برصغیر میں مغلوں کے ابتدائی دور میں ڈاک (خطوط اور پارسل) کیلئے پیدل سوار مقرر تھے جو ایک جگہ سے اسے اکٹھا کرتے تھے اور دوسرے پیدل سوار کے حوالے کر دیتے تھے. اس سے پہلے کہ خط اپنے مطلوبہ مقام پر پہنچے وہ 2 یا 3 درجن پیدل سواروں کے ہاتھوں سے گزر چکا ہوتا تھا جو ایک بہت تھکا دینے والا اور طویل عمل تھا. 19ویں صدی میں انگریزوں نے گھوڑے اور اونٹ سواروں کے ذریعے ڈاک کی ترسیل کا کام شروع کیا جنہیں‌بعد میں ریلوے سے تبدیل کر دیا گیا تاکہ ڈاک کی سہولیات زیادہ تیز اور زیادہ مؤثر ہو سکیں.
تقسیم ہند 1947ء کے بعد پاکستان پوسٹ کا قیام عمل میں آیا جو پاکستان کی ریاستی پوسٹل سروس تھی اور اس وقت سے یہ پورے ملک میں‌ اپنی سہولیات فراہم کر رہی ہے. تو پاکستان پوسٹ کتنا بڑا ادارہ ہے؟
پاکستان پوسٹ بمقابلہ پرائیوٹ کوریئر کمپنیاں
اس ادارے کے پاکستان بھر میں تقریباً 13 ہزار پوسٹ آفس ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں اس کے سب سے بڑے حریف ٹی سی ایس کی صرف 900 ریٹیل آؤٹ لیٹس ملک بھر میں‌ موجود ہیں.
دلچسپ امر یہ ہے کہ تقریباً 67 فیصد پوسٹ آفس دیہاتی علاقوں میں قائم ہیں جہاں زیادہ تر پرائیوٹ حریف موجود نہیں‌ ہیں. تاہم پاکستان پوسٹ کی دیہاتی علاقوں میں‌ موجودگی اس کے منافع میں‌کچھ کردار تو ضرور ادا کرتی ہے. 90ء کی دہائی کے آغاز سے پاکستان پوسٹ‌ سے جڑے دیرینہ ملازم اور پاکستان پوسٹ کے نئے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نصیر احمد خان نے پرافٹ/منافع کو بتایا “ان 67 فیصد برانچوں میں سے 87 فیصد خسارے میں چل رہی ہیں.”
کسی بھی پرائیوٹ سیکٹر کمپنی کیلئے دیہاتی علاقوں میں‌ خسارے میں‌ چلنے والی دکان کو بند کرنا مشکل نہیں‌ ہوگا لیکن ریاست کی ملکیت کسی ادارے میں ایسا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے.
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر پاکستان پوسٹ کے ایک سینئر حکام نے کہا “پاکستان پوسٹ سہولیات فراہم کرنے والا ادارہ ہے تو ہم اپنے آپریشنز کو بند نہیں کر سکتے. اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو عوام کی طرف سے آواز بلند ہو جائے گی. تاہم ہمارا نظریہ ہے کہ اگر ہم ایسا کر سکتے تو یہ سب کیلئے بہتر ہوگا کیونکہ پاکستان پوسٹ کی دیہاتی علاقوں میں موجودگی زیادہ فائدہ مند نہیں ہے لیکن لوگوں کو سہولیات فراہم کرنا ہمارے لئے ضروری ہے.”
دوسری جانب پاکستان پوسٹ کے کام کا دائرہ کار پرائیوٹ کوریئر کمپنیوں سے زیادہ وسیع ہے. زیادہ تر معاملات میں پوسٹ آفس 7 مختلف دائرہ کار میں کام کرتے ہیں جو وزارت خزانہ اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے سیونگز بینک، پوسٹل لائف انشورنس، یوٹیلیٹی بلوں کی وصولی، باہر سے بھیجی گئی رقوم کی وصولی، سیونگ سرٹیفیکیٹس کی فروخت پر مشتمل ہے.
