اشتہاری صنعت بہت پراسرار بن چکی ہے، آپ تصور کریں کہ کتنی بار ایسا ہوا کہ آپ نے بڑے اطمینان سے گوگل پر کوئی چیز تلاش کی، مثال کے طور پر فیس بک ٹائم لائن پر کوئی لنک شئیر کیا کہ آپ وہ چیز خریدنا چاہتے ہیں یا اپنی پسندیدہ سپورٹس کا سامان خریدنے کیلئے وٹس ایپ پر کسی دوست سے مشورہ کیا کہ کونسی جگہ سے وہ چیز بہتر مل سکے گی، لیکن اگلی بار جب آپ نے اپنا انسٹاگرام اکائونٹ کھولا تو وہی چیز سپانسرڈ پوسٹ کی شکل میں آپ کے سامنے موجود تھی، شائد سب سے حیرت انگیز تجربہ تب ہوتا ہے جب آپ نے اپنے فون پر بھی کچھ تلاش نہیں بھی کیا ہوتا لیکن کسی سے بات کرتے ہوئے اس چیز کا ذکر کیا ہوتا ہے تو وہ چیز بھی آپ کو کسی نہ کسی ایپ کو استعمال کرتے ہوئے اشتہار کی صورت دیکھنا پڑ جاتی ہے۔

ٹارگٹڈ ایڈورٹائزمنٹ کافی ترقی کر چکی ہے، اپنے متصرف اور درستگی کی وجہ سے یہ مارکیٹنگ کا مستقبل بن چکی ہے، اسی وجہ سے ہر کوئی روایتی ایڈورٹائزمنٹ سے جان چھڑانا چاہتا ہے، یقیناَ بل بورڈ ابھی کہیں نہیں جا رہے لیکن یہ سب بھی تب تک چلے گا جب تک کمپنیوں کو احساس نہیں ہو جاتا کہ ائیرٹائم اور پرنٹ سپیس خریدنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اپنی مصنوعات کی تشہیر کے اور بھی آسان طریقے موجود ہیں۔

تاہم ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں ابھی کوئی خاص وقت نہیں آیا کیونکہ ایک میگزین کے تخمینے کے مطابق سوشل میڈیا پر ٹارگٹڈ ایڈورٹائزمنٹ کے باوجود پاکستان میں سالانہ بیاسی ارب روپے کے اشتہارات میں سے اڑتیس ارب روپے کے اشتہارات ٹیلی ویژن چینلز کو جاتے ہیں اور درجنوں چینلز میں سے کمپنیوں کیلئے یہ مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ناظرین تک پہنچنے کیلئے کونسے چینل پر کس ٹائم سلاٹ کا انتخاب کریں۔

انڈسٹری کی زبان میں انہیں ٹیلی ویژن ریٹنگز یا ٹیلی ویژن آڈیئینس مئیرمنٹ کہا جاتا ہے یہ وہ نمبر ہوتے ہیں جن کیلئے میڈیا کے طاقتور مالکان کی رال ٹپکتی ہے اور پروڈیوسر اور اینکر ان کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتے، ہر وقت ہمیں وہ کچھ دیکھنے کو ملتا ہے جو ہم دیکھنا نہیں چاہتے اور زیر لب یہ بھی کہتے رہتے ہیں کہ ریٹنگ کے چکر میں میڈیا سب کچھ بیچتا ہے۔

لیکن ٹیلی ویژن ریٹنگ اپنے آپ میں ایک پروڈکٹ ہے بلکہ اسے ایک کرنسی بھی کہا جا سکتا ہے، پرانے زمانے میں ڈیٹا سائنس اینڈ اینالسز کی فیلڈ میں میڈیا ریٹنگز کا اندازہ کرنا خاصا مشکل کام تھا، پاکستان میں اس چیز کا مرکز  میڈیا لاجک ہے اور اس کے سی ای او سلمان دانش اسے چلا رہے ہیں، میڈیا لاجک تشہیری کمپنیوں کو اس حوالے سے ڈیٹا فراہم کرتا ہے کہ کس چینل کو کس عمر کے لوگ کتنی تعداد میں دیکھ رہے ہیں۔

