وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کا بجٹ پیش کردیا، دفاعی بجٹ برقرار، سول بجٹ میں کمی، اپوزیشن کا احتجاج

219

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی سال 20-2019 کا بجٹ پیش کردیا، قومی اسمبلی میں بجٹ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے پاکستان تحریک انصاف حکومت کا پہلا مکمل بجٹ پیش کیا، ان کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے بھر پور احتجاج کیا گیا.

وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے بجٹ تقریر میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ایک نئے سفر کا آغاز ہوا ہے، تحریک انصاف نئی سوچ، نیا عزم اور ایک نیا پاکستان لائی ہے، عوام ہمیں یہاں لائے ہیں اور اب عوام کی زندگیاں بدلنے، اداروں میں میرٹ لانے کا اور کرپشن ختم کرنے کا وقت ہے.

بجٹ کے اہم نکات:
سول اور عسکری بجٹ میں کمی کا فیصلہ کیا گیا.
سول بجٹ 460 ارب روپے سے کم کر کے 437 ارب روپے کر دیا گیا.
دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے برقرار رکھا گیا.
غربت کے خاتمے کے لیے راشن کارڈ اسکیم شروع کرنے کا اعلان
قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1800 ارب رکھے گئے.
950 ارب روپے وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے رکھے گئے ہیں
دیامیر بھاشا ڈیم کی زمین کے حصول کیلئے 30 ارب اور مہمند ڈیم کیلئے 15 ارب روپے رکھنے کی تجویز
کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 45.5 ارب روپے تجویز
کامیاب جوان پروگرام کے تحت 100 ارب روپے تک کے سستے قرض دیئے جائیں گے
اعلیٰ تعلیم کے لیے 45 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں
وفاقی کابینہ نے اپنی تنخواہوں میں رضاکارانہ 10 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے
کم سے کم تنخواہ 17500 روپے کرنے کی تجویز کی گئی ہے
گریڈ ایک سے 16 تک کے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان
بی آئی ایس پی کا وظیفہ 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 5500 کر دیا گیا
وفاقی بجٹ کا خسارہ 3560 ارب روپے رکھا گیا ہے
بجلی چوری کے خلاف مہم کے دوران چھ ماہ میں 80 ارب وصول کیے گئے
خشک دودھ، پنیر، کریم پر 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی

بجٹ تقریر میں حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ہم سب اس ملک اور آئین کے محافظ ہیں، اس حکومت کےمنتخب ہوتے وقت پائی جانے والی معاشی صورتحال کو یاد کریں اور کچھ حقائق بتانے کی اجازت دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مجموعی قرض اور ادائیگیاں 31 ہزار ارب روپے تھی اور 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ جات اور ادائیگیاں تھی اور بہت سے تجارتی قرضے زیادہ سود پر لیے گئے، گزشتہ 5 سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں تھا، جبکہ حکومت کا مالیاتی خسارہ 2 ہزار 260 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔

وزیر مملکت نے بتایا کہ جب تحریک انصاف کو حکومت ملی تو بجلی کے نظام کا گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا اور 38 ارب ماہانہ کی شرح سے بڑھ رہا تھا، سرکاری اداروں کی کارکردگی 1300 ارب روپے کے مجموعی خسارے سے ظاہر تھی، پاکستانی روپے کی قدر بلند رکھنے کے لیے اربوں ڈالر جھونک دیئے گئے، اس مہنگی حکمت عملی سے برآمدات کو نقصان پہنچا، درآمدات کو سبسڈی ملی اور معیشت کو نقصان ہوا، ایسا زیادہ دیر نہیں چل سکتا تھا اس لیے دسمبر 2017 میں روپیہ گرنے لگا اور ترقی کا زور ٹوٹ گیا، چیزوں کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا تھا اور افراط زر 6 فیصد کو چھو رہی تھی۔

حماد اظہر نے کہا کہ ملک میں ٹیکس وصولی کم ہے، نئے پاکستان میں اس کو بدلنا ہوگا، جب تک ٹیکس نظام میں بہتری نہیں آئے گی پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، سول و عسکری بجٹ میں کفایت شعاری کے ذریعے بچت کی جائے گی۔

وزیر مملکت نے کہا کہ کمزور طبقوں کے تحفظ کے حوالے سے 4 مختلف تجاویز کا ذکر کروں گا، بجلی کے صارفین میں 75 فیصد ایسے ہیں جو ماہانہ 300 یونٹ سے کم استعمال کر رہے ہیں حکومت انہیں خصوصی تحفظ فراہم کرے گی، اس مقصد کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے غربت کے خاتمے کے لیے ایک علیحدہ وزارت قائم کی ہے جو ملک میں سماجی تحفظ کے پروگرام بنائے گی اور ان پر عملدرآمد کرے گی، احساس پروگرام سے مدد حاصل کرنے والوں میں انتہائی غریب، یتیم، بے گھر، بیوائیں، معذور اور بے روزگار افراد شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 10 لاکھ مستحق افراد کو صحت مند خوراک فراہم کرنے کے لیے ایک نئی ‘راشن کارڈ اسکیم’ شروع کی جارہی ہے، جس کے تحت ماؤں اور بچوں کو خصوصی صحت مند خوراک دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 80 ہزار مستحق افراد کو ہر مہینے بلاسود قرضے دیئے جائیں گے، 60 لاکھ خواتین کو ان کے اپنے سیونگ اکاؤنٹس میں وظائف کی فراہمی اور موبائل فون تک رسائی دی جائے گی، 500 کفالت مراکز کے ذریعے خواتین اور بچوں کو فری آن لائن کورسز کی سہولت دی جائے گی، معذور افراد کو وہیل چیئر اور سننے کے لیے آلات فراہم کیے جائیں گے۔

