، اسلیے ان پر لگنے والے الزامات کے حوالے سے انڈسٹری میں باتیں ہوتی رہیں۔ پرویز شاہد نے کہا کہ ’’ہم ایک سو فیصد پاک صاف تھے، لیکن چونکہ کرپشن کا تاثر قائم ہو چکا تھا اس لیے ہمیں مکمل طور پر گروپ سے نکال دیا گیا۔‘‘

جب ان سے ڈائون فال سے متعلق پوچھا گیا تو پرویز شاہد نے بزنس سے متعلق فلسفیانہ گفتگو شروع کردی، انہوں نے کہا کہ ’’میں بڑی سرمایہ کاری پاکستان لیکر آیا، لیکن گروپ میں میرے سب سے بڑے دشمن بھی پاکستانی تھے، کوئی خاص شخص نہیں بلکہ بحیثیت قوم یہ خود کے بدترین دشمن ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’فرض کریں اگر شیخ کے سامنے میں آپکو برا بھلا کہنے لگتا تو آپ کو کیسا لگتا، آپکو یقیناََ برا لگتا اور حیرت ہوتی کہ میرا ہم وطن مجھے ایسا کیوں کہہ رہا ہے۔ میں یہ عام لوگوں سے متعلق نہیں بات کر رہا بلکہ کافی اہم عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں۔‘‘

بشیر طاہر نے کشھ لوگوں کے نام بھی بتائے تاہم آف دی ریکارڈ کہہ کر لکھنے پر پابندی لگا دی۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کی انہوں نے مدد کی وہی دھوکا باز نکلے اور شیخ کے سامنے الزامات لگائے اور کیرئیر ختم کردیا، سب سے برا تب ہوا جب شیخ نے بھی ایسے لوگوں پر یقین کرلیا۔ یہی چیز عام نظر آئی کہ شیخ تک جو بھی بات پہنچتی وہ اس پر یقین کرکے جلد بازی میں فیصلہ کرتے جو فائدے کی بجائے نقصان زیادہ کرتا جیسا کہ انہوں نے وطین میں مزید سرمایہ لگانے سے انکار کردیا۔

جب بشیر طاہر گروپ سے نکلے تو وہ انتہائی اہم عہدے پر فائز تھے، اس دوران یہ افواہیں بھی گرم رہیں کہ بینک کیلئے کوئی خریدار تلاش کیا جا رہا ہے، تاہم نئی ممکنہ انتظامیہ کو ڈر تھا کہ شائد سابق سی ای او نے کسی قسم انفارمیشن لیک کردی ہو یا مخالف گروپ کو کوئی مشورہ دے دیا ہو۔

’’شیخ النہیان نے مجھے فون پر کہا کہ میں گروپ کے بارے میں کسی سے  کچھ نہیں کہوں گا۔ اس پر میں نے جواب دیا کہ میں گروپ کے بارے میں جو بات کروں گا اچھی کروں گا۔‘‘ بشیر طاہر کے مطابق اس کے بعد شیخ نے انہیں اپنا مشیر مقرر کرنے کا عندیہ دیا جس پر انہوں نے بھی اثبات میں جواب دیا۔ ’’میں اب بھی شیخ کا مشیر ہوں۔‘‘ بشیر طاہر نے قہقہہ لگاتے ہوئے بتایا۔ ایسا شائد انہوں نے میرا منہ بند رکھنے کیلئے کیا ہے۔

اس دوران انہوں نے شیخ النہیان کیساتھ اپنی ناراضی کا بھی اظہار کیا، یہ کہتے ہوئے کہ شیخ کافی لمبے چوڑے بزنس کے مالک ہیں، شہرت بھی اچھی ہے لیکن دھوکا جلدی کھا جاتے ہیں، وہ اپنے لوگوں کے بارے میں باہر کے افراد سے افواہیں سن کر بڑی جلدی ان پر یقین کر لیتے ہیں،ظاہر ہے جب بڑے عہدے پر بیٹھے لوگ انہیں یہ چیزیں بتائیں گے تو انہیں یقین کرنا ہی پڑیگا۔ اسی وجہ سے انہوں نے گروپ کی انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔

عدیل باجوہ بھی کے بارے میں ہمارے ذرائع نے بتایا کہ ’’مسٹر باجوہ شیخ کی بہت عزت کرتے ہیں، وہ عاجز اور متاثر کن ہونے کیساتھ تیز طرار بھی ہیں، بزنس کو خوب سمجھتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’شیخ تو شیخ ہے، وہ کے بڑے ہیں، ان کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر اس چیز پر یقین کر لیتے ہیں جو دوسرے انہیں بتائیں اور اگر یہ باتیں کسی اعلیٰ عہدے دار کی جانب سے بتائی گئی ہوں تو پھر تو لازمی کان دھرتے ہیں۔‘‘

