پلیٹ فارم بزنس عام طور ای کامرس سے منسوب ہے لیکن ڈی ایچ اے لاہور میں ایک خاتون ایک ڈزرٹ بار چلاتی ہیں جہاں سے شہر کے ہر شیف اور بیکری کے تیار کردہ ڈزرٹس (مٹھائیاں، کیک وغیرہ) مل سکتے ہیں۔

منیبہ جاوید ’’ڈزرٹ ڈائریکٹری‘‘ کی بانی ہیں اور وہ اسے لگژری ڈزرٹ کہنا زیادہ پسند کرتی ہیں۔

ڈزرٹ ڈائریکٹری روایتی دکانوں اور بیکریوں کی نسبت ذرا مختلف ہے، یہاں زیادہ تر ڈزرٹس گھریلو کاریگروں کے تیار کردہ ہوتے ہیں جنہیں اپنے برانڈ کے نام کے ساتھ ڈزرٹ ڈائریکٹری میں اپنی پروڈکٹس رکھنے اور فروخت کرنے کی اجازت ہے، منیبہ جاوید کے مطابق انہوں نے دوسروں کو اپنی پروڈکٹس اس جگہ پر فروخت کرنے کی اجازت اس لیے دی ہوئی ہے تاکہ انٹرپرینیوشپ کو فروغ مل سکے ان کے ایک ذاتی تجربے نے بھی انہیں ایسا کرنے پر اکسایا۔

’’منافع‘‘ کو انٹریو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’’میں سن دو ہزار بارہ میں پرائم ایڈیبلز کے نام سے ایک گھریلو بزنس شروع کیا، جس نے کافی کامیابی سمیٹی، خاص مواقع جیسا کہ فادرز ڈے یا مدرز ڈے پر ہمیں گھر بیٹھے آرڈرز مل جاتے تھے، ہم پھلوں کے بُکے بنا کر فروخت کرتے تھے، اس چیز کی طلب آہستہ آہستہ بڑھتی گئی کیونکہ ہم ایک جمود کا شکار مارکیٹ میں کام کر رہے تھے۔ لوگ کسی کے گھر جاتے ہوئے مٹھائی یا کیک لے جاتے ہیں، لیکن اب لوگ کچھ نیا مانگ رہے تھے، جب ہمیں کامیابی ملی تو لوگ ہمارے پاس آنے لگے کہ ہم اپنی پروڈکٹس ان کی شاپس پر بغیر برانڈ کا نام استعمال کیے رکھ دیں۔‘‘

یہ تجویز کچھ دل لگتی تھی کہ ایک نوزائیدہ بزنس پر ہی آپ کو مشہور آئوٹ لیٹس پر اپنی پروڈکٹس رکھنے کی اجازت ملے جس سے ظاہر ہے آپکی سیلز اور منافع بڑھنا تھا اور گاہکوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہونا تھا۔ لیکن دوسروں کی دکانوں پر ان کے نام سے اپنی پروڈکٹس رکھنا منیبہ کیلئے کوئی اچھی ڈیل نہیں تھی اور اسی بات نے انہیں نیا کاروبار شروع کرنے کی تحریک دی۔

فروری 2016 میں ڈزرٹ ڈائریکٹری قائم ہوئی، منیبہ جاوید اس حوالے سے بتاتی ہیں کہ انہیں یہ آئیڈیا تب آیا جب لوگ انکے پاس آ رہے تھے کہ وہ اپنی پراڈکٹس ان کی آئوٹ لیٹس پر رکھیں، منیبہ نے سوچا بے شمار لوگ ہوں گے جو گھر سے کام کر رہے ہوں گے جن کے پاس دکان کھولنے کیلئے وسائل نہیں یا چلانے کیلئے وقت نہیں اور وہ آن لائن اپنی پروڈکٹس فروخت کر رہے ہونگے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’ اس وقت لاہور میں کوئی بھی لگژری ڈزرٹ بار نہیں تھا، کچھ جگہیں تھیں لیکن ان کی پراڈکٹس محدود تھیں، ہمیں لاہور میں ایک ایسے ڈزرٹ بار کی کمی محسوس ہوئی جہاں تیس سے پچاس اقسام کے ایسے ڈزرٹ ایک ہی چھت کے نیچے مل سکیں جو کسی اور جگہ دستیاب نہ ہوں۔ میں چونکہ پہلے ایک کاروبار چلا رہی تھی، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم دوسرے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کریں گے، ہم نے مختلف لوگوں کے پاس جانا شروع کردیا اور زیادہ تر گھریلو بیکرز کی تلاش شروع کردی، چھ سو لوگ ہمارے پاس آئے، اس کے بعد ہم نے ڈزرٹ ڈائریکٹری کو شروع کیا، یہ ایک ایسا بار ہے جہاں دوسرے لوگ اپنی تیار کردہ چیزیں اپنے برانڈ کے نام سے فروخت کر سکتے ہیں۔‘‘

