آئی ایم ایف پروگرام میں جانا مشکل فیصلے کی ایک کڑی ہے، مشیر خزانہ

249

پاکستان معاشی مشکلات کا شکار ہے کیونکہ غیر ملکی ذخائر 10 بلین ڈالر سے بھی کم رہ گئے ہیں، مشیر خزانہ
کراچی: وفاقی مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ معیشت کی بہتری کیلئے سخت فیصلے کئے جارہے ہیں،آئی ایم ایف پروگرام میں جانا مشکل فیصلے کی ایک کڑی ہے،شرح نمو کم اور مہنگائی بڑھ ر ہی تھی، ہم معاشی استحکام کی جانب آرہے ہیں، عالمی بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے 2 سے 3 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے۔خسارہ کم کرنے کیلئے بیرون ملک پیغام دے رہے ہیں۔یہ بات انہوں نے گورنر ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے حالات بہتر بنانے کے لیے مشکل فیصلے کیے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی کم شرح سود پر قرض ملے گا۔
انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ 6 بلین ڈالرز کا معاہدہ کیا گیا ہے جبکہ عالمی بینک اور اے ڈی بی سے دو سے تین بلین ڈالرز ملنے کا امکان ہے۔
عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت آئی تو ملکی قرض 31 ہزار ارب تھا۔ زرمبادلہ بہت کم سطح پر جبکہ خسارہ بہت زیادہ ہو گیا تھا۔
تحریک انصاف نے اقتدار سنبھالا تو معاشی حالات اچھے نہیں تھے۔ شرح نمو کم اور مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ معیشت کی بہتری کیلیے اقدامات کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تاجروں کے ساتھ بجٹ کے معاملے پر بات ہوئی ہے۔ بجلی کی قیمت بڑھی تو 300 یونٹ تک استعمال کرنے والوں پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا
مشیر خزانہ نے بتایا کہ تاجروں کو آئی ایم ایف معاہدے پر اعتماد میں لیا ہے۔ بجٹ میں اولین ترجیح عام آدمی کو ریلیف دینا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت ہے کہ تمام پالیسی عوام کے مفاد کے لیے بنائی جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here