بہترین کارپوریٹ کلچر کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ پڑھیے ایک تجربہ کار ایچ آر پروفیشنل اس حوالے سے کیا کہتی ہیں

684

فاطمہ اسد سید کا تعلق چارٹرڈ اکائوٹنٹس کے گھرانے سے ہے، ان کے والد بھی چارٹرڈ اکائونٹنٹ رہے. ایم بی اے کرنے سے قبل ہی وہ سٹی بینک اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے ساتھ کام کر چکی تھیں اور مالیاتی شعبے میں اپنے والد کے نقش قدم پر رواں دواں تھیں تاہم قسمت میں کچھ اور لکھا تھا، 1997ء میں جب وہ لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں ایم بی اے کے آخری سمیسٹر میں تھیں تو انہوں نے اپنا پسندیدہ شعبہ یعنی “ہیومن ریسورس” تلاش کر لیا.

“منافع” کو انٹرویو دیتے ہوئے فاطمہ اسد نے بتایا کہ ایم بی اے کے آخری سمیسٹر میں انہیں‌ احساس ہوا کہ اس چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کس شعبے میں جاتے ہیں، آپ مارکیٹنگ میں جائیں، فنانس، سپلائی چین یا پھر سیلز کے شعبے میں، آخر میں بات شعبوں کی بجائے لوگوں تک آ جاتی ہے. لوگوں سے مراد چیف ایگزیکٹو آفیسرز، جنرل مینجرز اور سیلز آفیسرز ہیں. اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے پاس کس قدر بہترین سسٹم ہے، اگر ایک بھی بندہ آپ نے غلط سیٹ پر بٹھا دیا تو سارا سسٹم تباہ ہو جائے گا. یہی وجہ تھی جس نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا اور ہیومن ریسورس میں میری دلچسپی بڑھی.

نوے کی دہائی میں ایچ آر کا شعبہ پاکستان میں نیا نیا قائم ہو رہا تھا اور زیادہ تر کمپنیوں‌ کے ہیڈآفسز اور ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کراچی میں تھے. تاہم فیملی کے منع کرنے کے باجود فاطمہ اسد نے Coopers & Lybrand کیساتھ اپنا کیرئیر شروع کیا اور بعد میں لاہور میں انہوں‌ نے Pricewaterhouse Coopers کے ساتھ بھی کام کیا. 2003ء میں PwC Consulting کو IBM worldwide نے خرید لیا اور پاکستان میں اس کا نام Abacus Consulting رکھ دیا گیا جو کنسلٹنگ اور ٹیکنالوجی کی ایک بڑی کمپنی ہے.

ایچ آر میں 22 سال کام کرنے کے بعد آج فاطمہ حسن Abacus Consulting میں ریجینل ڈائریکٹر اور اس کی ذیلی کمپنی AbacusELS کی چیف ایگزیکٹو آفیسر بن چکی ہیں. AbacusELS مختلف کمپنیوں کو ایچ آر سروسز فراہم کرتی ہے جن میں موٹرولا، نوکیا، سام سنگ اور حبیب بنک شامل ہیں. اس کے علاوہ فاطمہ لمز اور کشف فائونڈیشن سمیت بہت سے اداروں کے بورڈز میں بھی شامل ہیں.

آغاز سفر:
پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے فاطمہ اسد نے بتایا کہ Abacus میں انکا پہلا سال کافی مشکل تھا کیونکہ تب انٹرنیٹ نیا نیا متعارف ہو رہا تھا اس لیے زیادہ کام خود سے ہی کرنا پڑتا تھا. اکثر اوقات پرنٹر بند ہو جاتا تھا، وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے اپنی ملازمت کے آغآز میں پرنٹنگ سے لیکر فوٹو کاپی تک ہر کام کیا حتیٰ کہ راتوں کو بھی دفتر میں بالکل ایسے کام کیا جیسے یونیورسٹی میں پڑھتے تھے.

زیادہ تر ایچ ار پروفیشنلز کی طرح فاطمہ کا واسطہ بھی زیادہ تر نئے گریجوایٹس کیساتھ پڑتا ہے، وہ مختلف یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے گریجوایٹس کے معیار میں واضح فرق محسوس کرتی ہیں. وہ اس بات پر بھی یقین رکھتی ہیں کہ تعلیمی اداروں‌ کو انڈسٹری کے ساتھ مضبوط طور پر مربوط ہونا چاہیے.