ڈاکٹر نصیر کا کہنا ہے “گزرتے وقت کے ساتھ کمپنی میں جدت کا فقدان رہا. یہی وجہ ہے کہ پرائیویٹ کمپنیوں اور ہم میں بہت بڑا ٹیکنالوجی کا گیپ ہے. پرائیویٹ کمپنیوں کو ٹیکنالوجی کے حوالے سے ہم پر سبقت حاصل ہے. ان کا انفراسٹرکچر جیسے موٹر اور ٹرکوں کی بڑی تعداد، موٹرسائیکل اور ڈلیوری کیلئے دوسرے میکانزم ہمارے مقابلے میں کافی بڑا ہے.”
یہ کمپنیاں‌ باقاعدہ کوریئر کمپنی ہونے کی وجہ سے ایسے انفراسٹرکچر کے اخراجات برداشت کر سکتی ہیں. انہوں نے کہا “(پرائیوٹ کمپنیوں کیلئے) کوریئر کمپنی ان کا واحد کردار ہے. لیکن جب پاکستان پوسٹ کی بات ہو تو ہم بہت سی دیگر کام بھی کر رہے ہیں. حتیٰ کہ ایک چھوٹا سا پوسٹ آفس بھی ایک وقت میں کئی ذمہ داریاں سرانجام دے رہا ہوتا ہے.”
سال 18-2017ء میں پاکستان پوسٹ کو 10.5 ارب روپے کا ریکارڈ خسارہ ہوا. لیکن ریاستی کے زیر ملکیت اس ادارے کی مالی صورتحال ہمیشہ سے بری نہیں‌ تھی. 09-2008ء میں اس نے 40 کروڑ روپے کا منافع کمایا تھا.
ڈاکٹر نصیر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں‌ اضافے اور پاکستان پوسٹ کے سیونگ بینک کے کمیشن ریٹ میں کمی کو اس خسارے کا ذمہ دار مانتے ہیں. انہوں نے کہا “سال 10-2009ء میں بہت سی ایسے واقعات رونما ہوئے. سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا اور سیونگس بینک کی کمیشن کو جو 1995ء میں 1.5 فیصد مقرر تھی کم کر کے 0.5 فیصدکر دیا گیا. ان دو فیصلوں کی وجہ سے ہمیں کافی نقصان ہوا.”
اس کے علاوہ پاکستان پوسٹ کو ہر سال بڑھتی ہوئی تنخواہوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی پینشن بھی ادا کرنا پڑتی ہے. ڈاکٹر نصیر کا کہنا ہے “ہمارے پاس 31 ہزار ریگولر ملازمین ہیں اور 17 ہزار پارٹ ٹائم ملازمین ہیں جو دیہی علاقوں میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں. اس کے علاوہ ہمارے پاس 25 ہزار پینشنر بھی ہیں.”
جب سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں آئی ہے پاکستان پوسٹ کیلئے معاملات بہتری کی طرف گامزن ہیں. نئے وفاقی وزیر برائے کمیونیکیشن اینڈ پوسٹل سروسز مراد سعید کی زیر نگرانی کامیاب ری برانڈنگ اور نئی سروسز کا آغاز کیا گیا ہے جس کا مقصد ڈلیوری ٹائم کو کم کرنا اور قومی اور بین الاقوامی کوریج میں اضافہ کرنا ہے.
اپریل میں وفاقی وزیر نے اعلان کیا تھا کہ نیشنل کورئیر سروس نے مارچ 2019ء تک 12 ارب روپے کمائے جو پچھلے سال اسی عرصے کے تناسب سے بہت زیادہ ہے.
تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈی جی کا کہنا تھا “ہم نے سمارٹ فون ایپلیکیشن متعارف کروائی ہے جس کے ذریعے صارفین اپنی بھیجی یا موصول ہونے والی اشیاء کو ٹریک کرنے اور ٹیرف جاننے سمیت متعدد دیگر کام کر سکتے ہیں. ہم نے پاکستان بھر میں 27 شہروں میں سیم ڈے ڈلیوری (same-day delivery) کا نظام متعارف کروایا ہے اور 11 شہروں میں گھروں سے پک اپ کی سہولیات متعارف کروائی ہیں.”
انہوں نے کہا “اس کے علاوہ 550 سے زائد کمپنیاں پاکستان پوسٹ ای کامرس منصوبے ‘پاک پوسٹ شاپ’ کے ویب پورٹل پر رجسٹرڈ کی جا چکی ہیں. ہم نے ای ایم ایس پلس کی سہولت کا بھی آغاز کیا ہے جو ایک انٹرنیشنل پارسل سروس ہے جس کے ذریعے ہم ٹریکنگ کی سہولیات کے ساتھ 72 گھنٹوں میں دنیا بھر میں ڈلیور کر سکتے ہیں.”
