ایرانی تیل کے 8 برآمدکنندگان کا استثنیٰ ختم ہونے پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ

268

ایران سے تیل خریدنے والے 8 ممالک کو حاصل استثنیٰ ختم کرنے کے امریکی اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوگیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد برطانوی برینٹ کروڈ آئل کی فی بیرل قیمت 2.77 فیصد اضافے سے 73.96 ڈالر ہوگئی جبکہ کینیڈین کروڑ کی فی بیرل قیمت 3 فیصد اضافے سے 52.59 ڈالر ہوچکی ہے.

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 2.34 فیصد اضافے کے بعد 65.57 ڈالرفی بیرل ہوگئی، کاروبار کے دوران ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت ایک موقع پر 65.92 ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

درآمد کنندگان کا استثنیٰ ختم کرنے کا مقصد ایرانی تیل کی برآمد کو صفر کرنا ہے تاکہ ایران کی آمدنی میں خاطر خواہ کمی کی جاسکے۔

2015ء میں امریکا نے ایران اور 6 عالمی طاقتوں کے مابین جوہری معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی جس کے بدلے اس پرعائد عالمی اقتصادی پابندیاں نرم کردی گئی تھیں۔

ٹرمپ انتظامیہ ایران سے نیا معاہدہ چاہتی ہے جس میں جوہری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنے کی شرط بھی شامل ہو تاہم ایران اس کیلئے تیار نہیں۔

ایران پر دباؤ بڑھانے کیلئے امریکا نے گزشتہ برس نومبر میں ایرانی معیشت کو جلا بخشنے والے اہم شعبوں جن میں توانائی، جہاز سازی، جہازرانی اور بینکنگ سیکٹرز شامل ہیں، دوبارہ پابندیاں عائد کردی تھیں۔

تاہم ایران سے خام تیل خریدنے والے 8 اہم ممالک کو 6 ماہ کا استثنیٰ دیا گیا تھا تاکہ وہ متبادل ذرائع سے تیل خریدنے کا انتظام کرلیں اور اچانک سے عالمی منڈی پر طلب کا دباؤ نہ پڑے، ان ممالک میں چین، بھارت، جنوبی کوریا، جاپان، تائیوان، ترکی، اٹلی اور یونان شامل ہیں۔

ان میں سے 3 ممالک یونان، اٹلی اور تائیوان نے ایران سے تیل کی خریداری بند کردی ہے تاہم دیگر ممالک چاہتے ہیں کہ امریکا استثنیٰ کی مدت میں توسیع کرے جو 2 مئی کو ختم ہورہی ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پابندیوں کی صورت میں اپنی تمام بحری گزرگارہیں بند کر دیں گے.

ایرانی پاسدارن انقلاب کے بحری کمانڈر علی رضا تینگسیری نے ایرانی میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ آبنائے ہرمز کے استعمال کے حوالے سے کسی پابندی کے لاگو کرنے کی صورت میں ہم اپنی تمام آبناؤں کو آمدورفت کے لیے بند کر دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی قوانین کے مطابق ایک سمندری گزر گاہ ہے۔ ایران پر اس آبناء کے استعمال پر بعض پابندیاں لائی گئیں تو ہم اپنی تمام آبناؤں کو آمدورفت کے لیے بند کر دیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد علی جعفری کی جگہ انکے نائب حسین سلامی کی تعیناتی کا امریکہ کے فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here