وفاقی حکومت نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کیلئے 536.6 ارب روپے کے فنڈز جاری کردئیے

211

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام 2018-19ء کے تحت مختلف ترقیاتی منصوبوں کیلئے کل مختص 675 ارب روپے میں سے 536.6 ارب روپے کے فنڈز جاری کر دیئے.

وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے اعدادوشمار کے مطابق 21.06 ارب روپے وفاقی وزارتوں کیلئے، 219.757 ارب روپے مخلتف کارپوریشنز کیلئے اور 37.6 ارب روپے کچھ مخصوص ایریاز کیلئے جاری کیے گئے ہیں.

نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 208.835 ارب روپے، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (NTDC) اور پاکستان پاور کمپنی (PEPCO) کیلئے 10 ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں جبکہ ان دو اداروں کیلئے کل 33 ارب روپے سے زائد کے فنڈز مختص کیے گئے تھے.

اسی طرح مواصلات ڈویژن (ہائی ویز اتھارٹی کے علاوہ ) کیلئے 10.13 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں. ریلوے ڈویژن کیلئے 28 ارب روپے کے زائد بجٹ میں سے 23.22 ارب روپے، ایوی ایشن ڈویژن کیلئے 1.039 ارب روپے، ہائیر ایجوکیشن کے مخلتف منصوبوں کیلئے 18.510 ارب روپے جبکہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کیلئے 26.270 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں.

اس کے علاوہ آبی وسائل ڈویژن کیلئے 53.9 ارب روپے، نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 12.784 ارب روپے، پاکستان نیوکلئیر اتھارٹی کیلئے 0.276 ارب روپے، فنانس ڈویژن کیلئے 4.03 ارب روپے، موسمیاتی تغیرات ڈویژن کیلئے 0.7 ارب جاری کیے گئے ہیں.

اسی طرح پٹرولیم ڈویژن کیلئے 0.324 ارب روپے، منصوبہ بندی و ترقی و اصلاحات ڈویژن کیلئے 4.067 ارب روپے، سپارکو کیلئے 15.596 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں.

وفاقی حکومت نے ریاستی و سرحدی علاقہ جات ڈویژن کیلئے 25.56 ارب روپے، داخلہ ڈویژن کیلئے 7.8 ارب روپے، انسانی حقوق ڈویژن کیلئے 20.3 ملین روپے، ڈویژن برائے قومی تحفظ خوراک و تحقیق کیلئے 491.1 ملین روپے جاری کیے ہیں.

حکومت نے آزاد جموں اینڈ کشمیر بلاک اور دیگر منصوبوں کیلئے 24.121 ارب روپے، گلگت بلتستان کیلئے 13.48 ارب روپے کے فنڈز جاری کر دیے ہیں.

ان فنڈز کو جاری کرنے کیلئے منصوبہ بندی کمیشن پاکستان کا اپنا طریقہ کار ہے جس کے مطابق پہلی سہ ماہی (جولائی سے ستمبر) تک 20 فیصد، دوسری سہ ماہی (اکتوبر سے دسمبر) تک 20 فیصد، تیسری سہ ماہی (جنوری تا مارچ) تک 30 فیصد جبکہ چوتھی سہ ماہی (اپریل سے جون) تک 30 فیصد ترقیاتی فنڈز جاری کیے جاتے ہیں.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here