سینیٹ قائمہ کمیٹی کا پی ٹی سی ایل کو ریٹائر ملازمین کو 2 ہفتوں میں پنشن کی ادائیگی کا حکم

359

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکشن ایمپلائی ٹرسٹ (PTET) کے حکام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ریٹائر ملازمین کو دو ہفتوں کے اندر اضافہ شدہ رقم کے ساتھ پینشن ادا کرکے رپورٹ جمع کرائیں.

وہ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز میں قائمہ کمیٹی کی ایک ذیلی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کررہیں تھیں. اجلاس کے ایجنڈہ میں پی ٹی سی ایل کے ریٹائر ملازمین کی پینشن میں اضافے کا مسئلہ موضوع بحث تھا.

قائمہ کمیٹی نے پی ٹی سی ایل اور پی ٹی ای ٹی سے دو ہفتوں کے اندر سرمایہ کاری، بزنس اور سرمایہ کاری رولز، بنک ڈپوزٹس اور پی ٹی سی ایل کی دو عمارتوں پر سرمایہ کاری کے منافع کی تفصیلات طلب کی ہیں. اس کے علاوہ 1996ء کے ایکٹ کے مطابق فنڈز کی سالانہ تقسیم، رضارانہ علیحدگی سکیم (Voluntary Separation Scheme) سے متعلق تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں.

کمیٹی نے ٹرسٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ علیحدگی سکیم کے علاوہ ریٹائر ملازمین کو دستیاب فنڈز میں سے پینشن ادا کرے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قائمہ کمیٹی کی ہدایات بورڈ آف ٹرسٹیز کے زیر غور آئیں.

پاکستان ٹیلی کمیونیکشن ایمپلائی ٹرسٹ کے مینجنگ ڈائریکٹر نے قائمہ کمیٹی کے اراکین کو بتایا کہ جو ملازمین عدالت گئے تھے انہیں پینشن ادا کر دی گئی ہے تاہم عدالت نے باقی ماندہ ملازمین کو کسی مناسب فورم پر مسئلہ اٹھانے کی ہدایت کی تھی.

انہوں نے مزید بتایا کہ پنشن ادا کرنے کیلئے ٹرسٹ کے پاس فنڈز نہیں ہیں جبکہ 31 دسمبر 2018ء تک ملازمین کی پنشن کی رقم 41 ارب ہو چکی ہے.

سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ عدالت جانے والے 343 ملازمین کو پینشن کی ادائیگی کردی گئی ہے جبکہ باقی ابھی تک انتظار کر رہے ہیں.

سینٹر رحمان ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ملازمین کو مسئلہ مناسب فورم پر اٹھانے کا حکم دیا تھا، یہ قائمہ کمیٹی مناسب فورم ہی ہے، ہم آپکو حکم دیتے ہیں‌ کہ ملازمین کی پنشن ادا کریں.

رحمان ملک نے کہا کہ ان ملازمین نے اس ادارے کو اپنی ساری زندگی دی، وہ اس قسم کے سلوک مستحق نہیں‌ہیں، ہم غریب پنشنرز کے مسائل کے حل کیلئے کسی بھی حد تک جائیں‌ گے.

تاہم ٹرسٹ کے ملازمین کا اصرار اسی بات پر رہا کہ ان کے پاس فنڈز کی کمی ہے، موجودہ فنڈز سے اضافی پینشن نہیں ادا کی جا سکتی. تاہم کمیٹی نے ٹرسٹ سے تمام تفصیلات طلب کرتے ہوئے دو ہفتوں میں پینشن ادا کرنے اور رپورٹ دینے کا حکم دے دیا.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here