ناقص حکومتی پالیسیاں اور کرنسی کی گراوٹ کیسے پاکستان میں پٹرولیم کی دوسری بڑی کمپنی کو زوال سے دوچار کررہی ہیں

1960

جون 2019 کو ختم ہونے والا مالی سال پاکستان میں انرجی بزنس سے منسلک ایک بہترین کمپنی پر تباہ کن اثرات چھوڑ گیا، گزشتہ ایک عشرے کے دوران ہسکول پٹرولیم (Hascol Petroleum) نے پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) کے علاوہ تیل کی تمام کمپنیوں کو پیچھے چھوڑ دیا تھا، تاہم اب کمپنی زوال کا شکار ہو چکی ہے۔

یہ کمپنی ناصرف پاکستانی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بھی پسندیدہ رہی، 2010 سے لیکر 2018ء تک کمپنی کی آمدن میں 52.7 فیصد سالانہ کی شاندار شرح سے اضافہ ہوتا رہا اور یوں اس کا سرمایہ 7.9 ارب سے بڑھ کر 234.4 ارب روپے ہو گیا۔

2014ء میں یہ کمپنی کراچی سٹاک مارکیٹ میں 5.4 ارب روپے ویلیو کیساتھ رجسٹرڈ ہوئی، 26 مئی 2017 کو اس کے شئیرز کی قیمت 236.01 روپے تھی، 2017ء میں 1.3 ارب روپے منافع پر کھڑی یہ کمپنی جون 2019 تک 12 ارب روپے خسارے کا شکار ہو چکی تھی۔

اس تنزل کے اسباب کیا تھے؟ کمزور بزنس ماڈل اور حکومت کی بری پالسیاں بھی کمپنی کے زیادہ تر مسائل کی جڑ ہیں۔

ہسکول کا بزنس ماڈل:

ایک عشرہ قبل ہسکول نے چھوٹے لیول سے کام شروع کیا اور جلد ہے آئل ریٹیل مارکیٹ کا بڑا نام بن گئی اور اس دوران کمرشل اور صنعتی صارفین کو تیل فروخت کرتی رہی۔ کمپنی فرنچائز ماڈل پر کام کر رہی ہے، ملک بھرمیں فرنچائز مالکان کمپنی کے نام (ہسکول) سے پٹرول پمپ لگاتے ہیں جنہیں ہسکول تیل سپلائی کرتی ہے، جبکہ کئی پٹرول پمپس ہسکول کی ملکیت ہیں۔

2001 میں ہسکول بطور کارپوریٹ کمپنی شروع ہوئی جبکہ 2005 میں اسے آئل مارکیٹنگ کا سرکاری لائسنس ملا جس کی وجہ سے اسے پٹرول، ڈیزل گیسولین، فیول آئیل اور لبریکنٹس خریدنے اور فروخت کرنے کی اجازت مل گئی۔ 2007 میں ہسکول اَن لسٹڈ کمپنی میں تبدیل ہوئی جبکہ 2014 میں کراچی سٹاک ایکسچیج میں لسٹڈ ہوگئی۔

ہسکول کی قسمت اس وقت بدلی جبکہ 2009ء میں سلیم بٹ نے بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور چیف آپریٹنگ آفیسر ذمہ داریاں سنبھالیں۔ انہوں نے سمٹ بینک کے ساتھ تعلق قائم کیا اور کمپنی کے توسیعی منصوبوں کیلئے فنڈز کا حصول ممکن بنایا۔ اس کے بعد کمپنی ہر گزرتے سال کے ساتھ ترقی کرتی گئی۔

2017ء میں ہسکول نے اٹک پٹرولیم کو پیچھے چھوڑ دیا اور ملک کی دوسری بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنی بن گئی، صرف پی ایس او اس سے آگے تھی۔ (جبکہ 30جون 2019 تک صرف 12 ماہ میں کمپنی تیسرے نمبر پر لڑھک چکی ہے، اس کی سالانہ آمدن جو 2012ء میں 25.9 ارب روپے تھے وہ 2018 میں 9 گنا بڑھ کر 233.6 ارب روپے ہو گئی)۔