’’لیکن جتنا وہ آپ کو بتا رہے ہیں بات دراصل اس سے زیادہ ہے۔‘‘  اپنی اور دونوں بھائیوں کی عداوت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عدیل باجوہ نے کہا کہ ’’دراصل kpmg نے آڈٹ میں کافی کچھ نکالا تھا لیکن شیخ نے دونوں بھائیوں سے تعلق کی وجہ سے درگزر کیا۔‘‘

یہ دعویٰ غیر معمولی ہے جس کا مطلب ہے کہ اگر پرانے دوست کیلئے شیخ کا دل نرم نہ پڑتا تو بشیر طاہر کو ایک بار پھر جیل کی ہوا کھانا پڑتی۔

ظاہر ہے بہت سارے دیگر معاملات بھی تھے۔ دونوں بھائی گروپ کو پہنچنے والے مالی نقصان کو نہ روک سکے، ٹیلی کام سیکٹر کو نظر انداز کرکے بینکنگ سیکٹر میں سرمایہ لگاتے  رہے۔ دونوں کمپنیوں کیلئے اس وقت بھی مسائل پیدا ہوئے جب ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی نے اپنے رہائشیوں کیلئے انٹرنیٹ کی سہولت کیلئے وارد اور وطین کیساتھ ڈیل کی۔ لیکن عدیل باجوہ نے اہم بات کی جانب اشارہ کیا ہے کہ شیخ کو دونوں بھائیوں سے متعلق انفارمیشن تھی اسی لیے انہوں نے دونوں کو دوستانہ انداز میں جانے دیا۔

یہ دونوں بھائیوں کے عہد کا اختتام تھا اور عدیل باجوہ کا عروج بھی یہی سے شروع ہوا اور انہوں نے ٹاپ پر پہنچنے کیلئے اس موقع کو ضائع نہیں کیا۔

بھائیوں کے بعد کیا ہوا؟

دونوں بھائیوں کے بعد عدیل باجوہ نے عنان اقتدار سنبھال لی، وہ ٹیلی کام کے شعبے کو کافی سمجھتے تھے، اس وقت جب گروپ نے وطین اور وارد کو سمیٹنے کا ارادہ کرلیا تو عدیل باجوہ ہی تھے جنہیں گروپ وطین کے پیچیدہ معاملات اور قرضوں کو سمجھ سکے۔ ابھی تک وہ گروپ کے جنرل قونصل تھے۔ بشیر طاہر کی جگہ ایک شخص کو لگانے کی بجائے چار رکنی ایگزیکٹو بورڈ بٹھایا گیا، چاروں ارکان کے یورپ سے تعلق کی وجہ سے یہ ’گورا گروپ‘ کے نام سے مشہور گیا۔ یہ پاکستان مخالف پہلا ردعمل تھا جو شیخ نے گورا گروپ کی شکل میں دیا، انتظامییہ میں پاکستانی ارکان سے متعلق افواہوں سے تنگ آکر انہوں نے نیا رخ اختیار کرلیا۔

اسی دوران جنوری 2011 میں روزنامہ ڈان میں ایک خبر شائع ہوئی جس کی ہیڈلائن کچھ یوں تھی کہ ’’ابوظہبی گروپ پاکستان چھوڑ کر جانا چاہتا ہے۔‘‘

گروپ نے رخت سفر باندھا تو عدیل باجوہ افریقہ چلے گئے، وہاں گروپ نے بینک کے لائسنس کیلئے بشیر طاہر کے ذریعے اپلائی کر رکھا تھا لیکن بعد ازاں تمام منصوبوں منسوخ کرنا پڑے، ٹیلی کام بزنس سنگاپور کی کمپنیوں کو فروخت کردیا گیا۔ اس دوران باجوہ انضمام اور ایکوزیشن کے ماہر بن چکے تھے، شیخ کیلئے سب سے بڑا مسئلہ وطین اور وارد تھے، انہیں فروخت کرنے کیلئے بھی باجوہ کو ذمہ داری دی گئی۔

2014 میں پاکستان میں تھری جی اور فورجی کی نیلامی ہوئی تو وارد تھری جی کا لائسنس بھی حاصل نہ کرسکی، کیونکہ اس بار بھی شیخ نے پیسہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ تاہم باجوہ نے کسی طرح فور جی لائسنس حاصل کر لیا اور یوں وارد ایک بار پھر ایک مناسب اثاثہ بن گئی، یہ کمپنی جاز میں ضم ہو کر ناصرف 15 فیصد شئیر ہولڈر بن گئی بلکہ شیخ النہیان کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن بھی بن گئے۔ لیکن اس کامیاب انضمام کے کچھ ہی عرصہ بعد 2016 میں عدیل باجوہ کو فوری طور پر شیخ نے ملنے کیلئے بلایا۔

