پاکستانی تیاری پکڑ لیں، آئی آیم ایف کی ہدایت پر حکومت کا سنگل ویلیوایڈڈ ٹیکس کے نفاذ پر غور

229

پاکستانیوں کی گردنوں پر ٹیکسوں کی نئی تلوار لٹکنے لگی ہے کیونکہ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (IMF) کی ہدایت پر سنگل ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) کے نفاذ پر رضامندی ظاہر کردی ہے جو وفاق اور صوبوں کی آمدنی 1.25 کھرب روپے تک بڑھانے کیلئے وسط مدتی میکرو اکنامک فریم ورک کا حصہ ہے.

انگریزی روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو تین سال تک آمدنی بڑھانے کے لیے اضافی کوششیں کرنا ہوں گی جو ملکی مجموعی پیداوار (GDP) کے 2.6 فیصد تک ہوگا۔

آئی ایم ایف پروگرام کے تحت 3 سالہ اصلاحاتی عمل کے دوران وفاقی سطح پر ٹیکسوں میں 2.3 فیصد تک اضافہ کیا جائے گا جس سے مجموعی طور پر 10 کھرب 80 ارب روپے اکٹھے ہونگے.

یہ ٹیکس آئندہ مالی سال 20-2019 سے نافذ ہونا شروع ہونگے اور پہلے سال 1.1 فیصد اضافہ کیا جائے گا، اس کے بعد مالی سال 20-2021 میں 0.9 فیصد جبکہ 21-2022 میں 0.3 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

صوبوں میں ٹیکس 0.1 فیصد سالانہ بڑھائے جائیں‌ گے تاکہ مالی سال 21-2022 میں 1.6 فیصد تک ٹیکس سے جی ڈی پی کے تناسب کو حاصل کیا جاسکے جو رواں مالی سال کے دوران 1.3 فیصد ہے۔

مذکورہ پیشرفت سے متعلق دستاویزات کے مطابق وسیع پیمانے پر ٹیکس اقدامات سے مختلف اہداف حاصل کرنے کی اُمید لگائی گئی تھی، جس میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی پر اضافی ٹیکس کریڈٹ اور استثنیٰ کو ختم کرکے ٹیکس اخراجات میں واضح کمی کرنا شامل ہے جبکہ اس کے ساتھ سنگل ایڈڈ ویلیو ٹیکس (وی اے ٹی) کے نفاذ سے خصوصی طریقہ کار کو دور کیا جائے گا جبکہ شرح ٹیکس کو کم کیا جائے گا۔

اس حوالے سے حکام کا کہنا تھا کہ اس وسط مدتی مالیاتی تخمینے سے متعلق آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سالانہ بنیادوں پر کلیدی اقدامات کے ممکنہ نتائج سامنے آئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here