پاکستان میں انٹرنیٹ کی صلاحیت 96 ٹیرابائٹ فی سیکنڈ تک بڑھانے کیلئے معاہدہ طے پا گیا

اس منصوبے کا پہلا فیز ایشیا، یورپ اور افریقہ کو جوڑے گا اور 2020ء کی پہلی سہ ماہی میں اس کی تکمیل متوقع ہے

64

پاکستان میں انٹرنیٹ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے سائبرنیٹ پاکستان اور پیس کیبل انٹرنیشنل (PEACE Cable International Network Company Ltd) کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے.

ڈان ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اینڈ ایسٹ افریقہ کنیکٹنگ یورپ (PEACE) اور کیبل انٹرنیشنل نیٹ ورک کمپنی لمیٹڈ اور سائبر انٹرنیٹ سروسز پرائویٹ لمیٹڈ (سائبرنیٹ پاکستان) کے درمیان ملک کے پہلے کیریئر نیوٹرل اوپن ایکسز سب میرین کیبل سسٹم (زیرسمندر کیبل کا نظام) کے ساتھ انٹرنیٹ انفرا اسٹرکچر کی صلاحیت کو 96 ٹیرابائٹ فی سیکنڈ تک بڑھانے کے لیے قاہرہ میں معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

پاکستان، جبوتی، مصر، کینیا اور فرانس میں قدم رکھنے کے ساتھ پیس کیبل سسٹم ایشیا، یورپ اور افریقہ کے اقتصادی راہداریوں کے مابین باہمی ربط فراہم کرے گا۔

اعلامیے کے مطابق یہ 12 ہزار کلومیٹر طویل نجی کیبل سسٹم صارفین کے لیے کھلی، لچکدار اور کیریئر نیوٹرل سروسز فراہم کرے گا جبکہ اس منصوبے کا پہلا فیز ایشیا، یورپ اور افریقہ کو جوڑے گا اور 2020ء کی پہلی سہ ماہی میں اس کی تکمیل متوقع ہے.

اس کے ساتھ ساتھ یہ منصوبہ مقامی آبادی کے لیے گیگابائٹ رفتار کو بڑھانے کے قابل بنائے گا اور پاکستان اور ہمسایہ ممالک میں صارفین کی جانب سے موبائل اور فکسڈ براڈ بینڈ کی طلب کو پورا کرنے میں مدد دے گا۔

مذکورہ اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ اس نظام کو ایسا بنایا گیا ہے کہ یہ جدید 200جی ٹیکنالوجی اور ڈبلیو ایس ایس ٹیکنالوجی کو اپنائے گا، جس سے فی سیکنڈ فی فائبر 16 ٹیرابائٹس سے زیادہ منتقل کرنے کی صلاحیت ہوگی اور یہ بڑھتی ہوئی علاقائی ضروریات کو پورا کرے گیا۔

واضح رہے کہ سائبرنیٹ پاکستان میں پیس کیبل لینڈنگ اسٹیشن پارٹنر ہے اور وہ پیس پاکستان کیبل لینڈنگ اسٹیشن (سی ایل ایس) قائم کرے گا اور اپنا آپریشن دیکھے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سائبرنیٹ مارچ 2020 تک پیس کیبل کے لیے پاکستان کا پہلا کیریئر نیوٹرل کیبل اسٹیشن بھی تعمیر کرے گا۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سائبرنیٹ پاکستان سی ای او دانش لاکھانی نے کہا کہ زیرسمندر کیبل کے نظام سے پاکستان میں ڈیجیٹل منظرنامے پر وسیع پیمانے پر اثر پڑے گا۔ اوراس کے ڈیزائن سے پاکستان اور فرانس کے درمیان ٹرانزٹ کا وقت کم ہوکر 90 ملی سیکنڈ ہو جائے گا، اس کے علاوہ انٹرنیٹ سے تعلق رکھنے والی ایپلیکیشن کا رسپانس ٹائم اور ہمارے صارفین کے تجربے میں بہتری آئے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here