یہ کہانی کئی طرح سے بیان کی جاتی ہے لیکن سب سے عام تفصیل جو اس کے بارے میں بتائی جاتی ہے وہ ’گن روم‘ والی ہے۔ شیخ اپنے مہمانوں کا استقبال اپنے محل کے ایک کمرے میں کرتے ہیں جیسا کہ نام سے ظاہر ہے وہاں دیواروں کیساتھ نادر بندوقیں لٹکائی گئی ہیں، باجوہ جب وہاں جا رہے تھے تو شائد ان کے ذہن میں گروپ سے نکالے جانے کا خیال ہو لیکن انہیں ایک نوکری کی پیشکش ہوئی۔ شیخ ان کے کام سے خوش تھے خاص طور پر وارد کو اچھی قیمت پر فروخت کرکے انہوں نے شیخ کا دل جیت لیا تھا اور اب شیخ نے انہیں گروپ کے نئے سی ای او کا عہدہ پیش کیا اور عدیل باجوہ نے فوری پیشکش قبول کرلی۔

وکیل جب بینکر بنا:

اپنی نئی پوزیشن پر باجوہ کے سامنے کافی معاملات تھے، سب سے اہم معاملہ بینک الفلاح کا تھا، شیخ اس سے بھی چھٹکارا پانا چاہتے تھے، ’’گورا گروپ‘‘ کے عہد میں پہلے ہی اس بینک کے زیادہ تر شئیرز یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل) کو فروخت کرکے صرف پانچ فیصد رکھے گئے، شیخ کو بھی 11 سال بعد یو بی ایل کے چیئرمین کا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ تاہم عدیل باجوہ نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے بینک الفلاح کو گروپ کی چھتری تلے رکھنے پر اصرار کیا، لیکن اس عمل کے دوران انہیں انکا اپنا زوال شروع ہو گیا۔

اسی دوران بینک الفلاح میں پرویز شاہد کی جگہ عاطف باجوہ آ چکے تھے، وہ بینکنگ کا کافی تجربہ رکھتے تھے اور جب انہوں نے دیکھا کہ دبئی سے آکر ایک وکیل انہیں بتاتا کہ بینک کیسے چلانا ہے تو وہ کافی سبکی محسوس کرتے۔ عاطف باجوہ دبئی جا کر شیخ کو پریفنگ بھی دیتے تو عدیل باجوہ موجود رہتے اور انکے پوائنٹس نوٹ کرتے رہتے یوں عاطف باجوہ اپنی بے عزتی محسوس کرتے۔ بطور سی ای او بینک الفلاح عاطف باجوہ نے محسوس کیا کہ عدیل انہیں بینک نہیں چلانے دیں گے۔ دو طرفہ کشیدگی بڑھنے پر عاطف باجوہ نے شیخ کو الٹی میٹم دیا کہ وہ اس طرح کام جاری نہیں رکھیں گے، تاہم شیخ نے بھی عدیل باجوہ کی حمایت کی اور انہیں کہا کہ بینک کے معاملات چلانے کیلئے کسی نئے بندے کا انتظام کریں۔

بینک الفلاح کے نئے سی ای او کیلئے عدیل باجوہ کی نظر انتخاب نعمان انصاری پر پڑی جو فیصل بینک کیساتھ کام کر رہے تھے۔ یوں شیخ کی خواہشات کے مطابق بینک کو فروخت کرنے کے برعکس باجوہ نے اسی توسیع دینے کا فیصلہ کیا اور اس توسیعی منصوبے کا ایک حصہ تھا کہ فیصل بینک حاصل کیا جائے۔

انصاری باجوہ سے بھی زیادہ کفایت شعار واقع ہوئے وہ ناصرف بینک کے معاملات بڑی خوش اسلوبی سے چلا رہے تھے بلکہ چاہتے تھے کہ پنجاب میں جاری ابوظہبی گروپ کے رئیل اسٹیٹ پروجیکٹ بھی جلد از جلد مکمل ہو جائیں جن میں تعاون اور فیروز پور روڈ پر  پلازہ شامل تھے۔

