کہانی ذرا پرانی ہے، ادویات ایک ایسی چیز ہیں جو ہر کوئی استعمال کرتا ہے اور اسی وسیع استمال کی وجہ سے یہ دنیا کا پرکشش ترین کاروبار بن چکا ہے، فارما بزنس جہاں بھی اور جیسا بھی ہو اسکا کنٹرول رہتا ہے، لیکن کچھ حالات کی وجہ سے ادویات کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کا اثر اس انڈسٹری پر پڑتا رہتا ہے۔

            حال ہی یہ پرانی کہانی مسابقتی کمیشن پاکستان (Competition Commission of Pakistan) اور بڑی فارما کمپنیوں کے مابین دہرائی گئی، پاکستان میں بھی بڑی کمپنیوں کے خلاف کم و بیش وہی الزامات ہیں جو پوری دنیا میں لگتے ہیں کہ فارما کمپنیوں نے قیمتیں بڑھانے کیلئے اندرونی طور پر کوئی سازباز کر رکھا ہے۔

            دنیا بھر کی طرح پاکستانی فارما اندسٹری بھی دولتمند، طاقتور اور اثرورسوخ کی حامل ہے، پاکستان فارما بیورو 20 سے زیادہ بڑی کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم ہے اور یہی ان کمپنیوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے مسابقتی کمیشن کے راستے میں کھڑی ہے۔ فارما بیورو انڈسٹری کو قواعد و ضوابچ سے آزاد رکھنے کی مہم چلا رہی ہے اور وہی پہلے والی آزادی مانگ رہی ہے کہ ادویات کی قیمتوں کا تعین مارکیٹ پر چھوڑا جائے۔ فارما بیورو کچھ کمپنیوں کے مابین ٹکراٗو کی بھی تردید کرتی نظر آتی ہے۔

            حال ہی میں مسابقتی کمیشن کو جب ایسی رپورٹس موصول ہوئیں جن کی بنیاد پر فارما انڈسٹری کیخلاف کیس کو آگے بڑھایا جا سکتا تھا تو کمیشن نے فارما بیورو کا پیچھا کیا اور تب سے کمیشن اور فارما بیورو کے مابین نزاع چل رہا ہے۔ تاہم کمیشن وہ مطلوبہ معلومات جمع نہیں کر سکا جن کی بنیاد پر فارما بیورو کو عدالت لے جایا جا سکتا تھا۔ اس کے باوجود ادویات کی قیمتیں بڑھانے کیلئے فارما کمپنیوں کے ناپاک اتحاد کو بے نقاب کرنے کیلئے مسابقتی کمیشن اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

لیکشن مسابقتی کمیشن فارما اندسٹری کی جانب سے قیمتیں بڑھانے کیلئے ملی بھگت کو کیسے بے نقاب کر سکتا ہے؟ اور اگر یہ کمپنیاں واقعی ہے ایسے عمل میں ملوث ہیں تو وہ اپنا دفاع کیسے کریں گی؟ اور اگر ساری کمپنیاں فارما بیورو کی شکل میں اتحاد قائم کر لیتی ہیں تو انہیں قیمتیں بڑھانے اور اپنے مفادات کے تحفظ سے کون روکے گا؟

فارما بیورو نے ’’منافع‘‘ کو اپنا موقف بیان کرتے ہوئے بتایا کہ مختلف طرح کی پابندیاں اور ضابطے ہٹانے سے مقابلے کی فضاء بڑھے گی اور ادویات کی قیمتیں کم رکھنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔ حکومت مداخلت بند کر دے تو کمپنیوں میں صحت مندانہ مسابقت کی دوڑ پیدا ہو سکتی ہے۔