ہسکول کی ترقی کے پیچھے اس کی قیمتوں سے متعلق جارحانہ حکمت عمل تھی، انڈسٹری سے ایک ذریعہ نے بتایا کہ ہسکول نے مارکیٹ سے ہٹ کر اپنے کمرشل کسٹمرز کو ڈسکائوٹ دئیے، تاہم ایک سکیورٹیز تجزیہ کار نے بتایا کہ شائد یہی ڈسکائونٹس ہی کمپنی کے حالیہ تنزل کا باعث بنے ہیں۔

ہسکول کے چیئرمین آف بورڈ ممتاز حسن نے بتایا کہ وہ بھی اتنا ہی ڈسکائونٹ دیتے ہیں جتنا دیگر کمپنیاں دیتی ہیں، چونکہ ہم ریٹیل نیٹ ورک بڑھا رہے تھے اس لیے زیادہ تر مارکیٹ شئیر ہمارے پاس تھا، ہم سالانہ ایک سو سائٹس بنا رہے تھے، جس کی وجہ سے ہماری کمپنی کا حجم بڑھ رہا تھا، ہم نے اپنی سٹوریج کپیسٹی بھی بڑھائی اور اس کیلئے ڈچ انرجی کمپنی Vitol کے ساتھ اشتراک کیا ہے، دونوں کمپنیاں پورٹ قاسم پر 2 لاکھ 32 ہزار کیوبک میٹر کا اضافہ کرتے ہوئے سٹوریج کپیسٹی کو 16 دن سے 26 دن تک لے گئی ہیں، اسکی وجہ سے لاجسٹکس مزید بہتر ہوگئی، اس کے علاوہ ہم نے اپنا آئل ٹینکرز فلیٹ میں بھی اضافہ کیا۔

ممتاز حسن نے بتایا کہ موٹرویز، ہائی ویز کے کنارے اور چھوٹے علاقوں میں ہم نے اپنے پٹرول پمپ بنا کر نیٹ ورک پورے ملک میں پھیلا دیا ہے، کمپنی نے تقریباََ 500 پٹرول پمپ لگائے ہیں، چونکہ ملک میں موٹرسائیکلوں اور کاروں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے، ہم کسٹمرز کو بہترین سروس فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ہمارے پمپس کو ترجیح دیتے ہیں۔

ممتاز حسن ۔۔۔۔ چیئرمین بورڈ آف ہسکول پٹرولیم

تاہم ہسکول کے بزنس ماڈل میں جو چیز سب سے سخت ہے وہ یہ کہ کمپنی 95 فیصد درآمدی ایندھن پر انحصار کرتی ہے، سابق حکومت میں ڈالر کی قدر کسی حد تک مستحکم رہنے کی وجہ سے زیادہ بوجھ نہیں پڑتا تھا لیکن اب ڈالر 160 روپے کا ہو چکا ہے تو کمپنی کو باہر سے تیل مہنگا پڑتا ہے۔