وہ کہتی ہیں کہ اب گریجوایٹس کا رویہ کافی بدل چکا ہے، آپ انہیں کچھ کہیں گے تو وہ اٹھ کر چلے جائیں‌گے. “تعلیمی اداروں کو ایملائرز کی ڈیمانڈ کو سمجھنے اور اپنی سپلائی (گریجوایٹس) اس کے مطابق کرنے کی ضرورت ہے. ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں جہاں ایک گریجوایٹ کا تعلیم ریکارڈ بہترین ہونا چاہیے وہیں اس میں چیزوں کو ناقدانہ طریقے سے دیکھنے، مسائل حل کرنے، بہترین تجزیہ کرنے اور جذباتی ذہانت کی صلاحتیں بھی ہونی چاہیں.

فاطمہ کے مطابق بُرا رویہ رکھنے والے باس کے ساتھ یا ٹانگ کھنچنے والے ساتھی کیساتھ کیسے ڈیل کرنا ہے، زندگی کی ان حقیقتوں کو سیکھنا پڑتا ہے اور اچھی یونیورسٹیاں یہ سوشل سکلز اپنے طلباء میں پروان چڑھاتی ہیں. “میں نے تعلیمی لحاظ سے ہمیشہ اول اور اوسط رہنے والوں کے کیرئیرز دیکھے ہیں، اوسط طلباء کو بڑے عہدوں پر پہنچتے بھی دیکھا ہے، اس لیے ہیں کہ وہ ذہین تھے بلکہ اس لیے کہ وہ تعلقات بنانا جانتے تھے.”

زیادہ تر لوگوں کے برعکس فاطمہ کہتی ہیں کہ زیادہ تر بڑی یونیورسٹیوں کے طلباء میں کچھ ہی ہوتے ہیں جو نوکری کے حقدار ہوتے ہیں. ” میرا دوسرے اور تیسرے درجے کی یونیورسٹیوں کے گریجوایٹس کے ساتھ بھی تجربہ ہوا ہے اپنے تعلیمی معیار کے برعکس ایسے طلباء میں سیکھنے اور کچھ کر دکھانے کا جذبہ زیادہ پایا جاتا ہے.”

عام لوگوں میں سے لیڈر پیدا کرنا:
آج کل فاطمہ اسد Abacus اور سینٹر فار کری ایٹو لیڈر شپ (CCL)کے مابین ایک پارٹنرشپ کی چلا رہی ہیں، سی سی ایل ایک امریکی ارگنائزیشن ہے جو لیڈرشپ ڈویلپمنٹ اور ایگریکٹو ایجوکیشن کے کام کرتی ہے، 2018ء کے فنانشل ٹائمز کے سروے کے مطابق یہ ارگنائزیشن دنیا کی 10 بہترین آرگنائزیشنز میں سے ایک قرار پائی اور ایگویکٹو ایجوکیشن کی واحد آرگنائزیشن ہے. یہ تعلیمی سے زیادہ عملی کام کرتی ہے اس لیے اس کے ماڈل زیادہ کامیاب ہیں.

فاطمہ کہتی ہیں کہ ” لیڈر دو دن میں تو پیدا نہیں کیا جا سکتا، یہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ کسی میں قائدانہ صلاحتیں ابھرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو کچھ خاص اقدامات کرتے ہوئے اس کے کیرئیر کو آگے بڑھاتے ہیں اور بالآخر ایک ان سی ای او لیول تک پہنچا دیتے ہیں.”

مثال کے طور ایک شخص اسسٹنٹ مینجر کے عہدے پر کام کر رہا ہے اس کی کارکردگی بھی بہترین ہے، کسی بھی آرگنائزیشن کیلئے یہ سادہ سی بات ہوگی کہ اسے مینجر کا عہدہ دے دیا جائے تاہم یہی مقام ہے جہاں سے مسائل جنم لیتے ہیں، فاطمہ کے مطابق کسی اسسٹنٹ مینجر کو مینجر کے عہدے پر ترقی دینے کا مطلب کہ اس شخص کو اب مختف طرح کی مہارتیں اور صلاحتیں ہونی چاہیں. “ہو سکتا ہے اب اسے زیادہ لوگوں یا مینجرز کی نگرانی کرنا پڑے جس کے لیے یقیناََ مختلف طرح کی صلاحتیں درکار ہوتی ہیں. ہو سکتا ہے وہ زیادہ بہتر حکمت عملی سے کام لیں لیکن متعلقہ عہدہ پر جس طرز کے رویے کو اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے اس سے واقف نہ ہوں”.