تاہم میڈیا لاجک تنازعات سے پاک نہیں، سن دو ہزار پندرہ میں اس کا ایکسپریس میڈیا گروپ کیساتھ تنازعہ سامنے آیا اور اس پر رشوت دینے، اغواء اور تاوان مانگنے تک کے الزامات لگے، اس سب کے باوجود بھی کمپنی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے ایکشن کے بعد میڈیا لاجک کا رسوخ کم ہوا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نئی کمپنیاں اس میدان میں آئیں اور اب ساری میڈیا ریٹنگز پیمرا کے ذریعے طے پاتی ہیں تاہم اب بھی میڈیا لاجک سے سے آگے ہے جس پر سوال اٹھتے ہیں کہ سملمان دانش کے پاس یہ پاور کہاں سے آئی؟ پہلے ریٹنگز کا نظام کیسے چلتا تھا اور پیمرا کے شامل ہونے کے بعد کس حد تک تبدیل ہوا ہے؟ اور اس انڈسٹری کا مستقبل کیا ہے؟

نیلسن ریٹنگز:

کبھی کبھار کوئی پروڈکٹ کسی کمپنی کے نام کے نیچے دب کر کمپنی کے نام سے ہی جانی جاتی ہے جیسے ’کوک‘ مشہور ہو گیا اور اس کی پروڈکٹ ’کولا‘ اب کوک کے نام سے ہی پہچانی جاتی ہے، کچھ ایسا ہی ٹیلی ویژن آڈی ئینس مئیرمنٹ (ٹی اے ایم) کے سلسلے میں نیلسن کے ساتھ ہوا، نیلسن ریٹنگز کا حساب رکھنے والا پہلی کمپنی تھی اور یہ پیپل میٹر قسم کا کوئی آلہ اس کام کیلئے استعمال کرتی تھی۔ یہ ایک چھوٹا سا باکس ہوتا تھا جو ٹی وی سیٹ کیساتھ لگا ہوتا تھا اور ناظرین کیا چیز زیادہ دیکھنا پسند کرتے ہیں اور کیا کم یہ سب اس چھوٹے باکس میں ریکارڈ ہوتا تھا، ایسے گھرانے کمپنی کو تھوڑی بہت فیس ادا کرتے تھے، نیلسن کمپنی یہی اعدادشمار اکٹھے کرکے تشہیری کمپنیوں کو دے دیتی تھی جس سے انہیں اپنی پروڈکٹ کی تشہیر کیلئے فیصلہ کرنے میں آسانی ہو جاتی تھی۔

سن دو ہزار کے آغاز میں جب پاکستان میں ٹیلی ویژن ترقی کر رہا تھا تو پاکستان ایڈوٹائزرز سوسائٹی نے نیلسن کمپنی کو پیپل میٹر متعارف کرانے کا کہا، دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ایڈورٹائزر جاننا چاہتے تھے کہ کونسے چینل کو کونسی عمر، کلاس، صنف اور علاقے کے لوگ کتنے وقت تک دیکھ رہے ہیں تاکہ وہ اسی چینل کو اپنی پروڈکٹ کی تشہیر کیلئے پیسہ ادا کریں۔

اس اقدام سے قبل پاکستان میں ریٹنگز کیلئے ڈائری کا فرسودہ سسٹم تھا جو اسّی کی دہائی میں متعارف ہوا تھا جس میں ناظرین خود ہی ایک ڈائری پر ٹی وی سے متعلق اپنی پسند نا پسند اور دیگر تفصیلات لکھ کر مہیا کر دیتے تھے، لیکن پاکستان ایڈورٹائزرز سوسائٹی (پاس) کی امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب نیلسن نے پیپل میٹر لگانے سے انکار کردیا حالانکہ وہ سالہا سال سے یہی کام کر رہی تھی تاہم عذر یہ پیش کیا کہ اسے مارکیٹ پر اعتماد نہیں۔