ہسکول کیساتھ غلط کیا ہوا؟

چیئرمین ممتاز حسن نے ’’منافع‘‘ کو انٹرویو میں بتایا کہ ’’دیگر تمام کمپنیاں مقامی ریارئنریز میں شئیر ہولڈر ہیں، پی ایس او کی مثال لیں تو وہ 60 فیصد تیل مقامی ریفائنریز سے لیتی ہے جبکہ 40 فیصد درآمد کرتی ہے، جبکہ ہسکول مقامی ریفائنریز سے بہت کم لیتی ہے اور نوے سے پچھانوے فیصد تیل باہر سے منگوایا جاتا ہے اس لیے روپے کی گراوٹ سب سے زیادہ ہمیں متاثر کرتی ہے۔ پاکستان میں چونکہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرتی ہے اور اکثر یہ عمل عالمی مارکیٹوں کی نسبت تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے، اس مسئلے کی وجہ سے کمپنیوں کو باہر سے لین دین میں مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہیں باہر سے مہنگا منوایا گیا تیل پاکستان میں حکومت کے مقرر کردہ سستے نرخوں پر بیچنا پڑتا ہے۔ یہ ہسکول کیلئے خاص طور پر زیادہ سنجیدہ مسئلہ اس لیے بھی ہے کیونکہ اس کا نوے سے پچانوے فیصد تیل درآمد ہی ہوتا ہے ہسکول کے بورڈ چیئرمین کے مطابق عام طور پر کمپنی کے بیس دن کا ذخیرہ ہوتا ہے ، جب عالمی منڈی میں قیمتیں گرتی ہیں تو ہمارے سٹاک کی قیمت بھی گر جاتی ہے جو ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے ہم نے زیادہ نرخوں میں خرید رکھا ہوتا ہے اس لیے ہمیں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ہسکول کے چیف فنانس آفیسر خرم شہزاد نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے تیل عالمی منڈی سے پچاسی ڈالر فی بیرل کے حساب سے خریدا لیکن ایک ڈیڑھ ماہ میں قیمت اٹھاون ڈالر فی بیرل تک گر گئی اور یوں نقصان اٹھانا پڑا۔ ہسکول کے ڈائریکٹر لیاقت علی نے بتایا کہ ویسے تو ملک میں ہر صنعت کو ہی مشکلات درپیش ہیں لیکن آئل انڈسٹری کی مشکلات زیادہ ہیں، آٹو انڈسٹری کو دیکھیں، ڈالر جیسے ہی مہنگا ہو اگلے ہی دن وہ کارو ں کی قیمتیں پچس تیس ہزار روپے بڑھا دیتے ہیں، لیکن ہم ان کی طرح قیمتیں نہیں بڑھا سکتے۔

اس کے علاوہ ہم نے لندن کی عدالتوں میں کچھ مقدمے بھی ہارے ہیں، جس کیلئےہمیں ڈالرز میں ادائیگیاں کرنا پڑیں، اسی دوران روپے کی قدر گر گئی، اس کا نقصان بھی ہمیں ڈالرز میں اٹھانا پڑا، اور اس کا کمپنی کی بیلنس شیٹ پر اثر پڑا۔

ممتاز حسن اپنے مدمقابل کمپنیوں کی سبقت کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ’’ہم نے پاکستان میں موجود پانچ ریفائنریز میں سے کسی کے ساتھ بھی تعلق نہیں بنایا، ٹوٹل پارکو پاک عرب ریفائننگ کمپنی سے آئل خریدتی ہے، شیل پاکستان ریفائنری لمیٹڈ سے تیل لیتی ہے، ان کمپنیوں کو باہر سے بہت کم تیل درآمد کرنا پڑتا ہے، پی ایس او پارکو اور پاکستان ریفائنری لمیٹڈ میں شئیر ہولڈر ہے، یہ حکومتی کمپنیاں ہیں اور انہیں حکومت ہی مدد فراہم کرتی رہتی ہے، ان کی درآمدات ہم سے کہیں کم ہیں، اسی لیے روپے کی گراوٹ کا اثر ان کی نسبت ہماری کمپنی پر زیادہ پڑتا ہے۔‘‘

لیکن ممتاز حسن کہتے ہیں کہ حالیہ معاشی حالات سے پوری صنعت متاثر ہے لیکن کچھ کمپنیاں اپنے نقصانات چھپا رہی ہیں، یا تو وہ یہ خسارہ ریفائنریز کے ذمے ڈال چکی ہیں یا پھر اکائونٹنگ کے گُر زیر استعمال لاتے ہوئے اس پر پردہ ڈال چکی ہیں۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آپ نیشنل ریفائنری، اٹک آئل، پاکستان ریفائنری یا کسی بھی دوسری کمپنی کی مالیاتی رپورٹ اٹھا کر دیکھ لیں آپکو حقیقت معلوم ہو جائیگی، پروڈکٹ ڈالرز میں خریدی جاتی ہے، جب ہم نے خرید کی تو ڈالر کا ریٹ مختلف تھا گزشتہ سال ڈالر کی قیمت میں 40 سے 50 فیصد اضافہ ہوا جس کا اثر پوری آئل اندسٹری پر پڑا۔

