معیشت کو دستاویزی شکل دینے، ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے جامع حکمت عملی پر غور، انکم ٹیکس 29 فیصد سے 35 فیصد تک کیا جا سکتا ہے

حکومت تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، بیوٹی پارلرز، ایس ایم ایز، بلڈرز، ڈویلپرز اور جیولرز کے لئے خصوصی ٹیکس قوانین پر غور کر رہی ہے: ایف بی آر ذرائع

217

اسلام آباد: حکومت نے معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرنے کے لئے جامع حکمت عملی پر عمل شروع کر دیا ہے اور آئندہ بجٹ میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے ذریعے فنانس بل2019ء میں چار نئے شیڈولز متعارف کئے جا سکتے ہیں.

ایف بی آر کے مطابق کارپوریٹ اور انفرادی انکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد سے بڑھا کر35 فیصد تک لانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے.

معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور ٹیکس کی بنیاد وسیع کرنے سے معاشی اہداف کے حصول میں مدد ملے گی. فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ذرائع کے مطابق معاشی سرگرمیوں کا ڈیٹا ایک جگہ اکٹھا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے محصولات کی وصولی بڑھانے میں مدد ملے گی اور اس ڈیٹا کو مربوط خود بنا کر کر ایف بی آر ، نادرا اور دیگر اداروں کی معاونت سے معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکے گی۔

ایف بی آر کے مطابق ٹیکس دینے والے افراد کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دی جائیں گی، معیشت کو دستاویزی بنانے کے ساتھ ساتھ ٹیکس کی بنیاد میں بھی اضافہ ہوگا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔

حکومت ٹیکسیشن کے نظام کو سادہ بنانے کے لئے بھی اقدامات کر رہی ہے اور موجودہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم ماضی کی سکیم سے بالکل مختلف ہے، موجودہ سکیم میں کالے دھن کو پیداواری شعبے کی طرف مرکوز کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔

علاوہ ازیں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ءکے ذریعے فنانس بل2019ءمیں چار نئے شیڈولز متعارف کئے جا سکتے ہیں۔ فیڈل بورڈ آف ریونیو کے ذرائع کے مطابق حکومت اس وقت تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، بیوٹی پارلرز، چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں (ایس ایم ایز)، بلڈرز، ڈویلپرز اور جیولرز کے لئے خصوصی ٹیکس کے قوانین پر غور کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق کاروبار کو پروفیشنل بنانے کے مقصد کے تحت مخصوص ٹیکس قوانین سے قانونی تقاضوں پورے ہوں گے کیونکہ کچھ ٹیکسز ادا کرنے کے بعد کم از کم وہ ٹیکس عدم ادائیگی کی فہرست سے بھی نکل جائینگے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here