اس حوالے سے جب سلمان دانش سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہر کمپنی سرمایہ کاری کیلئے کچھ نہ کچھ ترجیحات اور خطرات کا تعین کرتی ہے، اس بات کو جواب نیلسن کمپنی ہی دے سکتی ہے انہوں نے پاکستان میں ریٹنگز کیلئے پیپل میٹر لگانے سے انکار کیوں کیا، پاکستان میں جہاں کافی پوٹینشل موجود ہے وہیں سرمایہ کاری کو نقصان پہنچنے کا بھی اتنا ہی احتمال رہتا ہے، اس لیے سرمایہ کار کو سوچنا پڑتا ہے اسکی سرمایہ کاری صحیح جگہ لگ رہی ہے یا کہ وہ نقصان اٹھائے گا۔

’پاس‘ نے نیلسن کے انکار کے بعد ایک دوسری کمپنی کانٹر میدیا سے رابطہ کیا اور انہین پیپل میٹر لگانے پر آمادہ کرنا چاہا لیکن بات چیت بے نتیجہ رہی تو ’پاس‘ کیساتھ پاکستان براڈکاسٹرز ایسویسی ایشن بھی شامل ہو گئی اور انہوں نے بالآخر سلمان دانش کی میڈیا لاجک سے ڈیل کرلی۔

سیمپل کا سائز:

میڈیا لاجک کو کنٹریکٹ ملنے کے بعد کمپنی نے پینتیس سو گھرانوں پر ابتدائی طور پر اسٹیبلشمنٹ سروے کیا جن میں سے پانچ سو گھروں پر میٹر لگانے کا فیصلہ کیا جس سے ایڈورٹائزرز کو ریٹنگز کا پتہ چلنا تھا، اب میڈیا لاجک اٹھارہ ہزار گھروں کے سروے کرکے دو ہزار کا سیمپل لیتا ہے۔

’’منافع‘‘ جو انٹرویو دیتے ہوئے سلمان دانش نے کہا کہ یہ گھرانے آبادی کے سیمپل کے طور پر منتخب کیے جاتے ہیں، وہ کل آبادی میں پائی جانے والی خصوصیات کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں، زیادہ تکنیکی گہرائی میں جائے بغیر میں اسے آسان لفظوں میں یوں بیان کروں گا کہ یہ سارا عمل دو مرحلوں میں کیا جاتا ہے، پہلا مرحلہ اسٹیبلشمٹ سروے کہلاتا ہے، اس میں زیادہ آبادی کا سروے کیا جاتا ہے (ہم اٹھارہ ہزار سے زیادہ گھرانوں کو شامل کرتے ہیں) اور ان کے لائف سٹائل سے لیکر ٹی وی پر کیا دیکھتے ہیں سب تفصیلات اکٹھی کی جاتی ہیں۔ اس سروے کے نتائج سے ہمیں اپنے پیرومیٹرز کے حساب سے آبادی میں صنفی تقسیم، سماجی ومعاشی تفریق اور ٹی اور کیبل دیکھنے والوں سے متعلق معلوم ہو جاتا ہے۔ یہ پھر سیمپل کیلئے ٹارگٹ بھی بن جاتے ہیں، اسی ڈیٹا سے پھر سیمپل منتخب کیا جاتا ہے، مثال کے طور پر اگر اسٹیبلشمنٹ سروے یہ ظاہر کرے کہ کراچی میں پچانوے فیصد گھرانے کیبل کی سہولت رکھتے ہیں، تو ہمارا بھی پچانوے فیصد ایسے ہی گھرانوں پر مشتمل ہو گا جو کیبل تک رسائی رکھتے ہوں۔

