نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 13.25 فیصد پر برقرار

مہنگائی کے اندازے 11 سے 12 فیصد کے ہیں جبکہ شرح نمو ساڑھے 3 فیصد رہے گی: سٹیٹ بینک

200

اسٹیٹ بینک نے آئندہ دو ماہ کیلئے مالیاتی پالیسی کا اعلان کردیا جس کے مطابق شرح سود13.25 فیصد برقرار رکھی گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مہنگائی کی شرح گیارہ سے بارہ فیصد رہے گی، آئندہ 24 مہینوں میں اسے پانچ سے سات فیصد تک لانے کیلئے سود کی موجودہ شرح موافق ہے، شرح نمو ساڑھے تین فیصد رہے گی، معاشی حالات بتدریج بہتر ہوں گے جبکہ عالمی شرح سود میں کمی سے ترسیلات بڑھیں گی۔

اسٹیٹ بینک کے پالیسی بورڈ نے طویل اجلاس کے بعد سوموار کو پالیسی بیان میں کہا کہ شرح سود 13.25 فیصد برقرار ہے، مہنگائی کے اندازے 11 سے 12 فیصد کے ہیں جبکہ شرح نمو ساڑھے 3 فیصد رہے گی۔

پالیسی فیصلے کرتے ہوئے حقیقی معیشت، بیرونی اور مالیاتی شعبوں کو اہمیت دی گئی ہے، کمیٹی کا خیال ہے کہ معاشی سرگرمیاں بتدریج بہتر ہوں گی، مثبت رجحان اسے فروغ دے گا۔ بیرونی شعبہ بہتری دکھا رہا ہے، حکومت نے اپنے واجبات کم کیے ہیں اور زرمبادلہ بڑھائے ہیں۔

مرکزی بینک کی جانب سے مزید کہا گیا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام اور دیگر ذرائع سے رقم کی آمد سے صورتحال بہتر ہوئی ہے، تیل کی سہولت بھی زرمبادلہ بڑھنے کا سبب ہے، یکم جولائی سے ایک ارب اٹھارہ کروڑ ڈالر بڑھ چکے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مبادلہ مارکیٹ بھی مارکیٹ بیس سسٹم پر منتقل ہوگئی ہے، یہ اعتماد بڑھائیں گے۔ پرائیوٹ سیکٹر نے قرض کم کیا ہے البتہ ٹیکس محصولات پتہ دیتے ہیں کہ معاشی سست روی اندازوں سے کم ہے، اقتصادی شعبہ ملی جلی کارکردگی کا مظاہرہ کررہا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق مہنگائی کو آئندہ دو برسوں میں پانچ سے سات فیصد تک لانا ہے، اس مقصد کے حصول کیلئے پالیسی ریٹ کی موجودہ شرح درست ہے، تیل کی عالمی قیمتیں کم ہونے سے مہنگائی میں کمی توقعات سے پہلے ہوسکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here