تاہم دوسری جانب ان کے منصوبوں کے برعکس بینک الفلاح ہر سال نیچے جا رہا تھا، کہاں وہ پہلے چار بینکوں میں شامل تھا اور اب اپنی پانچویں پوزیشن بھی برقرار نہ رکھ سکا اور ساتویں نمبر تک چلا گیا، 20 مارچ 2019 کو عدیل باجوہ نے اعلان کیا کہ وہ کسی نئی بہتر اسائنمنٹ کے سلسلے میں ابوظہبی گروپ سے مستعفی ہو رہے ہیں۔

باجوہ کا استعفیٰ بھی دونوں بھائیوں (بشیر طاہر اور پرویز شاہد) کی طرح پراسرار تھا تاہم ان پر کسی قسم کی غلط کاری کا الزام نہیں لگا ناہی باجوہ نے شیخ النہیان یا ان کے گروپ کے بارے میں کبھی کوئی بات کی۔

تاہم جو کچھ ہم جانتے ہیں کہ اس ایگزٹ کی وجہ بینک الفلاح کی تنزلی نہ تھی، ابھی تک عدیل باجوہ یہی دعوٰی کرتے آئے تھے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے گروپ کو چھوڑا لیکن اب وہ کہتے ہیں کہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ انہیں کیوں برخاست کیا گیا۔ لیکن کسی نہ کسی طور اسکی وجہ مبینہ کرپشن ضرور تھی۔

کسی دور میں عدیل باجوہ گروپ کو وطین سے چھٹکارہ دلانا چاہتے تھے انہوں نے ایک امریکی فرم سے بات بھی چلائی، لیکن کہا جاتا ہے باجوہ تمام انتظامات کرنے کے بعد شیخ کی منظوری کیلئے ابوظہبی گئے تاہم شیخ تب تک افواہوں میں گھر چکے تھے کہ امریکی فرم جعلی ہے اور اس کے پیچھے خود باجوہ ہیں۔ لیکن تفصیلات اس سے مخلتف ہیں، جس کمپنی نے وطین کو خریدنا تھا وہ Elko Broadband تھی جس نے وطین کیساتھ ڈیل نہ ہونے بعد ورلڈ کال نامی کمپنی کو خریدا۔ شیخ کے شکوک و شبہات کی وجہ سے وطین کا ایک اچھا خریدار چلا گیا اور معلوم نہیں اگلا خریدار کب ملے۔

گوکہ گروپ یا شیخ کی جانب سے عدیل باجوہ پر کسی قسم کے الزامات نہیں لگائے گئے۔ تاہم ’’منافع‘‘ کو معلوم ہوا ہے کہ گروپ کی طرف سے ایک مخصوص اشاعتی ادارے کو رقم دی گئی کہ وہ وطین اور عدیل باجوہ کے بارے میں کچھ نہ چھاپے اور بات عوام میں نہ جائے۔

دوسری جانب عدیل باجوہ نے جس اسائنمنٹ کیلئے ابوظہبی گروپ چھوڑا تھا وہ ابھی تک انہیں نہیں ملی، بلکہ اس دوران بشیر طاہر اور شاہد پرویز کیساتھ ان کے کئی قسم کے مقدمے شروع ہو  چکے ہیں۔

عدیل باجوہ کے بعد ڈومینیک روسو گروپ کے معاملات چلا رہی ہیں، انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ جس فرم کو وطین بیچی جا رہی تھی اس فرم فرنٹ مین ایک سابق ملزم ہے، وطین کی فروخت کا عمل منسوخ کرنے کی وجہ سے ایلکو براڈبینڈ نے روسو پر مقدمہ بھی کردیا ہے، لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ انہیں کب تک شیخ کا اعتماد حاصل رہے گا، کیونکہ ماضی کی مثالیں انکے حق میں نہیں ہیں۔

اب کیا چل رہا ہے؟

رواں سال اپریل میں ڈومینیک روسو نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کرکے ابوظہبی گروپ کے پنجاب میں پروجیکٹس کے حوالے سے بات چیت کی، وزیر اعلیٰ کا پیغام واضح تھا کہ نیا پاکستان سرمایہ کاروں کیلئے کھلا ہے اور پنجاب میں بھی سرمایہ کاری کے کافی واقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ پبلک پرائیویٹ شراکت داری کو آگے بڑھانے کیلئے ایک جامع پالیسی اختیار کی گئی ہے اور حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت مہیا کریگی۔

گو کہ اب پنجاب میں مختلف حکومت ہے، ابوظہبی گروپ کی سی ای او بھی تبدیل ہو چکی ہیں، ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ مس روسو وزیر اعلیٰ بزدار کیساتھ اس طرح کے تعلقات نہ بنا پائیں جس طرح بشیر طاہر نے پرویز الٰہی کیساتھ قائم کر لیے تھے۔