خرم شہزاد نے مزید وضاحت کی کیوں ان کی کچھ مدمقابل کمپنیاں ہسکول کی نسبت مالی طور پر مستحکم دکھائی دے رہی ہیں۔

خرم شہزاد نے کہا کہ ’’اگر آپ پی ایس او کی بیلنس شیٹ دیکھیں تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ ’دیگر قابل وصول اثاثہ جات‘ جو انہوں نے درؤمد کیے ان پر کمپنی کو صرف 24 ارب روپے کا نقصان ہوا لیکن وہ اس کو انکم سٹیٹمنٹ میں نہیں چارج کریں گے۔ وہ یہ خسارہ بیلنس شیٹ میں ظاہر کرتے ہیں جبکہ یہ منافع و نقصان کے اکائونٹ میں ہونا چاہیے، اگر آپ انڈسٹری کا تجزیہ کرتے ہیں تو اٹک گروپ کے پیچھے اٹک ریفائنری اور نیشنل ریفائنری موجود ہیں، اور اگر آپ صرف اٹک پٹرولیم کا تجزیہ کریں اور دیگر دونوں کمپنیوں کا چھوڑ دیں تو تب جا کر آپکو اصل تصویر واضح ہوگی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’اٹک ریفائنری کو 8ارب روپے، نیشنل ریفائنری کو 12 ارب خسارہ ہوا جو ملا کر 20 ارب روپے بنتے ہیں، وہ خام تیل منگوا کر صاف کرکے اٹک پٹرولیم کو دیتےے ہیں، اگر اٹک پٹرولیم خود باہر سے تیل منگواتی تو یہ خسارہ اسے ہوتا۔ شیل کمرشل بزنس نہیں کرتی بلکہ صرف ریٹیل پر انکی توجہ ہے، انکی درآمدات ہمارے سے کم ہونے کے بوجود بھی بیرونی خسارہ ہم سے زیادہ ہے، دسمبر 2018 میں شیل کا بیرونی خسارہ 5.9 ارب روپے جبکہ ہمارا خسارہ 3.9 ارب تھا، شیل اپنا یہ خسارہ profit and loss account  میں ظاہر نہیں کرتا۔‘‘

اس سوال پر کہ کیا اپنی مدمقابل کمپنیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ہسکول کوئی ریفائنری لگائے گی؟ تو ممتاز حسن نے کہا ریفائنری لگانے کیلئے بھاری سرمایہ کاری چاہیے، اگر آپ ایک بیرل کی ریفائنری لگانا چاہتے ہیں تو اس پر 3 ارب ڈالر سرمایہ کاری کرنا ہوگی اور وہ پانچ سال میں کام شروع کرے گی۔

دوسری جانب بورڈ ڈائریکٹر لیاقت علی نے بتایا کہ معاشی سست روی کی وجہ سے ملک کی دیگر صنعتوں کی طرح آئل انڈسٹری بھی کافی متاثر ہوئی ہے، کاروں کی فروخت میں 40 فیصد کمی آ چکی ہے، سی پیک جیسے انفرسٹرکچر کے منصوبے جہاں ڈیزل کی کھپت ہوتی تھی وہ بھی سست روی کا شکار ہو چکے ہیں۔

ہسکول کی کم ہوتی ہوئی مارکیٹ:

جون 2019 تک 12 ماہ میں ہسکول کی آمدن 15.2  فیصد کم ہو چکی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2019 کی دوسری سہ ماہی کے دوران ہسکول پٹرولیم کی فروخت میں 42 فیصد کمی ہوئی، اس پر بات کرتے ہوئے ممتاز حسن نے بتایا کہ کمپنی کی تنظیم نو سے پہلے ہم دور دراز علاقوں میں اپنے کم اہم ڈیلرز ختم کر رہے ہیں۔

