ایف بی آر کاروباری مراکز پر چھاپوں کا سلسلہ بند کرے: صدر آئی سی سی آئی

چھاپے مار کر کاروباری طبقے کو ناصرف ہراساں کیا جا رہا ہے بلکہ نجی شعبے میں حکومتی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے اور تاجر مایوس ہو رہے ہیں: احمد حسن مغل

116

اسلام آباد: صدر اسلام آباد ایوان صنعت و تجارت (ICCI) احمد حسن مغل نے کہا ہے ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرنے کی بجائے ٹیکس آمدن میں اضافے کیلئے ایف بی آر پہلے سے ٹیکس دہندگان کو تنگ کرر ہا ہے. چھاپے مار کر کاروباری طبقے کو ناصرف ہراساں کیا جا رہا ہے بلکہ اس طرح کی کارروائیوں سے نجی شعبے میں حکومتی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے.

اپنے ایک بیان میں احمد حسن مغل نے کہا کہ چیئرمین ایف بی آر نے کاروباری طبقے کے خلاف چھاپے نہ مارنے کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم اس کے باوجود ایف بی آر حکام کے چھاپے جاری ہیں. ایف بی آر حکام اس طرح کے استعمال کرتے ہوئے ٹیکس دہندگان کو مزید مشکلات سے دوچار کرنے سے باز رہیں.

انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے خلاف کوئی شکایت ہو تو ایف بی آر کو چاہیے کہ وہ اسلام آباد ایوان صنعت و تجارت اور متعلقہ مارکیٹ ایوسی ایشن کو اعتماد میں لے اور دونوں ملکر مسئلے کا حل نکالیں. قانون میں میں ٹیکس دہندگان سے متعلق کسی قسم کی شکایت کی صورت میں ایک راستہ موجود ہے.

صدر آئی سی سی آئی کا کہنا تھا کہ کاروباری مراکز پر چھاپوں، گرفتاریوں، ریکاڑڈ قبضے میں لینے اور کاروبار بند کروانے جیسے اقدامات سے ٹیکس دہندگان کی بے عزتی ہو رہی ہے، حکومت اور مشیر خزانہ ایف بی آر کو ایسی کارروائیوں سے روکیں.

آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر رافت فرید اور نائب صدر افتخار انور سیٹھی نے کہا کہ کاروباری طبقہ ٹیکس ادائیگی کے ہر گز خلاف نہیں ہے تاہم ہم چاہتے ہیں کہ ایف بی آر دوستانہ برتائو رکھے. کیونکہ جب باقاعدہ ٹیکس ادا کرنے والوں کے خلاف ان کارروائیوں کو نان فائلرز دیکھتے ہیں تو بجائے متاثر ہونے کے وہ ٹیکس نہ دیکر خود کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر چیئرمین ناصرف اپنے اہلکاروں کے ہتھکنڈوں کی انکوائری کروائیں بلکہ وصول کیے گئے جرمانے بھی واپس کروائیں.

انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری طبقے ایسی کارروائیوں کی ہرگز توقع نہیں تھی، بلکہ ہمارا خیال تھا کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے موجودہ حکومت ایف بی آر میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کرے گی. حکومت کو یقیناََ کاروباری طبقے کے ان تحفظات کو حل کرنا چاہیے بصورت دیگر ٹیکس کلچر اور سرمایہ کاری کے حوالے سے تاجروں میں بد دلی پھلیے گی.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here