حکومتی اقدامات سے آٹو انڈسٹری بری طرح متاثر، ہنڈا گاڑیوں کی فروخت میں 66فیصد، ٹویوٹا کی فروخت میں 56فیصد کمی

انڈسٹری سے روزگار حاصل کرنے والے 3لاکھ بلاواسطہ اور 25 لاکھ بل واسطہ افراد بھی متاثر ہوں گے۔

147

کراچی: روپے کی قدر میں کمی، شرح سود میں اضافہ سے آٹو فناسنگ کی شرح گھٹ جانے، نیز کسٹمز ڈیوٹی بڑھ جانے سے ملک کی آٹو انڈسٹری کو شدید بحران کا سامنا ہے اور گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی سے مقامی کار صنعت کار شدید مشکلات کا شکار ہیں، آٹو سیکٹر میں آنے والی نئی سرمایہ کاری بھی منجمد ہوچکی ہے اور ملک میں آنے والے کئی بڑے برانڈز نے اپنے منصوبے التواء میں ڈال دیئے ہیں۔

ہنڈا گاڑیوں کی فروخت میں 66 فیصد جبکہ ٹویوٹا گاڑیوں کی فروخت میں 56 فیصد کمی ہو چکی ہے۔

آٹو سیکٹر کے ذرائع کے مطابق گاڑیوں کی فروخت میں 50 فیصد کمی ہو چکی ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ حکومتی پالیسیاں آٹو پالیسی 2016 (ADP) سے متصادم ہیں اور ان سے مقامی طور پر لوکلائزیشن شدید متاثر ہوئی ہے، اگر یہ صورت حال برقرار رہتی ہے تو آٹو پالیسی کے تحت 550,000گاڑیوں کی پیداوار کی کوششیں ضائع جائیں گی۔

دوسری طرف گزشتہ چند برسوں میں انڈسٹری کی شرح نمو اور گاڑیوں کی فروخت کم ہونے سے سالانہ تقریباً 225 ارب روپے حکومتی آمدنی کا نقصان اور 18 لاکھ روزگار کے مواقع ختم ہونے جیسے اثرات واقع ہوں گے۔

انڈسٹری کو طویل المدت مستقل پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ طویل المدت سرمایہ کاری منصوبوں کو آگے بڑھایا جاسکے اور ایسا ماحول فراہم ہو جس سے انڈسٹری کے فوائد ملک کو حاصل ہوں۔

پاکستان آٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن(پاما) کے اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیاد پر ہنڈا کی فروخت میں 66 فیصد کمی واقع ہوئی۔ جولائی 2018ء میں گاڑیوں کی فروخت 4,981 یونٹس تھیں جو جولائی 2019ء میں کم ہو کر 1,694 یونٹس تک محدود رہ گئیں۔

اسی طرح ٹیوٹا کی فروخت میں 56 فیصد کمی واقع ہوئی۔ جولائی 2018ء میں 5,468کاریں فروخت ہوئیں لیکن جولائی 2019ء میں صرف 1,694 گاڑیاں فروخت ہو سکیں۔ سوزوکی گاڑیوں کی فروخت میں 23فیصد کمی ہوئی۔

اس صورت کی وجہ سے کار انڈسٹری کو اپنے آئندہ کے منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لینا پڑے گا، اسی طرح مارکیٹ نمو کے حوالے سے نئی کمپنیوں کے تخمینے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ہر قسم کے خام مال پر پیشگی کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ اور 2.5 فیصد سے 7.5 فیصد ایف ای ڈی کا بجٹ میں اعلان کے بعد نفاذ انڈسٹری کے لیے شدید نقصان کا باعث رہا۔

اسی طرح روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ بھی انڈسٹری کے لیے تباہ کن رہا اور انڈسٹری کے آئندہ کے منصوبے متاثر ہوئے۔

یاد رہے کہ ہنڈا نے اپنے پلانٹ کو 12 روز تک بند رکھا اور انڈس موٹر کمپنی نے پیداواری کام ہفتے میں 5 دنوں تک محدود کردیا ہے۔ یہ صورت حال نئی کمپنیوں کے لیے انتہائی مایوس کُن ہے۔

انڈسٹری کی یہ خراب صورت حال حکومت کے مفاد میں بھی نہیں ہے کیونکہ اس سے 3 ارب روپے کے فی ماہ ٹیکس وصولی میں کمی واقع ہوگی کیونکہ ایک کار کی فروخت سے حکومت کو اس کی قیمت کا 33 فیصد سے 38 فیصد تک ٹیکس کی صورت میں ملتا ہے۔400 مقامی وینڈرز بھی متاثر ہوں گے کیونکہ 50 فیصد سے 60 فیصد تک گاڑیوں کی قیمت میں مقامی طور پر تیار کئے جانے والے پرزہ جات، لوکلائزیشن کی لاگت ہوتی ہے۔ انڈسٹری سے روزگار حاصل کرنے والے 3لاکھ بلاواسطہ اور 25 لاکھ بل واسطہ افراد بھی متاثر ہوں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here