حال ہی میں میڈیا لاجک نے کانٹر میڈیا کے ساتھ اشتراک کیا ہے جس کے بعد گو کہ میڈیا لاجک کا کام کرنے کا طریقہ پہلے کی طرح ہے تاہم کانٹر میڈیا بڑے سائز کے سیمپل کیلئے کام کر رہا ہے اور اس نے پاکستان میں ٹیلی ویژن آڈی اینس مئیرمنٹ (ٹام) کیلئے کانٹر باکسز کے نام سے ٹیکنالوجی بھی متعارف کرائی ہے۔ یہ سٹیٹ آف دی آرٹ پیپل میٹر بالکل ویسے ہی ہیں جیسے چین اور یونائٹڈ کنگڈم میں استعمال ہو رہے ہیں۔ سلمان دانش کہتے ہیں کہ کانٹر میڈیا کی جانب سے استعمال کیا جانے والا سافٹ وئیر ہمارے سافٹ وئیر سے زیادہ بہتر ہے۔

توسیع کے باوجود بیس کروڑ کی آبادی والے ملک میں صرف  دو ہزار کا سیمپل کچھ زیادہ قابل قبول نہیں لگتا، اس کےعلاوہ ٹیلی ویژن آڈی اینس مئیرمنٹ کے اعدادوشمار حاصل کرنے کیلئے اختیار کیا گیا سائنسی طریقہ کار بھی کافی مصالحت آمیز نظر آتا ہے۔

پاکستان کے برعکس بھارت میں ٹیلی ویژن دیکھنے والوں کی اعدادوشمار براڈکاسٹ آڈی اینس ریسرچ کونسل (بی اے آر سی) کے ذمے ہیں، سن دو ہزار دس میں قائم ہونے والی یہ دنیا کی سب سے بڑی سروس ہے جو ٹی وی دیکھنے والوں سے متعلق اعدادوشمار فراہم کرتی ہے اور بھارت بھر میں چالیس ہزار گھرانوں کو مانیٹر کرتی ہے۔

بھارت مں آبادی کے لحاظ سے سیمپل کا سائز پاکستان کی نسبت چار گنا بڑا ہے، لیکن سیمپل سائز ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کا ایک سادہ سا سوال ہے، ایڈورٹائزرز جتنا زیادہ ٹام نمبرز میں سرمایہ لگانے پر تیار ہونگے اتنا ہی سیمپل نمبر بڑا ہوتا جائیگا۔

سلمان دانش کیمطابق ’’یہ بات بالکل ٹھیک ہے اور بدقسمتی سے لوگ اسے سمجھ نہیں سکے، جتنا بڑا پینل ہو گا اتنے ہی زیادہ ریسرچ پر اخراجات ہونگے، تاہم اگر ہماری مارکیٹ کی بات کی جائے تو یہ زیادہ آبادی کے باوجود بھی زیادہ بڑی نہیں ہے۔ اس لیے کلائنٹس زیادہ بڑا سیمپل افورڈ  ہی نہیں کرسکتے۔ اس لیے وہ بہت چھوٹے پینل کیساتھ ابتداء کرتے ہیں۔‘‘

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’پہلا اور اہم ترین فیکٹر جو اثرانداز ہوتا ہے وہ مارکیٹ سائز ہے، اگر میڈیا منڈی ترقی کرتی رہے تو پینل کا سائز بھی بڑھے گا، دوسری اہم ترین بات یہ ہے کہ ریسرچ کو کتنی اہمیت دی گئی، یہاں بھی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں لوگ ریسرچ پر زیادہ خرچہ کرنا پسند نہیں کرتے اور اگر مالی بحران چل رہا ہو تو سب سے پہلے ریسرچ اور ایڈورٹائزنگ کا بجٹ ہی ختم کیا جاتا ہے۔ تیسرا اہم ترین فیکٹر پاکستان میں کام کرنے والی بین الاقوامی کمپنیاں ہیں، یہ کمپنیاں ہمارے ڈیٹا کا جائزہ لیتی رہتی ہیں اور ٹی وی ریٹنگ پینلز پر ہونے والے اخراجات پر بھی نظر رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مقامی کلائنٹس کی بجائے زیادہ بڑے پینلز ہر سرمایہ کاری میں دلچسپی لیتے ہیں، پاکستان میں بھی کئی ایسے کلائنٹس ہیں جو پینلز کو توسیع دینے میں کافی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