کمپنی کو cash flow جیسے مسئلہ کا بھی سامنا ہے کیونکہ اسے امپورٹ بلز 30 دن کے اندر ادا کرنے ہوتے ہیں جبکہ ڈیلرز اور پٹرول پمپس سے رقم تاخیر سے ملتی ہے۔ اس لیے جب خسارہ بڑھا تو کمپنی نے کمرشل فروخت بند کردی، بجلی بنانے والی کمپنیوں کے ذمہ واجب ادا رقوم کی وصولی تک انہیں بھی فروخت بند کردی گئی۔ بجلی بنانے والے کارخانوں کو سپلائی روکنے کی پالیسی طویل عرسے بعد اچھی پالیسی ثابت ہوئی ہے، حکومت بھی اب اپنی پالیسی بدل کر بجلی ساز کارخانوں کو تیل کی بجائے ایل این جی دے رہی ہے، ڈیزل پر چلنے والے پاور ہائوسز بھی اب ایل این جی پر تبدیل ہو چکے ہیں اور ڈئیزل کی کھپت 25 فیصد کم ہو چکی ہے۔

کریڈٹ تک رسائی جاری:

خسارے میں جانے کی وجہ سے ہسکول سے متعلق افواہیں گردش کرنے لگیں کہ بینکوں نے کمپنی کو قرض دینا بند کر دیا ہے، تاہم چیئرمین بورڈ ممتاز حسن نے ان افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بینک اب بھی قرض دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام بڑے بینک ہماری مدد کر رہے ہیں، ظاہر ہے انہیں بھی ہمارے مسائل کا علم ہے، انہیں معلوم ہے کہ اس میں ہماری کوتاہی نہیں، کمپنی میں کسی قسم کا فراڈ بھی ہوا جس کی وجہ سے کوئی سمجھے کہ ہمارا خسارہ فراڈ کی وجہ سے ہے۔ تاہم ممتاز حسن نے تسلیم کیا انہیں قرض خواہوں کو ادائیگیوں اور مزید بات چیت کیلئے مسئال کا سامنا ضرور ہے۔

کمپنی اپنی بیلنس شیٹ بہتر بنانے اور ایکویٹی بڑھانے پر غور کر رہی ہے کیونکہ گزشتہ دو سالوں میں اس کے شئیرز کی قیمت 90 فیصد تک گر چکی ہے۔

تاہم ممتاز حسن کہتے ہیں کہ کمپنی کے پاس اس کے اثاثے موجود ہیں، سٹوریج کی سہولتیں موجود ہیں، اگر یہی اثاثے آپ آج کے دور میں بنانا چاہیں تو پچاس فیصد زیادہ اخراجات ہوں گے کیونکہ میٹریل کی قیمتیں بڑھا چکی ہیں۔

بورڈ ڈائریکٹر لیاقت علی نے کہا کہ ہماری کمپنی میں دس فیصد غیر ملکی سرمایہ کاروں کے تھے، پاکستانی کرنسی کی گراوٹ کی وجہ سے انہوں نے اپنے شئیرز لکالنے شروع کردیے تاہم وہ شئیرز فروخت نہ سکے اور قیمت گرتی گئی، لیکن ہم نے اپنے شئیرز فروخت نہیں کیے، Vitol سمیت کسی بھی بڑے شئیر ہولڈر نے شئیرز فروخت نہیں کیے۔