فارما بیورو کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عائشہ تامی حق نے ’’منافع‘‘ سے گفتگو میں بتایا کہ ادویات کی قیمتیں کنٹرول کرنے کی بجائے حکومت کو خود ادویات کی قیمتوں کی ایک مناسب فہرست پیش کرنی چاہیے۔ جس میں ایسی ادویات شامل ہوں جو لازمی ہوتی ہیں۔ باقی ادویات کی قیمتوں کا تعین مارکیٹ پر چھوڑ دینا چاہیے۔ اس سے ناصرف قیمتیں کم ہوں گی بلکہ معیار بھی بہتر ہو گا۔

عائشہ تامی حق ۔۔۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر فارما بیورو

            لیکن یہاں اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ فارما انڈسٹری قیمتیں کم کرنے پر راضی خود کیونکر راضی ہوگی؟ اگر کمپنیاں آپس میں ساز باز نہیں بھی کرتیں تو ڈی ریگولیشن کی صورت میں وہ قیمتیں کم کرنے کی تجویز کیوں دے رہی ہیں؟  اور اگر قیمتیں کم کرنے سے انہیں کوئی مسئلہ نہیں تو انہیں ریگولیشن کی صورت میں تھوڑی سی حکومت دخل اندازی پر اعتراض کیوں ہے؟

فارما انڈسٹری کے ایک ماہر نے بتایا کہ کمپنیوں کی یہ دلیل بالکل فضول ہے۔ حکومت نے دوائیوں کی ایک قیمت (ceiling price)رکھی ہوتی ہے جس سے زائد وہ دوائی نہیں بیچی جا سکتی۔ اس قیمت سے نیچے رہ کر کمپنیاں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی ہیں جس کی وجہ سے قیمتوں میں کمی ہوتی ہے۔ لیکن حکومت کی دی گئی قیمت ’مقررہ‘ نہیں ہوتی اور اس قیمت سے نیچے رہ کر بھی کمپنیوں کے مابین مسابقت کا کافی موقع موجود ہے۔ تو وہ ایسا کیوں نہیں کر رہی ہیں؟

تاہم انہوں نے کہا کہ منافع کمانا کسی بھی بزنس کا اہم جز ہے، لیکن پھر بھی توازن برقرار رہنا چاہیے، یقیناِِ ایسا کرنا مشکل ہے لیکن کسی بھی کمپنی اور حکومت کو محفوظ اور معیاری دوائیوں کی قیمت اتنی ہی رکھنی چاہیے جتنے میں عام لوگ خرید سکیں اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی تجاویز بھی ایس ہی ہیں۔

حال میں کنٹرول کے باجود قیمتیں بڑھی ہیں، ایک دوا سٹور کے مالک محمد عمیر نے بتایا کہ کچھ ادویات کی قیمتوں میں تین گنا اضافہ دیکھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ Concor 5mg کا ڈبہ دو سال قبل 75 روپے میں ملتا تھا لیکن اب 234 روپے میں فروخت ہوتا ہے۔ یہ دوا اب Martin Dow  نامی کمپنی بنا رہی ہے۔ دوائیاں پہلے مارکیٹ سے غائب ہوتی ہیں اور پھر اچانک بڑھی ہوئی قیمتوں کے ساتھ آ جاتی ہیں۔

ایک دوسرے سٹور کے سیلزمین حیسب رفیع نے بتایا کہ موجودہ حکومت کی آمد کے بعد Abbot، Searle اور GSK جیسی بڑی کمپنیوں کی بجائے چھوٹی کمپنیوں نے قیمتوں میں زیادہ اضافہ کیا ہے۔ تاہم بڑی کمپنیوں کی بھی کچھ پراڈکٹس مہنگی ہوئی ہیں۔ مثلاََ ایبٹ فارما کی Duphaston   گولیاں 540 سے 840 کی ہو گئی ہیں، Urixin کا سو گولیوں کا ڈبہ 1010 سے 1500 روپے کا ہو گیا ہے۔ اسی طرح GSK کی Kenacomb کریم کی قیمت 74 سے بڑھ کر 174 روپے، Augmentin 625 کی قیمت 120 سے 164 روپے ہوچکی ہے۔ جبکہ Searle کی Nuberol گولیوں کے ڈبے کی قیمت 350  سے بڑھ کر 500 روپے ہو چکی ہے۔

