ایف بی آر: آئندہ 3 سال میں سیلز ٹیکس دہندگان کی تعداد 4 لاکھ کرنے کا ہدف

بینکوں سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز کی تفصیلات ملنے کے بعد ایک لاکھ ٹیکس نادہندگان کو نوٹس بھجوائے گئے ہیں جبکہ اگلے ہفتے مزید ایک لاکھ افراد کو نوٹسز بھجوائے جائیں گے: ڈاکٹر حامد عتیق

185

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور ٹیکس آمدنی میں اضافے کیلئے آئندہ تین سال میں سیلز ٹیکس دہندگان کی تعداد 4 لاکھ تک بڑھانے کا ٹارگٹ مقرر کر لیا۔

ایف بی آر کے ان لینڈ اینڈ ریونیو (پالیسی) ممبر ڈاکٹر حامد عتیق سرور نے بتایا کہ یوں تو ایف بی آر کیساتھ اڑھائی لاکھ سیلز ٹیکس دہندگان رجسٹرڈ ہیں لیکن ان میں سے صرف 41 ہزار افراد ہی سیلز ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے ایف بی آر انفارمیشن ٹیکنالوجی ممبر محمود عالم کے ہمراہ ڈیجیٹل ایپ ’’ٹیکس آسان‘‘ کی تعارفی تقریب کے موقع پر کہی۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر بڑے مینوفیکچررز اور ریٹیلرز سے سیلز ٹیکس حاصل کرکے ٹیکس کولیکشن میں اضافہ یقینی بنائے گا۔ کپڑوں اور جوتوں کے چار ہزار بڑے سٹورز اور برانڈز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے کوشاں ہیں۔

’’ٹیکس آسان‘‘ ایپ سے متعلق بتاتے ہوئے حامد عتیق نے کہا کہ یہ ایپ ٹیکس سسٹم کو بہتر اور آسان بنانے اور ٹیکس دہندگان کو عالمی معیار کے مطابق باسہولت بنانے کیلئے متعارف کرائی گئی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے کسٹمرز کو خودکار طور پر ہی سیلز ٹیکس کی کٹوتی کی معلومات مل جائیں گی، اسکے علاوہ کسٹمرز کو رجسٹرڈ برانڈز اور شاپس سے متعلق بھی مکمل معلومات مل سکیں گی۔

ڈاکٹر حامد عتیق نے کہا کہ ایف بی آر پہلے ہی آٹو میشن کا عمل شروع کرچکا ہے اور مختصر، وسط اور طویل المدتی طور پر اس کا دائرہ کار سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سمیت دیگر تمام ڈیپارٹمنٹس تک بڑھایا جائےگا۔ ہماری کوشش ہے کہ ایف بی آر کے 60 فیصد آپریشنز میں خودکاری (Automation) لائی جا رہی ہے کیونکہ تمام سرکاری اداروں میں ایسا طریقہ کار اپنانا حکومت کی بھی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف بینکوں سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز کی تفصیلات ملنے کے بعد ایک لاکھ ٹیکس نادہندگان کو نوٹس بھجوائے گئے ہیں جبکہ اگلے ہفتے مزید ایک لاکھ افراد کو نوٹسز بھجوائے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کتابوں، کاپیوں اور سکولوں کیلئے سٹیشنری پروڈکٹس پر کسی قسم کا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، سٹیشنری آئٹمز مہنگی ملنے کی صورت میں شہری ایف بی آر کو شکایت کریں۔

 

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here