“جب کسی کی اگلی پوزیشن پر ترقی ہو تو اس کی صلاحتیوں‌کا مکمل جائزہ لیا جائے، اسکی صلاحتیوں میں کسی قسم کی کمی ہو تو مناسب تربیت دی جائے، اس کے رویے کی بہتری پر کام کیا جائے، پھر اگلے عہدے پر بھیجا جائے، آپ ہر وقت سیکھتے رہتے ہیں اور اسی طرح ترقی کا زینہ چڑھتے جاتے ہیں. تصور کریں کہ آپ سارا راستہ طے کرکے سی ای او کی کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں.”

تاہم ہر کوئی سی ای او بن سکتا ہے نا سی لیول پوزیشن حاصل حاصل کر پاتا ہے بلکہ زیادہ تر آرگنائزیشنز میں پیرامڈ سٹرکچر ہوتا ہے اور زیادہ تر ملازمین درمیانے درجے یا اس سے نیچے رہ جاتے ہیں. پیرامڈ سٹرکچر کی وضاحت کرتے ہوئے فاطمہ اسد نے کہا کہ ہر کوئی سی ای او کی پوزیشن پر براجمان نہیں‌ ہو سکتا کیونکہ آپ کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے آپ اپنی آرگنائزیشن میں سے کتنے لوگوں‌ کو سی ای او یا سی لیول تک لے جا سکتے ہیں، مڈل لیول پرزیادہ لوگ رہ جاتے ہیں، اب یہ مسئلہ کہ ان کا کیا کیا جائے.ان میں سے زیادہ تر یا تو چھوڑ جاتے ہیں یا پھر آرگنازئشن کیلئے مسئلہ بن جاتے ہیں‌اور اسکی تنزلی کا باعث بنتے ہیں.”

فاطمہ اسد کے مطابق سی سی ایل میں بھی ایسا ہی ہے، اس درمیانے درجے کے سٹاف کو کارآمد رکھا جاتا ہے جس سے آرگنائزیشن کو فائدہ ہوتا رہتا ہے، یہ کہتے میں کافی آسان لگتا ہے؟ لیکن ایچ آر پروفیشنلز ایسی صورتحال سے جب دوچار ہوتے ہیں تو اس سے ڈیل کرنے میں‌ ناکام کیوں‌رہتے ہیں؟ اس کاجواب یہ ہوسکتا ہے کہ ایچ آر سٹاف کے پاس اپنی آرگنائزیشن اور اس میں کام کرنے والے سٹاف کے حوالے سے مکمل معلومات نہ ہوں.

فاطمہ کے مطابق ہیومن ریسورس (ایچ آر) ایک مشکل شعبہ ہے اور اکثر برا بھی سمجھا جاتا ہے کیونکہ کچھ ایچ آر پروفیشلز اپنا کام اور ذمہ داری سمجھ ہی نہیں پاتے. کسی آرگنائزیشن میں پائی جانے والی کچھ خاص چیزوں کا اگر آپ کو علم نہیں‌ تو آپ پیشہ ور ثابت نہیں‌ہو سکتے. اگر آپ کو یہ معلوم نہیں‌ کہ فنانس سے متعلق شخص بنیادی طور پر کیا کرتا ہے یا مارکیٹنگ سٹآف کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے یا سپلائی چین کا کیا کام ہے تو پھر آپ ایک اچھے ایچ آر آفیسر نہیں بن سکتے، آرگنائزیشن میں جو بھی فیصلے کیے جاتے ہیں ان کے نفاذ کیلئے ہر ایک کی ذمہ داری ہوتی ہے.
Abacus نے حال ہی میں CCL کے اشتراک سے پاکستان میں لیڈر شپ کورسز اور ٹریننگ کا آغاز کیا ہے، کمپنی پہلے پاکستان میں ایسے کورسز متعارف کرا رہی ہے جن کی کامیابی کے بعد بیرون ملک بھی شروع کیے جاسکیں گے.

افرادی قوت میں خواتین کا حصہ:
ایچ آر کے شعبے میں بطور خآتون کام کرتے ہوئے فاطمہ اسد نے صنفی تنوع اور آرگنائزیشنز میں پائے جائے جانے والے عام فرق کے حوالے سے کافی زیادہ کام کیا ہے، وہ کہتی ہیں کہ تنوع (Diversity) صرف صنف کی حد تک نہیں‌ہوتی بلکہ کسی بھی آرگنائزیشن میں‌ کلچر، آبادی اور لوگوں‌ کی عمر کا فرق بھی ڈائیورسٹی ہے، آرگنائزیشنز میں ٹیکنالوجی، ربوٹس اور مصنوعی ذہانت آ رہی ہے اس کے دور میں آپ خود کو کیسے چیزوں کے مطابق تبدیل کرتے ہیں یہ بھی ڈائیورسٹی ہی ہے.