کافی مخلتف چیزوں کے درمیان صرف ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے کہ پاکستان ابوظہبی گروپ اور اسکی سرمایہ کاری کو کھونا نہیں چاہتا۔ تاہم یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ گروپ پاکستان میں ٹھہرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ شیخ النہییان تو اپنے دو سابق سی ای اوز کے کارناموں کی وجہ سے شائد پاکستان سے کچھ جلدی ہی جانا چاہتے ہوں۔

سنہء 2019 میں عدیل باجوہ نے گروپ چھوڑا تو خدمات کے عوض انہیں شیخ نے لاہور کی ایم ایم روڈ پر ایک پلاٹ دیا، یہاں سے دونوں بھائیوں (بشیر طاہر اور پرویز شاہد) کی اس کہانی میں ایک بار پھر انٹری ہو گئی۔

ابوظہبی گروپ میں رہتے ہوئے بشیر طاہر نے بھی گروپ میں کچھ سرمایہ کاری کر رکھی تھی، ایک کمپنی Wincom (pvt) جو کہ وطین کے ٹاورز کی دیکھ بھال کی ذمہ دار تھی اس میں 80 فیصد شئیرز شیخ النہیان کے تھے اور 10 فیصد دونوں بھائیوں کے تھے۔ اس زمانے میں میں چینی کمپنی ہواوے کے زیادہ ریٹس کی وجہ سے اپنی کمپنی بنانے کا خیال پرویز شاہد کو آیا۔ یہ کمپنی چل نکلی اور 2011-12 میں اس کے اثاثے 2.5 ارب روپے کے تھے جب دونوں بھائی گروپ سے الگ ہوئے۔ پرویز شاہد کہتے ہیں کہ یہ کمپنی 50  ہزار روپے کے ایکویٹی کیپٹل سے قائم ہوئی تھی جو انہوں نے ادا کیے تھے۔ تاہم2011 سے دونوں بھائیوں کو اس کمپنی کے شئیرز میں سے کچھ بھی رقم ادا نہیں کی گئی۔

عدیل باجوہ کو دیا جانے والا پلاٹ بھی مذکورہ کمپنی کے اڑھائی ارب روپے کے اثاثوں میں شامل تھا۔ شیخ اپنے زیادہ شئیرز کی وجہ سے کچھ بھی کر سکتے تھے لیکن انہوں نے دونوں بھائیوں کے کم شئیرز کو بالکل نظر انداز کردیا۔

باجوہ پاکستان پہنچے تو انہوں نے معاملہ سلجھانے کیلئے دونوں بھائیوں سے رابطہ کیا، انہوں نے پراپرٹی پر اپنا دعوی کیا تو حسب توقع دونوں بھائیوں نے ان کے خلاف دعویٰ دائر کردیا۔ لیکن باجوہ کو اس بات کا خٰیال نہیں تھا کہ ان کے خلاف زمین پر قبضے کا کیس دائر ہو سکتا ہے۔ گو کہ ایف آئی آر میں دونوں بھائیوں کا نام شامل نہیں لیکن باجوہ کے قریبی احباب کہتے ہیں کہ مقدمے کے پیچھے وہی ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس دوران شیخ النہییان مکمل خاموش ہیں۔ باجوہ جس سے بھی ملتے ہیں وہ شیخ کے دستخط کردہ ڈاکومنٹس دکھاتے ہیں جو اس زمین کی ملکیت ثابت کرتے ہیں۔ لیکن اس کی بجائے دیوانی مقدمے کا حصہ بن گئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر شیخ نے باجوہ کو مذکورہ پراپرٹی نہیں دی تو ڈاکومنٹس کہاں سے آئے؟

ایک امکان یہ بھی ہے کہ شیخ نے واقعی باجوہ کو پراپرٹی دی ہو لیکن وطین کے معاملے میں دھوکا دہی کے بعد وہ نہ چاہتے ہوں کہ باجوہ کے پاس مذکورہ پراپرٹی رہے۔

موقف جاننے کیلئے ’’منافع‘‘ کی بارہا کوششوں کے باوجود شیخ النہیان، مس روسو یا گروپ سے رابطہ نہ ہو سکا۔ پراپرٹی کے تنازعہ بارے دونوں بھائیوں اور باجوہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا، ہمیں اب بات کا بھی جواب نہیں ملا کہ گروپ پاکستان چھوڑ رہا ہے یا نہیں اور کیا بینک الفلاح دوبارہ برائے فروخت ہے۔ گروپ کی جانب سے یہ خاموشی کافی پریشان کن ہے۔

رپورٹ: بابر نظامی اور عبداللہ نیازی

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here