وزیراعظم آفس اور این ڈی ایم اے کےبجٹ کو ملا کر بتانے والے گمراہ کر رہے ہیں، وزارت خزانہ

81

وزارت خزانہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وزیراعظم اپنی ذات سے متعلقہ اخراجات خود برداشت کر رہے ہیں۔ وزیراعظم آفس اور نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) کےبجٹ کو ملا کر نہ پڑھا جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق وزیراعظم آفس کا بجٹ برائے مالی سال 2019-20ءچھیاسی کروڑ اٹھائیس لاکھ روپے ہے۔
وزارت خزانہ نے 12 جون 2019ء کو ایک مقامی اخبار میں شائع ہونے والی خبر میں وزیراعظم آفس کا بجٹ برائے مالی سال 2019-20ءکو ایک ارب 17 کروڑ بتایا گیا جو کہ گزشتہ بجٹ کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے۔
وزارت خزانہ نے سختی سے تردید کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم آفس کے بجٹ میں دیگر اداروں کے بجٹ کو ظاہر کرتے ہوئے معاملے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے جو کہ موجودہ حکومت کی کفایت شعاری مہم کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا بجٹ 30 کروڑ 90 لاکھ روپے ہے اور ان دونوں رقوم کا مجموعہ ایک ارب 17 کروڑ روپے ہی بنتا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی بجٹ 2019ءجلد اول (جاری اخراجات) صفحہ نمبر 302 سے صفحہ نمبر 310 تک رجوع کیا جا سکتا ہے۔ صفحہ نمبر 303 سے صفحہ نمبر 308 تک وزیراعظم آفس کے بجٹ کی تفصیلات موجود ہیں جبکہ صفحہ نمبر 308 اور 309 پر این ڈی ایم اے کا بجٹ درج ہے ۔
محکمہ خزانہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ وزیراعظم آفس کے بجٹ میں این ڈی ایم اے کے بجٹ کو ملا کر عوام کو گمراہ نہ کیا جائے۔این ڈی ایم اے وزیراعظم آفس کا ماتحت ادارہ ہے لہذا ان دونوں کے بجٹ کو آپس میں ملایا نہ جائے۔
مزید برآں وزارت خزانہ نے اس بات کی وضاحت بھی کی ہے کہ مالی سال 2018-19ءکے لئے مختص شدہ بجٹ برائے وزیراعطم آفس تقریباً ایک ارب 11 کروڑ روپے تھا۔
وزیراعظم کی کفایت شعاری مہم کی وجہ سے وزیراعطم آفس نے صرف 75 کروڑ روپے کے اخراجات کر کے موجودہ مالی سال میں 32 فیصد اخراجات کی بچت کی ہے۔
وزیراعظم آفس کا نئے مالی سال برائے 2019-20ءکا بجٹ 86 کروڑ 28 لاکھ روپے ہے جو کہ پچھلے مالی سال کے بجٹ کے مقابلے میں 13 فیصد کم ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق اگر ماضی میں وزیراعظم آفس کے اخراجات کا جائزہ لیا جائے تو مالی سال 2019-20ءکا بجٹ سابقہ مالی سال 2014-15ءکے بجٹ سے بھی کم ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے اور کابینہ کی تمام صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ کرتے ہوئے وزیراعظم آفس سے سب سے پہلے 6 کروڑ روپے کے صوابدیدی فنڈزختم کئے۔
اگلے مالی سال کے لئے وفاقی حکومت کے جاری اخراجات کو 480 ارب روپے سے کم کر کے 431 ارب روپے پر مختص کیا گیا ہے۔
ایک اور غیر معمولی مثال فوجی بجٹ کو گزشتہ سال کے بجٹ پر منجمند کرنا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ وزیراعظم ہاﺅس کے اخراجات کا براہ راست وزیراعظم کی ذات سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اپنی ذات سے متعلقہ اخراجات وزیراعظم خود برداشت کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here