ٹیکس وصولی میں کسی کو ناراض کرنا پڑا تو تیار ہیں، مشیر خزانہ

188

سیاست سے بالا تر ہوکر ملکی مفاد کو دیکھنا ہوگا۔ ٹیکس وصولی میں کسی کو ناراض کرنا پڑا تو تیار ہیں، مشیر وزیراعظم برائے خزانہ حفیظ شیخ
اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں ہمارے ملک میں امیر طبقہ کم ٹیکس دیتا ہے۔ ہمارے یہاں ٹیکس کی شرح 11، 12 فیصد ہے جو دنیا کی کم ترین شرح میں سے ایک ہیں۔ یہ ناقابل قبول ہے اور ٹیکس وصولی کیلئے کچھ لوگوں کو ناراض کرنا پڑا تو ہم تیار ہیں۔
حفیظ شیخ نے کہا کہ کسی اور سے قربانی مانگنے سے قبل خود قربانی دینا ہوتی ہے۔ اس کے لیے ہم نے کفایت شعاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سول حکومت کے اخراجات کو 468 ارب سے کم کرکے 431 ارب کردیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلح افواج نے بجٹ کو گزشتہ سال کی سطح پر قبول کیا اور اس میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ یہ دنیا اور پاکستان کے لوگوں کے لیے ایک بہت اچھا پیغام ہے کہ کس طرح حکومت کے اخراجات کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے آنے سے پہلے 10 کروڑ ڈالر کے غیر ملکی قرضے لیے ہوئے تھے اور ان کی ادائیگی ڈالر میں ہی کرنا تھی جبکہ ڈالر کمانے کی صورتحال ایسی تھی کہ برآمدات کی ترقی صفر تھی اور تجارت کا فرق 40 ارب ڈالر کے قریب تھا۔ ماضی کے قرضوں کا سود ادا کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے مزید قرض لیا۔ ہم نے دیگر لوگوں کے لیے گئے قرضے واپس کرنے ہیں کیونکہ پاکستان دیوالیہ نہیں ہوسکتا اور ماضی کے قرضوں کا سود ادا کرنے کے لیے 2 ہزار 900 ارب روپے رکھے جارہے ہیں۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ مشکل معاشی حالات سے گزرنے کے باوجود کمزور اور غریب طبقے کو فائدہ پہنچنا چاہیے اور انہیں یہ احساس نہیں دلانا چاہیے کہ ہم انہیں بلا چکے ہیں۔ اسی کے لیے ہم نے سماجی تحفظ کے موجودہ بجٹ کو 100 ارب سے بڑھا کر 191 ارب کردیا ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم 5 ہزار سے بڑھاکر 5500 کردی ہے جبکہ 80 ہزار افراد کو کاروباری قرضے دیے جائیں گے۔
حفیظ شیخ نے کہا کہ قرضوں کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے کمیشن کا طریقہ کار طے کرنا باقی ہے۔ ہمیں ماضی میں لیے گئے قرضوں کی ذمے داری کا تعین کرنا ہوگا۔ چینی کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ لیکن کنٹرول کریں گے۔ محصولات کے اہداف کو حاصل کیے بغیر اپنے پاؤں پر نہیں کھڑے ہوسکتے۔
انہوں نے کہا کہ ری فنڈ کے سلسلے کو بہتر کرنے کی گنجائش ہے۔ بنگلہ دیش اور چین کے ری فنڈ ماڈل کو اپنانے کی کوشش کریں گے۔ نان فائلر گاڑی اور جائیداد خرید کر خود بخود فائلر بن جائے گا۔ تیل کی قیمت بڑھنے پر چھوٹے صارفین کے لیے 216 ارب رکھے ہیں۔ 1655 ٹیرف لائن میں ٹیکس کی چھوٹ دی ہے۔ پاکستان میں نہ بننے والے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی ختم کردی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here