 فارما بیورو نے حد سے زیادہ قوانین کے اطلاق اور غیر پائیدار قیمتوں کو مارکیٹ سے ادویات کے غائب ہونے اور انکی بلند قیمتوں کیساتھ واپسی کی وجہ قرار دیا۔ اس کی وجہ سے ناصرف مریضوں کیلئے ادویات کی قلت پیدا ہوتی ہے بلکہ اسمگل شدہ ادویات بھی مارکیت میں پہنچ جاتی ہیں۔ بھارت اور بنگلہ دیش میں دوائوں پر پاکستان جیسے قوانین لاگو نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہاں کی ناصرف مقامی مارکیٹ پھل پھول رہی ہے بلکہ ان کی فارما ایکسپورٹس بھی بڑھ رہی ہیں۔

تاہم پاکستانی مارکیٹ دنیا کی دیگر مارکیٹس سے الگ ہے، خاص طور پر اگر یورپ کی مثال لی جائے، وہاں انڈسٹری کا اپنا ضابطہ اخلاق ہوتا ہے اور یہ وہ چیز ہے پاکستانی فارما انڈسٹری میں بالکل موجود نہیں۔ ایک ذریعہ نے بتایا کہ ’’ جب تک فری مارکیٹ مکمل متحرک نہیں ہوتی اور اس میں شفافیت نہیں آتی، تب تک پرائس کنٹرول کرنے ولای اتھارٹی موجود رہے گی۔ ادویات فروخت کرنے والی کمپنیاں وفاقی حکومت کے ڈرگ ایکٹ کیخلاف سٹے آرڈر لینے کیلئے سندھ ہائیکورٹ گئیں اور قیمتیں بھی بڑھا دیں، وہ کیس تب کا ایک سے دوسری عدالت میں جا رہا ہے تاہم دوائوں کی قیمتیں بدستور بڑھ رہی ہیں۔‘‘

ادویہ ساز صنعت کی صورتحال کیا ہے؟

فارما بیورو کمپنیوں کے مابین جاری چپلقش سے بدستور انکاری ہے، حتیٰ کہ اس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عائشہ یہ کہتی ہیں کہ فارما سیکٹر پہلے ہی مندی کا سامنا کر رہا ہے اور اس پر الزامات اور تحقیقات سے معاملات مزید خرابی کی طرف جائیں گے۔ ’’ ایک ایسی انڈسٹری جہاں کم و بیش 70 ہزار دوائوں کی قیمتیں ڈریپ کنٹرول کررہی ہو وہاں کمپنیوں کے مابین کسی قسم کے تصادم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مسابقتی کمیشن نے ایک انکوائری کی جس دوران کسی قسم کے تصادم کے شواہد نہیں ملے، اور نا ہی کمیشن کے قوانین کی کوئی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ فارما سیکٹر کیلئے سب سے بڑے اور حقیقی چیلنجز غیر معقول پالیسیوں کی وجہ سے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ فارما انڈسٹری پر مہنگائی، کرنسی کی گراوٹ اور  مہنگے ایندھن جیسے عوامل کا دبائو ہے جس کی وجہ سے دوائوں کی قیمتیں بڑھی ہیں، تاہم انڈسٹری کو بھی سی پی آئی کی مد میں 7.3 فیصد اضافے کی اجازت ہے۔

وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی برائے صحت اور وزیر مملکت ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق پاکستان میں 900 کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں اور فارما مارکیٹ کا حجم 3.3 ارب ڈالر ہے۔ جس میں سے 85 فیصد مارکیٹ شئیر ایبٹ، Searle، جی ایس کے، جی ایس ک سی ایچ اور اے جی پی کے پاس ہے، یعنی لسٹڈ کمپنیوں کے مجموعی سرمائے 162 ارب روپے میں سے ان بڑی کمپنیوں کا پاس 137 ارب روپے کا شئیر ہے۔ جی ایس کے کا مارکیٹ شئیر 34 ارب روپے اور ایبٹ کا 29 ارب روپے ہے اور یوں یہ دونوں کمپنیاں سب سے آگے ہیں۔ حتی کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران ان کمپنیوں کی آمدن میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے،2018ء کے دوران 12 لسٹڈ کمپنیوں میں سے صرف ایک Wyeth Pakistan Limited ایسی تھی جس نے منافع نہیں کمایا ورنہ تمام کمپنیوں نے 30 فیصد تک  منافع کمایا۔

مستقبل کی صورتحال کیسی ہوگی؟

مسبقتی کمیشن کی جانب سے شکوک شبہات کےباوجود فارما بیورو پرامید ہے، شائد اسلیے کہ انہیں لگتا ہے کہ تمام شکوک و شبہات و کارروائیوں کے باوجود قدرے محفوظ رہے ہیں، یہ بے گناہ ہونے کی وجہ سے ہے یا پھر طاقتور ہونے کی وجہ سے۔ عائشہ نے کہا کہ ’’بالآخر ہم نے سٹیک ہولڈرز کیساتھ طویل مشاورت کے بعد دوائوں کی قیمتیں طے کرنے کیلئے ایک پالیسی بنا لی ہے، ایسی پالیسی تب کام کرتی ہے جب دوائوں کی قیمتیں مناسب اور معیار بہتر ہو۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس پالیسی کو مرتب کرنے کے پیچھے ایک احساس یہ بھی کارفرما رہا کیونکہ 2001 سے دوائوں کی قیمتیں منجمد تھیں اور سب سے پر اثر دوائیں سب سے سستی تھیں اور یہی بسا اوقات مارکیٹ سے غائب کردی جاتی تھیں۔ اس وقت کے سیکریٹری صحت نے تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر ایک ایسی پالیسی مرتب کرنے کا کہا جس سے فارما سیوٹیکل انڈسٹری اور مریضوں کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔

فارما بیورو کی ایگزیکٹو دائریکٹر نے مزید کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ ٹول مینوفیکچرنگ (ایک کمپنی دوسری کمپنی کیلئے نامکمل پروڈکٹ تیار کرتی ہے) ایک مخصوص فیس کے عوض خام مال سے سے متعلق پالیسی بنانا ہوتا ہے، آج فارما انڈسٹری میں ایکسپورٹس بڑھانے کیلئے بے پناہ صلاحیت موجود ہے جس کی وجہ سے بے شمار نوکریاں پیدا ہو سکتی ہیں اور زرمبادلہ کمایا جا سکتا لیکن اس کو مکمل طور پر پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔ اب کے قانونی ضابطے بالکل بھی فارما سیکٹر کے حق میں نہیں ہیں۔

            2018 میں پاکستانی فارما سیکٹر کی درآمدات 197.62 ملین ڈالر تھیں، جبکہ اسی سال ان میں 8فیصد اضافہ ہوا اور یہ 211.674 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ دوسری  جانب بنگلہ دیش کی ادویات کی درآمدات میں 2018ء میں 27 فیصد اضافے کیساتھ 130 ملین ہو گئیں۔

عائشہ نے بتایا کہ ہمارے خطے سمیت کسی بھی ترقی یافتہ معیشت میں اگر پالیسیاں ٹھیک ہوں تو انڈسٹری کو ترقی میں مدد ملتی ہے۔ ہمیں قواعد و ضوابط ہٹا کر اس سیکٹر کو آزاد کرنا ہو گا اسی طرح مسابقت پیدا ہو گی اور ٹول مینوفیکچرنگ کو ترقی دینا ہو گی اور یہی وہ شعبہ جس میں حکومت معیار کو برقرار رکھنے کیلئے قوانین کا اطلاق کر سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here