مقامی سرمایہ کاروں اور صارفین نے بھی پاکستان پوسٹ میں‌ بہتری کا خیر مقدم کیا ہے. احمد نبی لاہور میں ایک چھوٹا سا ای کامرس بزنس چلاتا ہے جس کے ذریعے وہ پاکستان میں کپڑے کی پراڈکٹس فروخت کرتا ہے. پاکستان میں ای کامرس کے سے وابستہ دیگر سرمایہ کاروں‌کی طرح اس نے بھی کسٹمرز تک آرڈرز کی ڈلیوری کیلئے پرائیوٹ کوریئر کمپنیوں کی سہولیات کا استعمال کیا. تاہم ان کے زیادہ ڈلیوری چارجز اور کم کوریج کی وجہ سے اس نے پاکستان پوسٹ کی سہولیات کا استعمال شروع کر دیا.
پاکستان پوسٹ کی طرف جانے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ پرائیوٹ کمپنیوں کا کیش آن ڈلیوری پر ادائیگیوں کا دورانیہ بہت طویل تھا. پرافٹ/منافع کی پچھلی اشاعت میں باخبر ذرائع نے بتایا تھا کہ ٹی سی ایس اور چند دوسری پرائیوٹ کمپنیاں کیش آن ڈلیوری سے موصول ہونے والی ادائیگیوں کو اپنے ذاتی اخراجات کی مد میں استعمال کر رہی ہیں اور وینڈرز کی 3 ماہ تک کی ادائیگیاں روک رکھی ہیں. طویل ادائیگیوں کا طریقہ کار احمد نبی جیسے چھوٹے سٹارٹ اپس اور ای کامرس بزنس مالکان کیلئے پیسے کے بہاؤ کے مسائل پیدا کرتا ہے اور ان میں سے بیشتر اب پاکستان پوسٹ سے رجوع کر رہے ہیں جس کے ریٹ کم، کوریج زیادہ اور اوسطاً 10 یوم کا پے بیک دورانیہ ہے.
اسی طرح سابق جرمن ایمبیسڈر مارٹن کوبلر نے رواں سال جنوری میں‌ ٹویٹ کیا کہ انہوں نے صرف 200 روپے میں اپنے خاندان کو برلن میں پارسل پہنچایا. یہ پارسل محض 7 یوم میں ان کے خاندان تک پہنچ گیا.
ٹی سی ایس ہولڈنگز کی وائس چیئرپرسن سائرہ اعوان کا خیال ہے کہ پاکستان پوسٹ میں حالیہ اصلاحات پوری انڈسٹری کیلئے مثبت پیغام ہیں. ان کا کہنا ہے “یہ نجی شعبہ ہی ہے جس نے گزشتہ 35 سالوں سے انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری لاگت کو برداشت کر رہی ہے.”
انہوں نے مزید کہا “ہم چاہتے ہیں‌ کہ وہ (پاکستان پوسٹ) آگے بڑھے. ہم کافی عرصے سے ان کے حصے کا کام کر رہے ہیں. انہیں چاہیئے کہ اب وہ اپنا کام کریں تاکہ ہم اپنی ویلیو چین کو بڑے پیمانے پر لے جاسکیں.”
لیکن نیشنل پوسٹل آپریٹر کے طور پر ابھی بہتری کی گنجائش بہت زیادہ ہے. جس کی نشاندہی لاہور میں ای کامرس سے جڑے ایک اور سرمایہ کار علائزر بھٹی نے کی ہے “پاکستان پوسٹ ایک سستا آپشن ضرور ہے لیکن زیادہ قابل اعتماد نہیں ہے. ان کی رفتار کافی سست ہے. اگر آپ کو ان کے ساتھ کوئی اکاؤنٹ کھلوانا ہے تو آپ کو کئی لوگوں سے گزر کر آنا پڑے گا. ایسی بیوروکریٹک رکاوٹیں پریشان کر دیتی ہیں.”
