آئندہ مالی سال کیلئے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کی مد میں 700 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان

مسلم لیگ ن کے دور میں 1280 ارب روپے کی ترقیاتی سکیموں کی منظوری دی گئی تھی جن کی تکیمیل کیلئے 5.9 کھرب روپے کی ضرورت تھی

195

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2019-20ء کے دوران پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کیلئے 700 ارب روپے مختص کیے جانے کی توقع ہے.

ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے وزارت منصوبہ بندی سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 675 ارب روپے مختص کرنے کا کہا ہے یہی رقم رواں مالی سال کے دوران رکھی گئی تھی.

وزارت خزانہ کی ہدایات کیمطابق پلاننگ ڈویژن نے آئندہ پبلک سیکٹر پروگرام کو حتمی شکل دینے کیلئے کام شروع کر دیا ہے.

ذرائع کے مطابق اس واضح پیغام کے باوجود کہ قومی خزانہ مجوزہ پروگام سے زیادہ کا متحمل نہیں ہو سکتا وزارت منصوبہ بندی نے اس میں مزید کچھ منصوبوں کا اضافہ کردیا ہے جس کی وجہ سے پروگرام کی مجموعی لاگت 700 ارب روپے ہو گئی ہے.

اگر یہ 700 ارب روپے کا پروگرام منظور ہو جاتا ہے تو یہ گزشتہ پروگرام سے 25 ارب روپے زیادہ ہوگا. ابتدائی طور پر رواں مالی سال کے پبلک سیکٹر پروگرام کیلئے بھی 800 ارب روپے کی منظوری دی گئی تھی. تاہم ذرائع کے مطابق موجودہ حکومت نے گزشتہ حکومت کے پیش کردہ بجٹ کا جائزہ لیکر پبلک سیکٹر پروگرام کا بجٹ 125 ارب روپے کم کر دیا تھا.

ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی خسارے اور آمدن میں کمی کی وجہ سے آئندہ مالی سال کا ترقیاتی بجٹ بھی کم ہو سکتا ہے.

بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات، قرضوں پر بہت زیادہ سود اور ایف بی آر اور سٹیٹ بنک کی آمدن میں کمی مالیاتی خسارے کی بڑی وجوہات ہیں.

وزارت خزانے کے ذرائع نے بتایا کہ کمزور مالی پوزیشن کے باوجود ہو سکتا ہے کہ حکومت سیاسی مضمرات کی بنا پر ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دے، مجوزہ ترقیاتی اخراجات کے برعکس آئندہ بجٹ کیلئے ملکی آمدنی بھی غیر معقول رہنے کی توقع ہے.

وزارت منصوبہ اس لحاظ سے بھی مشکل کا شکار رہے گی کیونکہ رواں مالی سال کے بجٹ میں 44 وزارتوں اور محکموں کیلئے منظور شدہ 371.93 ارب روپے بھی اسے کسی طرح ایڈجسٹ کرنا ہوں گے.
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں 1280 ارب روپے کی ترقیاتی سکیموں کی منظوری دی گئی تھی جن کی تکیمیل کیلئے 5.9 کھرب روپے کی ضرورت تھی. وزارت منصوبہ بندی میں موجود بیوروکریسی بھی سابق حکومت کو ترقیاتی پروگرامیں‌سیاسی بنیادوں پر منصوبے شامل کرنے سے نہ روک سکی.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here