سلمان دانش سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا چھوٹا سیمپل ایڈورٹائزرز کے اعتماد کی کمی کی وجہ سے تو نہیں، لیکن اس کے باوجود کچھ ایسا ہے کہ میڈیا لاجک ابھی تک اس گیم میں سرفہرست ہے، اے سی نیلسن نے ٹیلیویژن آڈی اینس میئرمنٹ کے میدان میں اس لیے شمولیت اختیار نہیں کی کیونکہ انہیں سن دو ہزار ایک سے مارکیٹ پر اعتماد نہیں تھا۔ جب اے سی نیلسن کے ذمہ داران سے اس حوالے سے بات کرنے کیلئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ وہ ریٹنگز کی فیلڈ میں کام نہیں کر رہے اس لئے کسی قسم کا بیان نہیں دینا چاہتے۔ تاہم کچھ عہدیداروں نے آف دی ریکارڈ بتایا کہ کمپنی کو ناصرف مارکیٹ پر عدم اعتماد تھا بلکہ وہ بین الاقوامی کمپنی کے طور پر خود کو منوانا چاہ رہی تھی اور پاکستان میں ریٹنگز کے گندے دھندے میں قدم رکھنے سے اسی بناء پر گرایزاں تھی۔

عدالتی سماعت:

ستمبر سن دو ہزار اٹھارہ کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے قرار دیا کہ آئندہ ٹیلی ویژن ریٹنگ پیمرا کے ذریعے آئے گی، کسی بھی قسم کی بے ضابطگی سے نمٹنے کیلئے سپریم کورٹ نے ریٹنگز ایجنسیز کو حکم دیا کہ وہ ویورشپ کا مکمل دیٹا پیمرا کو جمع کرائیں اور پیمرا سارا ڈیٹا اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گا اور اس ڈیٹا کو آئندہ آزادانہ ریٹنگز کیلئے استعمال کیا جائیگا۔

عدالت نے ایک سرکاری لائسنس فارم جاری کرنے اور ریٹنگ ایجنسیوں کیلئے کم از کم دو ہزاور کا سیمپل سائز مختص کردیا، گو کہ اس مسئلے کا مرکز سلمان دانش اور ان کی کمپنی میڈیا لاجک تھے تاہم دیگر چھوٹی ریٹنگ کمپنیاں بھی قواعدو ضوابط کی زد میں آ گئیں۔

معاملہ سپریم کورٹ میں تب گیا جب بول ٹی وی انتظامیہ نے الزام لگایا کہ میڈیا لاجک اس کی ریٹنگ کو روک کر پاکستان براڈکاسٹرز ایسویسی ایشن کیساتھ اتحاد کی بناء پر دیگر چینلز کی ریٹنگ زیادہ دکھا رہا ہے۔ عدالت میں کارروائی بالکل ویسے ہی چلی جیسے سابق جسٹس ثاقب نثار کے دور میں چلتی تھی، طاقتوار سلمان دانش کو عدالت کے سامنے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا، توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا، فرانزک آڈٹ اور ان کی کمپنی بند کرنے کی دھمکیاں دی گئیں اور کسی شرارتی بچے کی طرح ان پر بھی لعنت ملامت کی گئی۔

