ایشیا پیسیفک گروپ کا اجلاس: پاکستانی وفد کو منی لانڈرنگ، دہشتگردی کیلئے مالی معاونت روکنے کے حوالے سے سخت سوالات کا سامنا

217

اسلام آباد: پاکستانی وفد کو چین میں جاری فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی اے) کے ذیلی ادارے ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں‌ منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کیلئے مالی معاونت کے حوالے سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا.

انگریزی روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق سیکریٹری خزانہ محمد یونس ڈھاگا کی سربراہی میں 10 رکنی وفد نے چین کے شہر گوانگ زو میں ایشیاء پیسفک گروپ کے اجلاس میں شرکت کی۔

وفد نے گروپ کو کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی، کرنسی اسمگلنگ روکنے کے علاوہ فنانشل اور کارپوریٹ سیکٹر کے نظام کو سخت بنانے اور عملی افادیت سے آگاہ کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس کے کچھ شرکاء بالخصوص بھارت سے تعلق رکھنے والے افراد نے پاکستان کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کی سنجیدگی اور داخلی کنٹرول کے حوالے سے کافی سخت سوالات کیے۔

پاکستانی وفد نے کالعدم تنظیموں کے اہم اراکین کی گرفتاریوں، ایسی دیگر تنظیموں اور اداروں پر پابندی، انکے اکاؤنٹس منجمند کرنے، مالی معاونت روکنے اور اثاثوں کو تحویل میں لینے کے حوالے سے گروپ کو آگاہ کیا۔

وفد نے بتایا کہ پاکستان ستمبر کی حتمی مدت سے قبل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے دیے گئے ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کر لے گا یا پھر اس سنگِ میل کے انتہائی نزدیک پہنچ جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here