پاکستان پوسٹ کے ایک سینئر ملازم نے نام نہ ظاہر کرنے کی خواہش پر اس کا جواب دیتے ہوئے کہا “اگر ہم 40 ہزار آرٹیکلز کو ایک آفس میں ہینڈل کر رہے ہیں اور ان میں سے 0.1 فیصد گم جاتا ہے تو اس کی وجہ زیادہ حجم کا ہونا ہے. ایسا دوسری کوریئر کمپنیوں میں بھی ہوتا ہے.”
تاہم ملازم نے اس بات کو قبول کیا کہ حکومتی اداروں میں کام کرنے والے افراد کا رویہ بعض اوقات مناسب نہیں ہوتا جسے درست کرنے کی ضرورت ہے. “عام طور پر سرکاری اداروں میں کام کرنے والے افراد کم اکوموڈیٹ کرتے ہیں لیکن ہم کوشش کر رہے ہیں کہ سرکاری ملازمین کی کسٹمر سروسز میں بھی تربیت کی جائے.” آیا ڈاکٹر نصیر احمد خان اور مراد سعید اس بیوروکریٹک کلچر کا خاتمہ کر پاتے ہیں یہ دیکھنا ابھی باقی ہے.
مالیاتی شمولیت کی جانب ایک قدم
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2017ء تک ملک بھر میں بینکوں کی کل برانچوں کی تعداد 13039 تھی اور کم و بیش پاکستان پوسٹ کی بھی اتنی ہی برانچیں ہیں. اتنی بڑی تعداد میں موجود ہونے اور خاص طور پر دیہی علاقوں میں موجود ہونے سے پاکستان پوسٹ ملک میں‌ مالیاتی شمولیت کے فروغ‌ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے.
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مالیاتی شمولیت کی حکمت عملی میں مالیاتی سہولیات کی فراہمی کیلئے تیز تر بنیادوں پر دیہی علاقوں میں اپنے نیٹ ورک سے پاکستان پوسٹ کی ڈیجیٹائزیشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 2023ء تک 6 کروڑ 50 لاکھ ایکٹو ڈیجیٹیل ٹرانزیکشن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے. اس وقت پاکستان پوسٹ کے 30 لاکھ اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں‌جنہیں سیونگز بینک کے ذریعے سہولیات فراہم کی جاتی ہیں.
ڈاکٹر نصیر کا کہنا ہے “پاکستان کی شرح‌ بچت خطے میں سب سے کم ہے. مرکزی بینک کی قومی مالیاتی شمولیت کی حکمت عملی کا ہدف بالغوں‌ کی 50 فیصد تعداد کو 2020ء‌ تک اس دائرے میں لانا ہے. پاکستان پوسٹ اس میں اہم کردار ادا کر رہا ہے. پوسٹل سیونگز دیہی علاقوں میں بچتوں کے چھوٹے مواقع پیدا کرتا ہے. کسان اور خصوصاً ان علاقوں‌ میں‌ رہنے والی خواتین اپنی رقوم پاکستان پوسٹ کے ذریعے جمع کرواتی ہیں.” اسٹیٹ بینک کے مقرر کردہ 6 کروڑ 50 لاکھ اکاؤنٹس کے ہدف میں 2 کروڑ خواتین بھی شامل ہیں.
سیونگز بینک کے دوسرے اختیارات میں یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی، بیرون ملک سے منتقل کی گئی رقوم کی وصولی اور فوج اور دیگر اداروں کے پینشنرز کو پینشن کی ادائیگی شامل ہیں. پاکستان پوسٹ کی ویب سائیٹ کے مطابق یہ ادارہ اس وقت پاکستان آرمی، پاکستان ایئر فورس، پاکستان نیوی اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 1 کروڑ 14 لاکھ پنشنرز کو پنشن کی ادائیگی کر رہا ہے.
ڈاکٹر نصیر احمد خان پر امید ہیں‌کہ پاکستان پوسٹ کی پوسٹل سیونگز سروس نہ صرف ملک میں مالیاتی شمولیت میں اضافہ کرے گی بلکہ پاکستان پوسٹ کو ایک دفعہ پھر سے منافع بخش ادارہ بنانے میں بھی بنیادی کردار ادا کرے گی. “ہمارا ہدف ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک اخراجات اور آمدنی میں موجود خسارے کو کم کیا جائے. ہم اپنے اہداف کے حصول کیلئے سخت محنت کر رہے ہیں اور پاکستان پوسٹ کو ایک منافع بخش ادارہ بنانا چاہتے ہیں.”

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here