جسٹس ثاقب نے پھر وہ کیا جس کیلئے وہ مشہور تھے، سماعت کے دوران میڈیا لاجک کی اجارہ داری پر کافی ہتھوڑے برسائے، لیکن جب فیصلہ کا وقت آیا تو صرف اتنا ہوا کہ پیمرا کو اس سارے منظر نامے کا حصہ بنا ڈالا، عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ آئندہ ریٹنگز میں پی بی اے  کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے، اس کا تو سیدھا مطلب یہی تھا کہ سلمان دانش کو مزید اثرورسوخ اور طاقت دے دی گئی، لیکن جب ’’بول‘‘ کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ اس طرح تو ایک نئی اجارہ داری قائم ہونے جا رہی ہے تو عدالت نے کہا کہ معاملہ نمٹایا جا چکا ہے اب کچھ نہیں ہو سکتا۔

ٹیلی ویژن آڈی اینس میئرمنٹ بزنس میں کسی ایک کی اجارہ داری کا دفاع کرتے ہوئے سلمان دانش نے اصرار کیا کہ ڈیٹاکرنسی بنانا ٹھیک رہیگا، ’’ٹی وی ریٹنگز بزنس کا یہ بہت دلچسپ پہلو ہے، دنیا بھر میں صرف ایک ٹی وی ریٹنگز ڈیٹا کرنسی رکھنا بہتر سمجھا جاتا ہے جس پر تمام ایڈورٹائزرز اور براڈکاسٹرز متفق ہوتے ہیں، ہر سال ٹینڈر دیا جاتا ہے اور سب سے موثر پلان کیساتھ آنے والے کو کنٹریکٹ دیا جاتا ہے، کچھ سال بعد یہی طریقہ کار دہرایا جاتا ہے تاکہ صحتمند مقابلے کی فضاء برقرار رہے اور ریٹنگز جانچنے والی کمپنیاں جدید طریقہ کار سے ہم آہنگ ہو جائیں۔‘‘

سپریم کورٹ نے محسوس کیا کہ یہی طریقہ کار پاکستان میں بھی اپنایا جانا چاہیے تاہم یہ کام زیادہ کمپنیاں کریں اور پیمرا ان پر ایک ریگولیٹری باڈی کا کردار ادا کرے، نئے طریقہ کار کے مطابق بھی میڈیا لاجک پیمرا سے لائسنس حاصل کرنے والی پہلی کمپنی بن گئی، سلمان دانش کے مطابق ’’اب تک پیمرا کے ساتھ ہمارا تجربہ کافی مثبت رہا ہے اور ہم پیمرا کے قواعدوضوابط کے مطابق ڈیٹا فراہم کر ہے ہیں۔‘‘

یہ پہلی دفعہ نہیں تھا کہ میڈیا لاجک تنازع کا شکار ہوئی بلکہ سن دو ہزار پندرہ میں سلمان دانش نے ایکسپریس میڈیا گروپ پر میڈیا لاجک کے ملازمین کو رشوت دیکر اپنے پروگراموں کی ریٹنگ بڑھانے کا الزام لگایا، اس کے بعد ایک طوفان کھڑا ہو گیا، ایکسپریس گروپ نے بھی اسی پتھر سے نشانہ باندھا اور دعویٰ کیا کہ سلمان دانش ان سے ساڑھے چار سو ملین روپے تاوان مانگ رہے تھے اور وہ اغواء برائے تاوان اور بلیک میلنگ سمیت دیگرغیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

حقیقت یہی ہے کہ پیپل میٹرز میں بآسانی جوڑ توڑ یا جا سکتا ہے اور اگر ڈیٹا ایک ہی شخص کے کنٹرول میں ہو غلط کام کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، بول اور ایکسپریس کیساتھ جو کچھ ہوا وہ علیحدہ کہانیاں ہیں۔

