بغیر تیاری کے وزارت خزانہ کا اگلے پروگرام کیلئے آئی ایم ایف کی ہدایات پر انحصار

125

آئی ایم ایف کا وفد اگلے ایک ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور دیگر اداروں اور صوبائی حکام سے ملاقاتیں کرے گا
اسلام آباد: جب سے وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے وفد کے درمیان مذاکرات کے آخری دور کا آغاز ہوا ہے تو ایسے امکانات کا وجود بڑھ گیا ہے کہ وزارت خزانہ آئی ایم ایف کے دئیے گئے اعداد و شمار اور ہدایات پر انحصار کرے گی۔
ماہرین معیشت کے فقدان سے بھرپور وزارت خزانہ کو آئی ایم ایف کے ماہرین سے بات چیت کرنے اور شرائط میں نرمی پر راضی کرنے میں بے تحاشہ مشکلات کا سامنا ہے۔ باوثوق ذرائع نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا “آئی ایم ایف کو مطلوبہ تازہ ترین اعداد و شمار پیش نہ کئے گئے تو اس سے آئی ایم ایف وفد پر منفی تاثر پڑے گا۔ عام طور پر آئی ایم ایف ٹیکسوں، ٹیرف اور سبسڈیز سے متعلق تازہ اعداو شمار کا تقاضا کرتا ہے لیکن وزارت خزانہ کے حکام نے گزشتہ مہینوں پر مشتمل پرانے اعداد و شمار فراہم کئے ہیں۔”
گو کہ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ، ریونیو اور اقتصادی امور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وفد کو کیسے ڈیل کرنا ہے لیکن انہیں آئی ایم ایف کے وفد کو پچھلے 6 ماہ کی کارکردگی پر بریفنگ کیلئے اس وزارت سے منسلک ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔
ذرائع نے بتایا “گو کہ بیرونی وفود سے بات چیت کیلئے وزارت خزانہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ماہرین معاشیات کو مدعو کرتی ہے لیکن اسٹیٹ بینک کے ماہرین شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ مالیاتی موضوعات پر تو بات چیت کر سکتے ہیں لیکن ٹیکسوں، ریونیو اور منصوبہ بندی جیسے موضوعات پر کہنے کیلئے ان کے پاس کچھ نہیں۔” ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ سیکرٹری خزانہ بھی وزارت میں فنی خرابیوں کو ٹھیک کرنے کیلئے ابھی نئے ہیں.
تشہیر کے باوجود بھی وزارت خزانہ نے ٹیکنیکل مسائل اور قرض فراہم کرنے والے اداروں سے مذاکرات کیلئے کسی بھی ماہر معاشیات کو بھرتی نہیں کیا۔ ذرائع نے بتایا “ایسا لگتا ہے کہ آئی ایف سے ڈیل طے پا جانے کے بعد وزارت کے مفاد میں بیوروکریسی معاشی منیجمنٹ کو بین الاقوامی قرض فراہم کرنے والے ادارے کے سپرد کر دیں گے۔”
ایک ماہر معاشیات کا کہنا ہے “وزارت کی تیاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو آئی ایف پر جو بھی ہے اسے قبول کر لینا چاہئے۔ زیادہ دیر تک پروگرام میں تاخیر پاکستانی معیشت کے مفاد میں‌ نہیں۔”
پیر کے روز پاکستان پہنچنے والے آئی ایم کے وفد نے پہلی ملاقات وزارت خزانہ میں کی جہاں دوسرے بیل آؤٹ پروگرام پر بات چیت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد اگلے ایک ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور دیگر اداروں اور صوبائی حکام سے ملاقاتیں کرے گا جن میں پاکستان کو 7 سے 8 ارب ڈالر قرضے کی فراہمی ممکن بنانے پر بات چیت ہوگی۔
ترجمان وزارت خزانہ ڈاکٹر نجیب نے گزشتہ ہفتے گفتگو کرتے ہوئے کہا “اعداد و شمار کی بھرپور تیاری اور میکرواکنامک فریم ورک کی تکمیل اور تنظیمی اصلاحات کی جا رہی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ وزارت مرکزی بینک، پاور اور گیس ڈویژن، نجکاری کمیشن، ایف بی آر اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر مشتمل تمام بنیادی اسٹیک ہولڈرز سے تفصیلاً بات چیت کر چکی ہے۔
اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کے روز چین میں دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے دوران آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کرسٹین لگارڈ سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں جانب سے ملک کیلئے آئی ایم ایف پروگرام کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا اور پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین تعلق پر بات چیت کی گئی۔
آئی ایم ایف نے بھی پاکستانی معیشت کو خطرے میں قرار دیدیا
پاکستانی معیشت مزید 2 سال مشکلات کے بھنور میں رہے گی، ایشیائی اور عالمی بینک کے بعد آئی ایم ایف نے بھی خدشہ ظاہر کردیا، رواں سال اقتصادی ترقی کی رفتار 2.9 فیصد رہنے کی پیشگوئی، بے روزگاری اور مہنگائی کا پارہ حکومتی اندازوں سے بھی اوپر رہے گا۔
حکومتی کوششوں کے باوجود ملکی معشیت پر چھائے سیاہ بادل جلد چھٹتے نظر نہیں آتے، ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک کے بعد عالمی مالیاتی فنڈ کے بھی بڑے خدشات سامنے آگئے، ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ 2019ء کے مطابق رواں مالی سال اقتصادی ترقی کی رفتار 2.9 فیصد رہے گی، آئندہ مالی سال یہ شرح مزید کم ہو کر 2.8 فیصد تک گرنے کی پیشگوئی بھی کردی۔
اس سے قبل اے ڈی بی نے 3.9 فیصد جبکہ عالمی بینک نے معاشی ترقی کی رفتار 3.4 فیصد تک رہنے کا دعوی کیا تھا۔ آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق مہنگائی کا جن بھی 2 سال تک غصے میں رہے گا، رواں مالی مہنگائی 6 فیصد کے حکومتی اندازوں سے بھی زیادہ 7.6 فیصد رہنے کا خدشہ ہے۔
جبکہ بے روزگاری 6.1 فیصد کی سطح پر رہے گی، آئندہ مالی سال بے روزگاری کا پارہ 6.2 فیصد کی سطح کو چھو جانے کا امکان بھی ظاہر کردیا۔
آئی ایم ایف حکام کہتے ہیں معاشی اعدادوشمار میں بہتری کیلئے حکومت کو مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here