ڈزرٹ ڈائریکٹری اپنے سوشل میڈیا پیجز پر تو اپنی پروڈکٹس کی تشہیر کرتی رہتیہے تاہم ابھی تک ویب سائٹ اور فون ایپ سے محروم ہے، آج کل کاروبار اور سیلز بڑھانے کیلئے ٹیکنالوجی کا وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے، منیبہ کہتی ہیں کہ چونکہ ان کی ابھی ڈلیوری سروس شروع نہیں ہوئی اس لیے آن لائن ہونے یا ویب سائٹ کی زیادہ ضرورت نہیں۔

’’منافع‘‘ کو انٹرویو میں منیبہ نے بتایا کہ ان کے پاس بہت سے فوڈ ڈلیوری بزنس سے وابستہ لوگ آئے اور ہماری پروڈکٹس کے آن لائن آرڈرز کے علاوہ ڈلیور کرنے بھی پیشکش کی لیکن بات اس لیے نہ بن سکی کیونکہ وہ کافی زیادہ کمیشن مانگ رہے تھے، اس لیے انکار کردیا۔

چونکہ ڈزرٹ ڈائریکٹری سوشل میڈیا پیجز پر موجود ہے تو ’’منافع‘‘ نے ڈائریکٹری کے بزنس اور کسٹمرز کے ردعمل کا جائزہ لینے کیلئے سوشل میڈیا پیجز دیکھے تو کسٹمرز کی جانب سے کافی مثبت رائے سامنے آئی، کچھ کسٹمرز نے اپنے برے تجربے کے بارے بھی بتایا ہوا تھا تاہم انتظامیہ نے بے حد کم وقت میں ان کی شکایات کا ازالہ کردیا ہوا تھا۔

ڈزرٹ ڈائریکٹری پر دس بیکرز (تمام خوتین) چھ ماہ کے کنٹریکٹ پر کام کر رہی ہیں جو اپنی پروڈکٹس اس پلیٹ فارم پر فروخت کیلئے پیش کرتی ہیں، یہ پرائم ایڈیبلز کی ان ہائوس پروڈکشن کے علاوہ ہے، منیبہ نے بتایا کہ بیکرز کی تعداد بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہے، ایک وقت میں پندرہ سے زیادہ کے ساتھ کام نہیں کیا جا سکتا اور ان میں سے بھی پانچ روز اول سے کام کر رہی ہیں۔

اگرچہ ابھی تک یہاں تمام خواتین ہی کام کر رہی ہیں تاہم ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے کہ صرف خواتین ہی اس پلیٹ فارم پر کام کر سکتی ہیں، کوئی بھی شخص (مرد، عورت، لڑکا، لڑکی) اگر ڈزرٹ ڈئریکٹری کے معیار کے مطابق چیزیں تیار کرکے یہاں فروخت کرنا چاہتا ہے تو استفادہ کر سکتا ہے۔

منیبہ جاوید کے مطابق ’’جب انہوں نے کام شروع کیا تو آٹھ سے دس بیکرز ان کے ساتھ تھے۔ وہ روزانہ اپنی پروڈکٹس فراہم کرتے تھے، پھر ہم نے تعداد پندرہ کر دی، ہم نے ذاتی طور پر بھی پروڈکٹس تیار کرنا شروع کردیں ، یہ کمیشن یا منافع بخش کاروبار تو ہے نہیں، ہم محض گھر سے کام کرنے والے انٹرپرینیورز کو با اختیار بنا رہے ہیں، ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ ہر کوئی ہمارے ہی پلیٹ فارم پر اپنی پروڈکٹس پیش کرے، ہم صرف منتخب چیزوں کی اجازت دیتے ہیں، اس حوالے سے ہم اپنے گاہکوں سے بھی تجاویز لیتے رہتے ہیں کہ وہ یہاں کیا دیکھنا چاہیں گے، ہم ٹیسٹنگ سیشن (اشیاء کا ذائقہ چیک کرنا) بھی رکھتے ہیں جب کوئی چیز حتمی طور پر منتخب ہو جاتی ہے تب جا کر اسے یہاں جگہ ملتی ہے، ہمارا ایک معیار ہے جسے ہم گزشتہ ساڑھے تین سال سے قائم رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