کیا Vitol اب بھی Hascol کی مدد کر رہی ہے؟

سنہء 2015 میں ڈچ انرجی کمپنی Vitol نے ہسکول میں 15 فیصد حصص حاصل کیے تھے جو 2016 میں مزید دس فیصد حصص لیکر وہ ہسکول میں سب سے بڑی شئیر ہولڈر بن گئی، اس کے بعد دونوں کمپنیوں نے جوائنٹ وینچر کے تحت ایل این جی کی مارکیٹنگ شروع کی، جس میں ہسکول کا حصہ تیس فیصد جبکہ باقی ستر فیصد حصہ Vitol کا تھا۔ دونوں کمپنیوں نے لاہور، کراچی اور اسلام آباد ائیرپورٹس پر طیاروں میں ایندھن بھرنے کیلئے بھی ایک معاہدہ کیا۔ ممتاز حسن کہتے ہیں Vitol پاکستان نہیں چھوڑ رہی بلکہ وہ یہاں زیادہ پراعتماد طور پر کام کر رہی ہے اور مزید سرمایہ کاری کرنا اور شئیر ہولڈنگ بڑھانا چاہتی ہے اور اس سلسلے مین ہم ارباب اختیار سے بھی مل چکے ہیں۔

چیئرمین ممتاز حسن کے کہنے کے مطابق اگر کمپنی کی موجودہ انتظامیہ بھی اسے نہیں چھوڑ رہی، انہوں نے بتایا کہ اسی انتظامیہ نے 2011 سے 2017 تک بہترین نتائج دئیے ہیں، سبھی لوگ پیشہ ور اور قابل ہیں۔ ہمارے خاندان میں سے کوئی بھی نہیں ہے، کمپنی کو مکمل طور پر پروفیشنل انداز میں چلایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا پورے ملک کے ساتھ ہمیں بھی مشکلات درپیش ہیں، ہسکول کی مشکلات شیل وغیرہ جیسی دیگر کمپنیوں کے لبرئیکنٹس کی فروخت میں آنے کے بعد مزید بڑھی ہیں کیونکہ اس میں پچیس سے تیس فیصد مارجن ہوتا ہے۔’’ ہمارا لبریکنٹس کا بزنس اس لیول کا نہیں تھا تاہم اب ہم نے ایک بلینڈنگ پلانٹ لگایا ہے، جو آئندہ دو سے تیل سال میں پورے ملک کیلئے منافع بخش بن جائیگا۔‘‘

کمپنی میں غلطی کہاں پر ہوئی؟

ہسکول سے وابستہ ایک شخص نے رسمی طور پر اس بات کی تردید کی کمپنی میں کبھی کسی قسم کا غلط کام ہوا ہو، تاہم گزشتہ سال کے آخر میں پانچ سو ملین کے ایک فراڈ کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ ایک ذریعہ نے بتایا کہ ’’کچھ لوگ 780 ملین روپے جبکہ کچھ 680 ملین روپے کا غبن بتاتے ہیں تاہم میں کہتا ہوں کہ کمپنی کو اس گھپلے کی وجہ سے 500 ملین روپے کا نقصان ضرور ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے فنانس ڈیپارٹمنٹ سے دس ملازمین کو بھی فارغ کیا گیا۔‘‘

ہسکول کے چیئرمین ممتاز حسن نے بھی تسلیم کیا کہ کمپنی میں گھپلا ہوا تھا، تاہم انہوں رقم کے حوالے سے بتایا کہ وہ اس سے کم تھی جتنی کی افواہیں اڑائی جا رہی ہیں۔

مستقبل کیا ہے؟

ممتاز حسن کہتے ہیں کہ ’’ریگولیٹڈ انڈسٹری ہونے کی وجہ سے آئل انڈسٹری کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ ہماری مارکیٹ فکس ہے اور ہم منافع بڑھا نہیں سکتے۔‘‘ دیگر کمپنیوں کیساتھ ہسکول کی انتظامیہ کے لوگ بھی حکومتی عہدیداروں سے ملکر انہیں منافع پر دو روپے کا مارجن بڑھانے کیلئے مل رہے ہیں۔

دوسری جانب ممتاز حسن پرامید ہیں آئندہ ایک آدھ سال میں کمپنی ٹریک پر واپس آ جائے گی، انہوں نے کہا کہ پریشانی کی بات نہیں، انسانوں اور کمپنیوں پر اتار چڑھائو آتے رہتے ہیں۔ ہم بحران پر جلد قابو پا لیں گے کیونکہ ہمارے پاس قابل لوگ موجود ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here