کراچی کے نزدیک سمندرمیں ڈرلنگ کے دوران تیل و گیس کے ذخائر نہ مل سکے، کھدائی ختم

کیکڑا ون کے مقام پر 5500 میٹر سے زیادہ گہرائی تک ڈرلنگ کی گئی تاہم ذخائر نہ ملنے کے بعد ڈرلنگ روک دی گئی ہے: ندیم بابر

66

اسلام آباد: کراچی کے نزدیک کیکڑا ون کی کھدائی سے تیل اور گیس کے ذخائر نہ مل سکے اور کھدائی روک دی گئی ہےجس کی تصدیق وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے بھی کردی ہے.

معاون خصوصی ندیم بابر کا کہنا تھا کہ کراچی کے قریب گہرے سمندرمیں ڈرلنگ کےدوران تیل و گیس کےذخائر نہیں مل سکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کیکڑا ون کے مقام پر 5500 میٹر سے زیادہ گہرائی تک ڈرلنگ کی گئی تاہم ذخائر نہ ملنے کے بعد اب ڈرلنگ کا کام ترک کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹنگ کے نتائج سے ڈی جی پیٹرولیم کنسیشنز کے آفس کو آگاہ کردیا گیا ہے۔

ندیم بابر کے مطابق کیکڑا ون کے مقام پر اٹلی کی کمپنی ای این آئی کی قیادت میں جوائنٹ وینچر نے ڈرلنگ کی جس میں امریکی کمپنی ایگزون موبل کے علاوہ او جی ڈی سی اور پی پی ایل شامل تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈرلنگ کے منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ رہا۔

خیال رہے کہ آج ہی پشاور میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ایک ہفتے میں سمندر سے گیس کے ذخیرے کا پتا چل جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے عوام سے دعا کی اپیل بھی کی تھی اور کہا کہ کراچی سے آگے سمندر میں گیس کا کنواں کھودا جارہا ہے، لگتا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر پتا چل جائے گا ، ہوسکتا ہے وہاں سے گیس کا اتنا ذخیرہ ملے کہ پاکستان کو 50 سال گیس باہر سے منگوانی ہی نہ پڑے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here