مارکیٹ سپورٹ فنڈ کا نام بدل کر بروکر سپورٹ فنڈ رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کا مارکیٹ سے کوئی تعلق نہیں، صدر پاکستان اکانومی واچ

48

اسلام آباد: ایک بیان میں صدر پاکستان اکانومی واچ نے کہا کہ اوگرا حکومت کی سرپرستی میں عوام اور معیشت دشمن ادارہ بن چکا ہے جس کا واحد مقصد عوام کو لوٹنا ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں مگر پاکستان میں الٹی گنکا بہہ رہی ہے۔
پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ حکومت تبدیلی کے نعرے پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کرتے ہوئے اشرافیہ کے قربانی مانگے کیونکہ غریب عوام اب مزید قربانیاں دینے کے قابل نہیں رہے ہیں، عوام روٹی کو ترس رہے ہیں جبکہ حکومت کے مطابق انہیں ریلیف دینے کے لئے وسائل نہیں ہیں، مگر ارب پتی بروکروں کو بیل آوٹ کرنے کے لئے راتوں رات بیس ارب روپے کا انتظام ہوجاتا ہے جو تشویشناک ہے، حکومت کا عجلت میں کیا گیا یہ فیصلہ غریب عوام کو کبھی ہضم نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ تمام حکومتی عہدیدار وسائل کی کمی کا رونا رو رہے ہیں اور اہم شعبوں میں کٹوتیاں کی جا رہی ہیں، تاہم ارب پتیوں کو نقصانات سے بچانے کے لئے نہ وسائل کی کوئی کمی ہے نہ منظوری میں کوئی دقت حائل ہے بلکہ قوانین بھی فوری طور پر نرم کردیئے جاتے ہیں جو حیران کن ہے، اگر حکومت کے پاس وسائل کی کمی ہے تو ان وسائل کو احتیاط سے عوامی فلاح کے لئے استعمال کرنا چاہیئے نہ کہ اشرافیہ پر بے دریغ نچھاور کئے جائیں، اس سلسلہ میں ریگولیٹر کی رائے لینے کی زحمت بھی گوارا نہ کی جائے۔
مرتضیٰ مغل نے کہا کہ مارکیٹ سپورٹ فنڈ کا نام بدل کر بروکر سپورٹ فنڈ رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کا مارکیٹ سے کوئی تعلق نہیں بنتا، اس فنڈ کا قیام حکومت کے دعووں اور اقتصادی ایجنڈے کی نفی ہے، اسی بااثر مافیا کو نوازا جا رہا ہے جس نے بار بار اسٹاک مارکیٹ کو کریش کرکے عوام اور چھوٹے انوسٹرز کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچایا اور ہر بار قانونی کاروائی سے صاف بچ نکلے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کو ظلم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اوگرا حکومت کی سرپرستی میں عوام اور معیشت دشمن ادارہ بن چکا ہے جس کا واحد مقصد عوام کو لوٹنا ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں مگر پاکستان میں الٹی گنکا بہہ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبہ کے لئے زیرو ریٹنگ کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ درست ہے کیونکہ اس سے حکومت کے اخراجات اور ایکسپورٹ مافیا کی آمدنی بڑھی مگر برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا، زیرو ریٹنگ کے خاتمہ سے برآمدات نہیں بلکہ ملکی وسائل پر پلنے والے مگرمچھ متاثر ہونگے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here