پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے چیف غیرملکی ویلتھ کمپنی میں شمولیت کا جواز پیش نہ کر سکے

99

رچرڈ مورن کو ایمپلائمنٹ کنٹریکٹ کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا.
نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچنیج (پی ایس ایکس) کے سی ای او رچرڈ مورن ایک غیر ملکی ویلتھ منیجمنٹ کمپنی میں بورڈ چیئرمین کی حیثیت سے اپنی شمولیت پر جواز فراہم کرنے میں‌ ناکام رہے.
تفصیلات کے مطابق مورن کو ذاتی ویلتھ منیجمنٹ کمپنی چلانے پر گزشتہ مہینے پی ایس ایکس کی جانب سے ایمپلائمنٹ کنٹریکٹ کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا. مورن کو وضاحت کیلئے 15 یوم کی مہلت دی گئی تھی لیکن ابھی تک نوٹس کا جواب جمع نہیں‌ کروایا گیا.
مونٹریال میں‌ واقع انڈیپینڈینٹ فنانشل ایڈوائز کے طور پر اپنی شناخت رکھنے والی آرچر ویلتھ منیجمنٹ میں رچرڈ مورن بحیثیت سی ای او، چیف کمپلائنس آفیسر اور پورٹ فولیو منیجر کام کر رہے ہیں.
دلچسپ امر یہ ہے کہ شوکاز نوٹس موصول ہونے کے باوجود ابھی تک کینیڈین کمپنی کی ویب سائٹ پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سی ای او کا نام اور عہدے موجود ہیں.
اس ایشو پر بات کرتے ہوئے مورن کا کہنا تھا “یہ نجی معاملہ ہے جس پر میں‌ کمنٹ نہیں‌ کروں گا.”
یہ بات قابل ذکر ہے کہ رچرڈ کا معاوضہ پی ایس ایکس کے سابقہ سی ای اوز کے مقابلے زیادہ ہے اور یہ بات پہلے ہی انویسٹنگ پبلک کیلئے باعث تشویش ہے. یہ بھی عام رائے ہے کہ پاکستان بار کے پہلے غیرملکی سربراہ اپنی ڈیڑھ سالہ مدت میں امیدوں پر پورا نہ اتر سکے. ان سے امیدیں وابستہ تھیں‌ کہ وہ غیر ملکی انویسٹمنٹ لائیں گے، نئی پراڈکٹس متعارف کروائیں‌گے اور ٹیکنالوجیکل ٹرانسفر کو یقینی بنائیں گے.
اس مسئلے کو ہوا تب ملی جب پی ایس ایکس کے ایک سابق عہدیدار سنی محمود نے پی ایس ایکس بورڈ کو اس حوالے سے آگاہ کیا. جو اس وقت ایک پرائیوٹ فرم سیکیورٹیز ایکسچینج منیجمنٹ سوٹ کے سی ای او ہیں.
یہ رپورٹس ہیں کہ پی ایس ایکس کی جانب سے رچرڈ مورن پر بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے. ان کی جگہ بورڈ کے چیئرمین اوورسیز کانفرنسز میں پی ایس ایکس کی نمائندگی کریں گے.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here