تمباکو کے کاشتکاروں کا بھاری ٹیکسوں پر ایف بی آر کیخلاف احتجاج

230

اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں تمباکو کے کاشتکار، ملٹی نیشنل تمباکو کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین اور کے پی کسان بورڈ، سرحد ایگریکلچر ایند رورل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (سردو) اور انجمن تحفظ محنت کَش سمیت کے پی لیبر فیڈریشن یونینز نے پیر کے روز فی کلوگرام تمباکو پر 300 روپے اضافی ٹیکس کے خلاف اسلام آباد میں ایف بی آر کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا.
کے پی لیبر فیڈریشن یونینز کے دفاتر بشمول سردو کے پی کے صدر حاجی عبدالنبی محمود، پاکستان کسان بورڈ کے صدر رضوان اللہ، لیبر فیڈریشن آف کے پی کے صدر ابرار اللہ، حاجی نعمت اللہ شاہ اور دیگر نے احتجاج کے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ تمباکو خیبرپختونخوا کی سب سے زیادہ کاشت کی جانی والی فصل ہے اور صوبے میں بسنے والے لاکھوں لوگ اس شعبے سے وابستہ ہیں جس سے سالانہ 130 ارب روپے ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ تمباکو کی پیداوار کا قومی معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ہے لیکن اینٹی پاکستان طاقتیں پاکستان میں بیروزگاری کی شرح میں اضافے کیلئے اس شعبے کو تباہ کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں.
انہوں نے کہا “ہزاروں کاشتکار کئی دہائیوں سے تمباکو کی پیداوار سے وابستہ ہیں اور خیبرپختونخوا میں 15 ہزار کے قریب صنعتی ملازم تمباکو کے شعبے میں کام کر رہے ہیں.” انہوں نے مزید کہا کہ فی کلو تمباکو پر 300 روپے کے ٹیکس نے کاشتکاروں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے.
ایسی پالیسیوں سے خیبرپختونخوا میں تمباکو کی پیداوار 14 کروڑ کلوگرام سے گھٹ کر 7 کروڑ کلوگرام پر آ گئی ہے یہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سازشوں کے نتائج ہیں.
انہوں نے کہا “ایف بی آر اور حکومت کی جانب سے ایسی پالیسیوں کا نفاذ قومی صنعت کو تباہ کرنے کی کوشش ہے اور بیوروکریسی ایسے تمام فیصلے بیرونی کمپنیوں کی راہ ہموار کرنے کیلئے کر رہی ہے.”

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here