حماد اظہر نے کہا کہ تعلیم میں پیچھے رہنے والے اضلاع میں والدین کو بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے خصوصی ترغیب دی جائے گی، جبکہ عمر رسیدہ افراد کے لیے احساس گھر بنانے کا پروگرام شروع کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام کے تحت بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے 57 لاکھ انتہائی غریب گھرانوں کو فی سہ ماہی 5000 روپے نقد امداد دی جاتی ہے جس کے لیے 110 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، افراط زر کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے سہ ماہی وظیفے کو بڑھا کر 5500 مقرر کیا گیا ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ غریبوں کی نشاندہی کے لیے سماجی اور معاشی ڈیٹا کو اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے جو مئی 2020 تک مکمل ہوگا، اس دوران 3 کروڑ 20 لاکھ گھرانوں اور 20 کروڑ آبادی کا سروے کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 50 اضلاع میں ‘بی آئی ایس پی’ سے بچیاں 750 روپے وظیفہ حاصل کرتی ہیں، اس پروگرام کو مزید 100 اضلاع تک توسیع دی جارہی ہے اور بچیوں کے وظیفے کی رقم 750 سے بڑھا کر 1000 تک کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صحت سہولت پروگرام کے تحت غریب افراد کو صحت کی انشورنس فراہم کی جاتی ہے، مستحق افراد کو صحت کارڈ فراہم کیے جاتے ہیں جن سے وہ ملک بھر سے منتخب 270 ہسپتالوں سے 7 لاکھ 20 ہزار روپے کا سالانہ علاج کروا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پاکستان کے 42 اضلاع میں 32 لاکھ خاندانوں کو صحت انشورنس کی سہولت فراہم کی جارہی ہے، اگلے مرحلے میں اسے ڈیڑھ کروڑ پسماندہ خاندانوں تک توسیع دی جائے گی، اس پروگرام کا اطلاق تمام اضلاع بشمول تھرپارکر اور خیبر پختونخوا کے خاندانوں پر ہوگا۔

حماد اظہر نے کہا کہ زراعت صوبائی محکمہ ہے تاہم اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور اس میں ترقی کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے 10.4 ارب روپے سے کوئٹہ ڈیولپمنٹ پیکج کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا ہے، یہ رقم 30 ارب روپے کے پانی اور نکاسی کے منصوبوں سے الگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے 9 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 45.5 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔

روزگار کے لیے وزیر اعظم کے ’50 لاکھ گھر پروگرام’ سے 28 صنعتوں کو فائدہ ہوگا اور بے روزگاروں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، اس کے لیے زمینیں حاصل کرلی گئی ہیں اور سرمایہ کاری کے انتظامات مکمل کیے جارہے ہیں، یہ سلسلہ ملک بھر میں پھیلے گا، پہلے مرحلے میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے لیے 25 ہزار اور بلوچستان میں 1 لاکھ 10 ہزار ہاؤسنگ یونٹ کا افتتاح کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے کاروبار کے لیے سستے قرضے کی اسکیم کے تحت 100 ارب روپے دیئے جائیں گے۔

صنعتی شعبے کے لیے مراعات اور سبسڈی دی جارہی ہیں جس میں بجلی اور گیس کے لیے 40 ارب کی سبسڈی، برآمدی شعبے کے لیے 40 ارب روپے کا پیکج اور حکومت طویل المدتی ٹریڈ فنانسنگ کی سہولت برقرار رکھے گی۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ رواں سال زرعی شعبے میں 4.4 فیصد کمی ہوئی ہے، اسے واپس اوپر اٹھانے کے لیے صوبائی حکومتوں سے مل کر 280 روپے کا 5 سالہ پروگرام شروع کیا جارہا ہے، اس پروگرام کے تحت پانی سے زیادہ سے زیادہ پیداوار کے لیے پانی کا انفراسٹرکچر بنایا جائے گا اور اس کے تحت 218 ارب روپے کے منصوبوں پر کام ہوگا، گندم، چاول، گنے اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے 44.8 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کیکڑے اور ٹھنڈے پانی کی ٹراؤٹ مچھلی کی فارمنگ کے منصوبوں کے لیے 9.3 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے، گھریلو مویشی کے پالنے کے لیے 5.6 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ زرعی ٹیوب ویلوں پر 6.85 روپے فی یونٹ کے حساب سے رعایتی نرخ فراہم کیے جائیں گے۔

2 تبصرہ

  1. […] گئے ہیں وہیں کچھ چیزوں پر ٹیکس چھوٹ بھی تجویز کی گئی ہے وزیر مملکت برائے ریوینیو حماد اظہر نے تقریباً 50 فیصد ما… وفاقی حکومت نے سالانہ بجٹ میں کوکنگ آئل، گھی، چینی، […]

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here