معیشت کی بہتری کیلئے وزیر اعظم نے غیرروایتی تجاویز طلب کرلیں

 معیشت پربعض عناصر کے بے بنیاد پروپیگنڈے کا حقائق کے ساتھ جواب دیں اور حالیہ معاشی بہتری کو اجاگر کریں، وزیر اعظم کی معاشی ٹیم کو ہدایت 

136

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے معیشت کی بہتری اور ترقی کیلئے اپنی معاشی ٹیم اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے غیر روایتی تجاویز طلب کرلیں، وزیر اعظم نے معاشی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ معیشت پربعض عناصر کے بے بنیاد پروپیگنڈے کا حقائق کے ساتھ جواب دیں۔

وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی معاشی ٹیم کا اجلاس ہفتہ کو بنی گالہ میں ہوا، اجلاس میں وزیرِ برائے اقتصادی امور حماد اظہر، وزیرِ منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق، و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔

اجلاس میں وزیر اعظم نے معیشت کی بہتری کیلئے غیر روایتی تجاویز طلب کرلیں،اجلاس میں حکومتی معاشی ٹیم نے وزیراعظم کو معیشت کی بہتری اور استحکام کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات اور ان کے اثرات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ معیشت کی بہتری کی غرض سے کی جانے والی اصلاحات کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہوگئے ہیں اور رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں برآمدات اور درآمدات کے ضمن میں تجارتی خسارے میں 38 فیصد کمی، ٹیکسوں کی وصولیوں میں بہتری، ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور نجی کاروباری سرگرمیوں میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔

معاشی حالات اور اس کی سمت پر دو ہفتوں میں منعقد ہونے والے دوسرے اجلاس میں وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں 38 فیصد تجارتی خسارہ کم ہوا ہے جس کی وجہ درآمدات میں کمی ہے۔

وزیر اعظم نے متعلقہ محکموں کو مالی سال کے پہلے ایک تہائی حصے کے لیے طے کردہ اہداف کے حصول کا وقت اور روڈ میپ تیار کرنے کا کہا۔

سیکریٹری فنانس نوید کامران بلوچ نے متعدد اقتصادی وزارتوں کے سال کے پہلے حصے کے اہداف کے بارے میں اجلاس کو بریفنگ دی۔

وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پہلی سہ ماہی میں آئی ایم ایف سے متعلق نظر ثانی کامیاب رہی اور ہم نے تقریباً تمام سہ ماہی اہداف حاصل کرلیے ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے کیا گیا اصلاحات کا ایجنڈا درست سمت کی جانب گامزن ہے اور پہلی سہ ماہی کے لیے تمام اسٹرکچرل اور کارکردگی کے بینچ مارک پر کارکردگی بہتر رہی ہے اور بتاتی ہے کہ تمام اہداف حاصل کرلیے جائیں گے۔

آئی ایم ایف پیکج کے حوالے سے حکومت نے اسٹیٹ بینک سے کوئی قرض نہیں لیا، کوئی گرانٹ نہیں دی گئی اور اخراجات قابو میں ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ ‘روپے کی قدر کا مسئلہ بھی تقریباً ختم ہوگیا ہے، ان اور دیگر کامیابیوں کی وجہ سے حکومت مالیاتی سال کے اہداف پر درست راستے پر ہیں’۔

اجلاس میں وزیر اعظم کو زراعت کے شعبے کی بہتری کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

خسارے کا شکار صنعتوں اور بند یونٹس کی بحالی کے لیے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کی بحالی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کارپوریٹ انڈسٹریل اور ری اسٹرکچرنگ کارپوریشن کو اس حوالے سے موثر کردار ادا کرنا ہوگا، بالخصوصی نیشنل بینک آف پاکستان، اسٹیٹ بینک اور دیگر محکموں میں بہتر رابطوں کے لیے جبکہ علاوہ ازیں اداروں کی بحالی کے لیے حکمت عملی بھی مرتب دینی ہوگی۔

تعمیرات کے شعبے کے حوالے سے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پیشکش کو حتمی شکل دی جارہی ہے تاکہ اس شعبے کو صنعت کا رتبہ دیا جائے اور بڑے شہروں میں فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرایا جاسکے۔

ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی نے اجلاس کو بتایا کہ پہلے 2 ماہ میں ریونیو اکٹھا کرنے کا ہدف 90 فیصد تک حاصل کرلیا گیا ہے۔

وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار نے وزیر اعظم کو سی پیک کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دی۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر کا کہنا تھا کہ برآمدات کار نے حکومت کی پالیسیوں پر نہ صرف اعتماد کا اظہار کیا ہے بلکہ ان کی صنعت کو مزید بڑھاوا دینے کے لیے متعدد پیشکش بھی کی ہیں۔

وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ برآمدات آئندہ چند ماہ میں بڑھیں گی۔

عمران خان نے اپنی ٹیم سے معاشی بہتری کے لیے نئے حل تلاش کرنے کی بھی ہدایت کی اور مذکورہ پیشکش کے وقت پر اطلاق کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا کہا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here