اسی طرح پروڈکٹس بیچنے والوں پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے، وہ سیلز سے مطمئن نہیں تو کسی بھی وقت ایک مہینے کا نوٹس دے کر ڈائریکٹری چھوڑ سکتے ہیں، اس کے علاوہ ان پر دیگر پلیٹ فارمز پر اپنی پروڈکٹس نہ بیچنے کی کوئی پابندی بھی نہیں، منیبہ کہتی ہیں کہ اگر وہ دیگر کاروباروں کو فروغ دیتی ہیں تو اسکا یہ مطلب نہیں انہوں نے وہ خرید رکھے ہیں۔

سارہ علی بھی ڈزرٹ ڈائریکٹری پر اپنی چیزیں ’’پنک کچن‘‘ کے نام سے فروخت کیلئے رکھتی ہیں،انہوں نے ’’منافع‘‘ کو بتایا کہ وہ پانچ قسم کے ڈزرٹس اس بار میں رکھتی ہیں جنہیں اس سے قبل چھ ججوں کا ایک پینل منظور کرتا ہے، ڈائریکٹری پر چیزیں بیچنے کے علاوہ وہ آن لائن آرڈرز بھی لیتی ہیں اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کیا جاتا۔

ایک کسٹمر نے بتایا کہ ڈزرٹ ڈائریکٹری پر رکھے گئے ڈزرٹس کی قیمتیں کافی زیادہ ہیں، آن لائن کسٹمرز نے بھی یہی شکایت کی۔ اس حوالے سے منیبہ جاوید کا کہنا تھا کہ ان کے پارٹنرز روزانہ جو چیزیں پیش کرتے ہیں ان کی قیمتوں کا تعین انتظامیہ اور پارٹنرز مل کر مشاورت سے روزانہ کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ اس میں جنرل سیلز ٹیکس کے علاوہ بیس سے چالیس روپے سروس چارجز بھی شامل ہوتے ہیں۔

سارہ نے کہا کہ ان کی چیزوں کی ڈزرٹ ڈائریکٹری اور آن لائن قیمتیں ایک ہی جیسی ہیں تاہم ڈزرٹ ڈائریکٹری پر سیلز ٹیکس اور سروس چارجز شامل ہو جاتے ہیں، دیگر لوگوں کیلئے بھی یہی اصول ہے۔

ڈزرٹ ڈائریکٹری لوگوں کو جگہ فراہم کرنے کیلئے ایک فروخت کنندہ سے ایک چیز کے ماہانہ ساڑھے پانچ ہزار روپے لیتا ہے اس میں پارٹنرز کو چاہے فائدہ ہو یا نقصان، یا وہ چاہیں تو دیگر پلیٹ فارمز پر چیزیں بیچ سکتے ہیں۔

سارہ کے مطابق وہ روز اول سے ڈزرٹ ڈائریکٹری کیساتھ کام رہی ہیں اور ان کا تجزبہ خاصا کامیاب رہا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہیں کافی منافع ہوا ہے۔

لیکن کرائے کی جگہ پر دیگر بے شمار اخراجات کے بعد بھی کیا یہ بزنس منافع بخش ہے؟ اس حوالے سے منیبہ جاوید کا کہنا تھا کہ ان کا بزنس منافع بخش اس لیے ہے کہ کیونکہ ان کی آمدن کا بڑا حصہ پرائم ایڈیبلز سے بھی آتا ہے وہ بھی ایک کیٹرنگ سروس ہے، پہلے اس میں صرف کافی اور کولڈ ڈرنکس وغیرہ پیش کیے جاتے تھے تاہم اب کیک اور دیگر چیزیں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پرائم ایڈیبلز چونکہ پہلے ایک برانڈ بن چکا تھا، ہم اس پر روزانہ کی بنیاد پر چیزیں تیار کر رہے تھے، ڈزرٹ ڈائریکٹری ایک دوسرا برانڈ ہے، پرائم ایڈیبلز کے آرڈرز بھی ڈزرٹ ڈائریکٹری سے ہی جاتے ہیں، ہم فروٹ باسکٹس، فروٹ بکے اور کیٹرنگ کر رہے ہیں۔

اس سوال پر کہ ڈزرٹ ڈائریکٹری پر اشیاء فروخت کرنے والوں سے کمیشن کیوں نہیں لیا جاتا؟ منیبہ نے کہا کہ پارٹنرز نے اپنے اخراجات نکال کر اور منافع کی ایک شرح بنا کر چیز کی قیمت رکھی ہوتی ہے، اگر ہم ہر چیز کی فروخت پر کمیشن لینا شروع کردیں تو پروڈکٹ کی قیمت کافی بڑھ جائے گی۔ اس لیے پارٹنرز اپنے مارجن حاصل کرنے کیلئے قیمت بڑھا دیں گے جس کی وجہ سے اس کی ڈیمانڈ میں کمی آ جائیگی۔

