معاشی صورتحال تشویشناک، ہمارے پاس استعداد ہی نہیں کہ ڈالر حاصل کرکے قرضہ اتار سکیں: مشیر خزانہ

227

کراچی: مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی صورتحال بہت تشویشناک ہے، ہم ماضی کا قرضہ ادا کرنے کیلئے نیا قرضہ لے رہے ہیں۔ پچھلے 5 سالوں میں برآمدات میں اضافہ صفر فیصد ہے، ہمارے پاس استعداد ہی نہیں ہے کہ ہم ڈالر حاصل کرکے اپنا قرضہ ادا کرسکیں۔

کراچی میں صحافیوں سے گفتگو میں مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ہم نے سول حکومت کے اخراجات 50 ملین کم کیے ہیں جبکہ فوج کے بجٹ میں بھی اضافہ نہیں کیا گیا. گریڈ 20 سے اوپر کے افسران کی تنخواہوں میں بھی اضافہ نہیں کیا ہے، یہ فیصلہ افواج کے افسران پر بھی لاگو ہوگا۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ اگر تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ہمیں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑتا ہے، اگر بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ہم نے کم بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے بجٹ میں 200 ارب روپے رکھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ چند کمپنیاں 80 فیصد ٹیکس دیں اور 50 ملین بینک اکاؤنٹس میں سے صرف 1 ملین ہی ٹیکس ادا کریں. ہم اپنے اخراجات اور آمدن کے گیپ کو کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، کاروباری طبقے کو برآمدات میں اضافے کے لیے مراعات دے رہے ہیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ اگر کسی نے 45 دن میں ریٹرن فائل نہیں کیا تو وہ خود بخود فائلر بن جائے گا، اگر آپ کے پاس 25 لاکھ روپے کی گاڑی ہے تو آپ کو بتانا ہوگا آپ نے یہ گاڑی کہاں سے خریدی، ہم نان فائلر کی کٹیگری ختم کررہے ہیں، ہم ایکسپورٹ پر کوئی ٹیکس نہیں لیں گے لیکن اگر آپ ملک میں اپنی مصنوعات فروخت کررہے ہیں تو آپ کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی صورتحال بہت الارمنگ ہے، ترقی کا سنگ میل حاصل کرنے کے لیے ہمیں بہت کچھ کرنا ہوگا. ہم نے مشکل فیصلہ کیا ہے، ہمارے پاس دو راستے تھے جیسے چل رہا ہے چلنے دیتے اور ہمیشہ کیلیے چلتے جاتے، ہم اخراجات کم کرنے کی پالیسی پر جارحانہ انداز میں عمل کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے 5 سالوں میں برآمدات میں اضافہ صفر فیصد ہے، ہمارے پاس استعداد ہی نہیں ہے کہ ہم ڈالر حاصل کرکے اپنا قرضہ ادا کرسکیں۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سب پوچھتے ہیں کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس کیوں گئے، ہم اس لیے گئے کہ آئی ایم ایف کم سود پر قرضہ دیتا ہے، آئی ایم ایف کے ذیلی اداروں سے مزید دو تین ارب ڈالر حاصل کرسکیں اور دنیا کو بتا سکیں کے ہم معاشی اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here