سن دو ہزار بارہ میں ایک پاکستانی میگزین نے میڈیا لاجک اور پیپل میٹرزپر کافی کچھ لکھا، میگزین کی رپورٹ میں پیپل میٹرز پر کافی زیادہ عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا، تنازعے کی جڑ دو مسائل تھے: ریٹنگز کا غیر متوقع طور پر بڑھنا اور گھٹنا جس کی وجہ سے لوگوں کو لگتا تھا کہ کچھ چینلز ریٹنگ خریدتے ہیں۔ دو مسئلہ یہ کہ ڈیٹا فراہمی میں تاخیر کی جاتی تھی جس کہ وجہ سے لگتا تھا کہ ڈیٹا کیساتھ کچھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے، میڈیا لاجک ایک دن کی تاخیر سے ڈیٹا فراہم کرتی تھی۔

اس حوالے سے سلمان دانش کہتے ہیں کہ ’’ منظر عام پر زیر بحث مسائل کے علاوہ بھی ایسے بہت سے مسائل ہیں جن پر بات نہیں ہوتی، اگرچہ کوئی بھی ٹھیک نام یا اعدادوشمار فراہم نہیں کرتا، بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ پینل پر ٹمپرنگ ہوتی ہے۔ سسٹم کے غیر منظم ہونے پر بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ یہ بڑے میڈیا اداروں اور تشہیری ایجنیسوں کے مفاد میں ہے اس لیے ایسا رکھا گیا ہے۔‘‘

حالات اب بھی ویسے ہیں، میڈیا ادارے کہتے ہیں کہ اب بھی ڈیٹا آنے میں تین دن لگ جاتے ہیں، میڈیا لاجک کہتی ہے کہ انہیں ایک دن کی تاخیر اس لیے ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے ڈیٹا کو سکرین کرنا ہوتا ہے لیکن اس پر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ  جب سارا ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ ہوتا ہے تو پھر کیا چیک کیا جا رہا ہوتا ہے؟

ایک بڑے میڈیا گروپ کے مالک نے نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر منافع کو بتایا کہ ’’صورتحال پہلے ہی خراب تھے اب پیمرا کے آ جانے سے مزید خراب ہو جائیگی، کیونکہ پیمرا کا اس معاملے میں کردار سنسرشپ کا ایک اور ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ پیمرا ریٹنگز کے حوالے سے جو کہے گا وہی ماننا ہوگا۔ اکیلے سلمان دانش کی بجائے اب یہ سلمان دانش اور پیمرا دونوں کا گٹھ جوڑ بن گیا ہے، پہلے ایک شخص اعدادوشمار کیساتھ کھیلتا تھا اب دو یا تین ہو گئے ہیں۔ اور تشہیری کمپنیوں کو بھی ان پر یقین کرنا ہوگا۔‘‘

تاہم سلمان دانش نے ان باتوں کو غلط قرار دیا، انہوں نے کہا کہ گزشتہ بارہ سال کے دوران ایک دو بار ایسا ہوا ہو گا کہ ڈیٹا ایک دن کے وقفے سے فراہم نہ کیا گیا ہو، یہ بھی تب ہوا جب کوئی تکنیکی مسئلہ آڑے آتا تھا۔ مثال کے طور کبھی کبھار حکومت مختلف شہروں میں موبائل سروس بند کر دیتی تھی جس کی وجہ سے ہم اس دن ڈیٹا اکٹھا نہیں کرسکتے تھے اورظاہر ہے جب تک ڈیٹا جمع نہیں کریں گے تو ریلیز کیسے کریں گے۔ ایسا کوئی مسئلہ نہ ہو تو ہم لازمی طور پر اگلے دن ڈیٹا فراہم کر دیتے ہیں۔ میرا نہیں خیال کے سن دو ہزار پندرہ کے بعد ایسا کوئی مسئلہ درپیش رہا ہو کیونکہ تب سے کانٹر ٹیکنالوجی پر منتقلی کی وجہ سے ہماری ڈیٹا جمع کرنے کی صلاحیت بہتر ہوئی ہے۔