اپنے قیام کے ساڑھے تین سال بعد بھی ڈزرٹ ڈائریکٹری نئی برانچ کھولنے میں ناکام رہا ہے اس حوالے سے منیبہ نے بتایا کہ گو کہ وہ بزنس کو توسیع دینے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن چونکہ وہ تن تنہا سارا کاروبار سنبھال رہی ہیں اس لیے توسیع کا عمل سست روی کا شکار ہے۔تاہم انہوں نے کافی پرامید لہجے میں کہا کہ وہ رواں سال کے آخر تک نئی برانچ کا اعلان کردیں گے۔

ڈزرٹ ڈائریکٹری میں چیزیں فروخت کرنے والوں کے مابین مقابلے کی اجازت نہیں دی جاتی، اگر کوئی ایک قسم کا کیک فروخت کر رہا ہے تو دوسرا پارٹنر ویسا ہی کیک فروخت نہیں کرسکتا، حتیٰ کہ پرائم ایڈیبلز بھی دوسروں سے کافی مخلتف ہے، منیبہ نے کہا کہ وہ ایک ٹیم کے طور پر کام کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ سب کچھ اچھی طرح چل رہا ہے۔ فرض کریں کہ اگر ہمارے پاس تیس چیزیں تیار شدہ ہیں تو ہر چیز دوسری سے مختلف ہوگی، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ہر کسٹمر مطمئن ہو کر جائے، ہمارے پاس عموماَ وہ تمام ڈزرٹس موجود ہوتے ہیں جو زیادہ تر لوگ مانگتے ہیں، ظاہر ہے ہر ایک کی پسند مختلف ہوتی ہے تو ہم اس کے مطابق چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس سوال پر ایک پارٹنر عام طور پر کتنی کمائی کر لیتا ہے؟ منیبہ جاوید نے بتایا کہ چونکہ ہر چیز کی فروخت مختلف ہوتی ہے اس لیے آمدنی بھی مختلف ہے، آمدنی سیلز پر منحصر ہے، گرمیوں میں پھلوں پر مشتمل ڈزرٹس کی کافی زیادہ ڈیمانڈ ہوتی ہے تاہم چوکلیٹ سے بنی چیزوں کی طلب کم ہوجاتی ہے، لیکن یہ بھی سچ نہیں، کسی خاص دن یا عام طور پر ویک اینڈز پر چوکلیٹس سے بنے ڈزرٹس مکمل طور پر بک جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’میں نے اپنے پارٹنرز کی سیلز پر کبھی پچاس ہزار روپے بھی دئیے ہیں اور کبھی ڈیڑھ لاکھ تک بھی دئیے ہیں، یہ کم زیادہ ہوتا رہتا ہے، ہر کسی کی آمدن مختلف ہوتی ہے، عام پر ہر پارٹنر کی کمائی مہینے کے آخر میں دی جاتی ہے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قوانین کے مطابق ہر فوڈ بزنس کو چاہے وہ کوئی ریسٹورنٹ ہو یا آن لائن فروخت کرتا ہو لائسنس لینا ضروری ہے، جب لائسنس کیلئے اپلائی کیا جاتا ہے تو فوڈ اتھارٹی کا عملہ آکر کچن، خوراک اور سپلائی وغیرہ ہر چیز کا جائزہ لیتا ہے اور اگر سب کچھ ٹھیک ہو تو اس محفوظ قرار دے کر لائسنس جاری کر دیتا ہے۔

اگرچہ منیبہ کہتی ہیں کہ انہوں نے متعلقہ اتھارٹی سے لائسنس حاصل کر رکھا ہے تاہم ڈزرٹ ڈائریکٹری کو چیزیں سپلائی کرنے والے ایک وینڈر نے لائسنس کے حوالے سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا اور کہ وہ خود ہی اپنی چیزوں کا معیار بہتر رکھتی ہیں۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ایک نمائندے نے ’’منافع‘‘ کو بتایا کہ گھر سے کام کرنے والے کچن کو بھی جتنی جلدی ہو سکے لائسنس حاصل کرنا چاہے بصورت دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی، انہوں نے مزید بتایا کہ گھر سے چلنے والے کچن کیلئے آن لائن ایپ کے ذریعے لائسنس کیلئے اپلائی کیا جا سکتا ہے اور گیارہ ہزار روپے میں لائسنس مل جاتا ہے۔

فوڈ اتھارٹی کے نمائندے نے کہا کہ ایسے کچن یا کاروبار کو اپنی پروڈکٹس بھی رجسٹر کروانی چاہیے جو پانچ ہزار آٹھ سو روپے میں رجسٹر ہو سکتی ہیں، یہ طریقہ کار کنٹونمنٹ ایریا کو چھوڑ کر لاہور بھر کیلئے ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here