پاکستان کو “اب اگاؤ اور بعد میں صاف کرو کی حکمت عملی” کے تحت اقدامات کی ضرورت ہے، عالمی بینک کی رپورٹ

232

پاکستان میں پانی کا 90 فیصد حصہ پانچ فصلوں کی آبپاشی پر صرف ہوتا ہے جن کا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں حصہ 20 فیصد سے کم ہے۔ زرعی شعبہ میں چاول، گنے، کپاس ، گندم اور مکئی کی فصلوں کی آبپاشی پر ملک کا 90 فیصد پانی صرف ہوتا ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق زرعی شعبہ کا انحصار آبپاشی کے لئے دستیاب پانی پر ہوتا ہے تاہم جی ڈی پی میں شعبہ کا حصہ استعداد سے کم ہے۔
عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اس وقت ملک میں استعمال کئے جانے والے پانی میں سی69 فیصد پانی انسانی استعمال کے لئے غیر محفوظ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو “اب اگاؤ اور بعد میں صاف کرو کی حکمت عملی” کے تحت اقدامات کی ضرورت ہے جس سے ملک کی نوجوان افرادی قوت سے بھرپور استفادہ کے تحت معاشی ترقی میں نمایاں اضافہ کیا جا سکے گا ۔ مزید برآں کاشتکاری اور آبپاشی کے روایتی طریقوں کی بجائے زیادہ پیداوار اور کم اخراجات کی حامل فصلوں کی کاشتکاری کے فروغ کی ضرورت ہے تاکہ کم سے کم وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جاسکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here