مستقبل کیا ہوگا؟

ٹیلی ویژن آڈی اینس میئرمنٹ سروسز کا مستقبل بھی سوالیہ نشان ہے۔ اس آرٹیکل کے شروع میں ہم نے بات کی تھی کہ اب اشتہاری صنعت بدل رہی ہے، اب اشتہارات کیلئے مختلف ڈیموگرافکس کا ہدف رکھنے کی بجائے براہ راست ایک ایک کنزیومر تک پہنچا جا سکتا ہے۔

ارورا میگزین کے مطابق پاکستان میں اشتہارات میں گزشتہ ایک سال کے دوران سات فیصد کمی ہوئی ہے، تیس جون سن دو ہزار سترہ تک یہ اخراجات سالانہ ستاسی ارب روپے تھے لیکن مالی سال دو ہزار اٹھارہ کے اختتام تک اکیاسی ارب روپے تک آ گئے۔ اس کے برعکس ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ کی مارکیٹ میں چھیالیس فیصد اضافہ ہوا۔ سن دو ہزار سولہ میں ستائیس فیصد، دو ہزار سترہ میں بائیس فیصد اور دو ہزار اٹھارہ میں چھالیس فیصد اضافہ ہوا۔

یہاں تک کہ ٹی وی کی دنیا میں کہا جانے لگا ہے کہ ڈی ٹی ایچ کے پھیلائو کی وجہ سے ٹیلیویژن آڈی اینس میئرمنٹ ایک ہی جھٹکے میں کم ہو سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے سلمان دانش کا کہنا تھا کہ ’’ کہ ڈی ٹی ایچ کمپنیوں کے پاس موجود ڈیٹا ہمارے ڈیٹا سے بالکل مختلف نوعیت کا ہوتا ہے، ڈی ٹی ایچ ڈیٹا ساری آبادی کو بالکل بھی ظاہر نہیں کرتا بلکہ ایک مارکیٹ کے ایک چھوٹے حصے کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ یہ انفرادی ڈیٹا نہیں بلکہ پورے گھرانے کا ڈیٹا ہوتا ہے اور تشہیری کمپنیوں کو اس کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی۔ تیسری بات یہ کہ یہ ڈسٹری بیوشن پلیٹ فارم ڈیٹا ہوتا ہے اور دیگر پلیٹ فارمز جیسا کہ کیبل، آئی پی ٹی وی وغیرہ سے کافی الگ ہوتا ہے۔ اس لیے ڈی ٹی ایچ ڈیتا کو ریٹگنز کے زمرے میں کبھی بھی کرنسی نہیں سمجھا گیا۔‘‘

سلمان دانش اپنی ٹیکنالوجی کے حوالے سے پراعتماد اور اپنی کمپنی کا مستقبل کافی محفوظ دیکھ رہے ہیں، تاہم پاکستان میں میڈیا ریٹنگز پر ایک پراسراریت کا جال تنا ہوا ہے۔ پیمرا اب بھی اعدادوشمار جمع اور تقسیم کرنے کا ذمہ دار ہے اور میڈیا لاجک سمیت دیگر کمپنیاں اب ایسا نہیں کر سکتی ہیں۔

سن دو ہزار بارہ میں ایک جوائنٹ انڈسٹری کمیٹی کی تجویز بھی زیر غور رہی، لیکن صرف ایک مسئلہ تھا کہ کسی نہ کسی فریق کو نمبرز کی شفافیت کے حوالے سے اعتراضات تھے۔ حالانکہ بھارت میں بھی ایسی ہی ایک کمیٹی بارک کے نام سے کام کر رہی ہے جس میں سارے میڈیا ہائوسز شامل ہیں۔ لیکن پاکستان میں اب عدالتی فیصلے کے بعد اس کمیٹی کے قیام کی راہیں بھی مسدود ہو چکی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here