سالہا سال سے فاطمہ اسد خواتین کی تعلیم اور ملازمتوں میں خواتین کی زیادہ شمولیت کیلئے وکالت کرتی رہی ہیں، “اگر آپ کے ہاں 40 مرد اور 60 خواتین کام کرتی ہیں تو صرف اس سے مسئلہ حل نہیں‌ ہوگا. کیا آپ کے ہاں کام کرنے والی مائوں‌ کیلئے کوئی سہولت موجود ہے؟ یا کیا انہیں اتنا وقت دیا جاتا ہے کہ وہ کام چھوڑ کر ذاتی زندگی پربھی توجہ دے سکیں.؟

تاہم فاطمہ اسد کہتی ہیں‌ کہ اگر آرگنائزیشنز کام کرنے والی خواتین کی مدد کی ذمہ داری نبھا رہی ہیں تو ایسی خواتین کو ان کی فیملیز کی مدد بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہوگی. اگر گھر سے انہیں مدد نہیں ملے گی تو ان کیلئے کام کرنا جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس حوالے سے بھی آواز اٹھائیں.

پاکستان کے مردوں میں شرح خواندگی 70 فیصد کے مقابلے میں خواتین میں یہ شرح محض 48 فیصد ہے، اسکے علاوہ حال ہی میں‌ایک رپورٹ شائع ہوئی جس کے مطابق پاکستان میں 85 ہزار خواتین ڈاکٹری کی ڈاگری لینے کے بعد کام نہیں کرتی ہیں.

“ہمارے معاشرے میں اب بھی اس ذہنیت کے لوگ پائے جاتے ہیں‌جن کے پاس اگر دولت ہو اور انہیں لڑکی یا لڑکے کی تعلیم پر خرچ کرنا ہو تو وہ لڑکی کی بجائے لڑکے کی تعلیم پر خرچ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں. ہمیں‌لڑکیوں‌ کی تعلیم کے حوالے سے یہ پیغام عام کرنا ہوگا کہ مائیں ہی آئندہ نسلوں کی پرورش کرتی ہیں، ضروری نہیں‌کہ ایک تعلیم یافتہ ماں کام ہی کرتی ہے، لیکن اگر آپ تعلیم یافتہ مائیں پیدا نہیں‌ کریں‌ گے تو آئندہ نسلیں بھی گنوار رہ جائیں‌ گی یہ ظالمانہ روش ہے جو جاری رہتی ہے.”

فاطمہ اسد نے کہا کہ ایک سیمینار میں ایک نوجوان خاتون نے بتایا کہ اچھی کوالیفکیشن کے باوجود اس کے شوہر نے ملازمت سے روک دیا تھا، اس خاتون نے پوچھا کہ میں کیا کروں تو میں نے جواب دیا کہ آپ کو ترجیحات بنانی ہوں گی کہ کیرئیر اہم ہے یا فیملی. آپ کو دیکھنا ہوگا کہ 40، 50 سال بعد آپ کے ساتھ کون کھڑا ہے آپ اس پر انویسٹ کریں.

“ابتداء میں آپ کو اپنی فیملی کو دیکھنا چاہیے، اس کے ساتھ تعلقات گہرے کرنے چاہیں اس کے بعد ہو سکتا ہے آپ اپنا کیرئیر بھی بنانے کے قابل ہوجائیں.”

فاطمہ نے کہا کہ ایک اور چیز جو میں نے اسے بتائی وہ یہ تھی کہ آپکی نسل خوش قسمت ہے کہ اس کے پاس ٹیکنالوجی ہے، آپ آن لائن بہت کچھ ناصرف سیکھ سکتے ہیں بلکہ نوکری بھی کر سکتے ہیں، ہمیشہ سیکھتے رہیں اور دیکھیں‌ کہ اب تک آپ نے کیا کچھ حاصل کیا ہے، کسی کے ساتھ پارٹ ٹائم کام کریں یا کنٹریکٹ پر وابستہ ہو جائیں، ضروری نہیں‌ کہ آپ 9 سے 5 والی نوکری ہی کریں، یہ بھی ایک پیغام ہے جو ہمیں ملازمت پیشہ خواتین کی خاطر معاشرے کو دینا ہو گا.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here