بے نامی اکاؤنٹس کے بعد بے نامی سیلز کا بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا

95

ایف بی آر کے مطابق شوگر، ٹیکسٹائلز اور بڑی فیکٹریاں بے نامی سیل سے اربوں روپے ٹیکس چوری کررہے تھے۔ حکام کے مطابق اصل خریداروں کے بجائے مزدوروں اور ڈرائیوروں کے نام پر فروخت کا اندراج ہوتا تھا۔
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ بے نامی فروخت سے ایف بی آر کو اِنکم اور سیلز ٹیکس کی مد میں چکمہ دیا جا رہا رہا تھا، بے نامی خریدار ریٹرن جمع نہیں کرواتے اور اس طرح ایف بی آر کو دھوکا دیا جا رہا تھا۔
حکام کے مطابق یہ طریقہ پوری سپلائی چین کی آمدن اور سیلز ٹیکس چھپانے کیلئے استعمال ہورہا تھا، ایف بی آر نے معاملے کی مزید گہرائی میں تحقیقات شروع کر دی ہے، شوگر اور ٹیکسٹائل ملز مالکان کم فروخت ظاہر کر کے بھی ٹیکس چوری کررہے تھے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here