پاکستان آئی ایم ایف سے 6 سے 8 ارب ڈالر قرض حاصل کرے گا، اسد عمر

209

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے پیر کے روز گفتگو کے دوران کہا کہ پاکستان کا عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ پیکج پر اتفاق رائے ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کو 6 سے 8 ارب ڈالر کا قرض حاصل ہو سکے گا۔
نیویارک سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو میں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے اصولی اتفاق کے معاہدے پر دستخط کئے اور معاہدے کی نقول کا تبادلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ عوامی شعبے کی سرمایہ کار کمپنیوں، بجلی کی نشریات اور تقسیم کار نظام کیلئے عوامی مالیاتی بجٹ میں بہتری سے متعلق ہے۔
آئی ایم حکام سے ملاقات سے متعلق اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اکتوبر 2018ء میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کر دیا تھا اس لئے اس منصوبے کی بابت کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا “جب سی پیک کی بات کی جائے تو ہم نے اس بارے کچھ نہیں‌ چھپایا ہوا۔”
ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام افراط زر پر بوجھ نہیں بنے گاشاید تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کچھ ناپسند فیصلے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور شاید ان فیصلوں سے عوام پر مزید بوجھ بڑھے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی فنانس کارپوریشن سے مالیاتی تعاون کی یقین دہانی کروائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بیل آؤٹ پیکج کے تحت 15 ارب ڈالر کی مالی امداد کیلئے عالمی بینک سے بھی 7.5 ارب ڈالر پاکستان کو وصول ہوں گے. ان کا کہنا تھا “عالمی فنانس کارپوریشن اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی اسی طرح سے امداد کریں گے۔”
تعمیلی رپورٹ
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اپنے امریکی دورے کے دوران انہوں نے ایف اے ٹی ایف کے صدر مارشل بلنگسلی سے ملاقات کی جس میں ایف اے ٹی ایف صدر نے پاکستان کی پوزیشن سے متعلق فیصلے تکنیکی بنیادوں پر کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
اسد عمر نے کہا کہ پاکستان پیر کی شام اپنی تعمیلاتی رپورٹ ایف اے ٹی ایف کو ارسال کرے گا. انہوں نے مزید کہا کہ مئی کے تیسرے ہفتے میں ایف اے ٹی ایف کا ایک وفد پاکستان کا دورہ کرے گا جو پاکستان کی کوششوں پر تجزیہ کرے گا۔
اسد عمر نے مزید کہا “ہم نے بھارت کے رویے اور تعصب سے متعلق اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا. ایف اے ٹی ایف کے صدر نے یقین دہانی کروائی ہے کہ پاکستان کی پوزیشن سے متعلق کوئی بھی فیصلہ صرف میرٹ پر کیا جائے گا۔”
اس سے قبل فیض اللہ کموکا کی سربراہی میں ہونے والی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، ریونیو اور معاشی امور کے اجلاس میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پیکج ملک کے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ کو کم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا “جنوری کے وسط تک بیرونی اکاؤنٹ کے دباؤ سے ہمارے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر گھٹ کر 6.6 ارب ڈالر رہ گئے تھے لیکن سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے ملنے والی مختصر مدتی مالی امداد سے ہمارے بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے جو مارچ کے اختتام پر 10.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے معیشت میں بہتری آئے گی۔ اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے سے عوام پر اثر نہیں پڑے گا اور حکومت کا بجلی کے نرخ بڑھانے کا بھی کوئی منصوبہ نہیں۔
جب کمیٹی اراکین نے وزیر خزانہ سے آئی ایم ایف پیکج کی تفصیلات بتانے کا اصرار کیا تو وزیر خزانہ نے کہا کہ ایک دفعہ جب پاکستان اور آئی ایف کے مابین اس اعلیٰ‌ سطحی معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے وہ تفصیلات سے آگاہ کر دیں گے۔
وزیر خزانہ اسد عمر وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کریں اور آئی ایم ایف سے ہونے والی گفتگو سے متعلق اعتماد میں لیں گے۔
مثبت مذاکرات
سوموار کے روز آئی ایم ایف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں جاری موسم بہار کی ملاقات میں پاکستانی حکام کے ساتھ “مثبت مذاکرات” کا انعقاد ہوا اور آئی ایم ایف کا ایک وفد بیل آؤٹ پیکج کیلئے رواں مہینے بات چیت کو حتمی شکل دینے کیلئے پاکستان کا دورہ کرے گا۔
آئی ایم ایف کے دفتر میں ریزیڈنٹ ری پریزنٹیٹو کی رپورٹس کی روشنی میں کئے گئے اعلان کے مطابق یہ کہا گیا تھا کہ پیکج کو حتمی شکل دینے کیلئے آئی ایم ایف کے وفد کا دورہ پاکستان دونوں فریقین کے مابین اتفاق رائے نہ پیدا ہونے کی صورت میں ملتوی ہو سکتا ہے۔
آئی ایم ایف سے جاری بیان کے مطابق “واشنگٹن ڈی سی میں موسم بہار میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی ملاقاتوں میں بیل آؤٹ پیکج کیلئے پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف حکام کے مابین مذاکرات مثبت رہے۔”
بیان میں مزید کہا گیا “حکام کی درخواست پر اپریل کے اختتام سے پہلے آئی ایم ایف کا وفد مذاکرات کو حتمی شکل دینے کیلئے پاکستان کا دورہ کرے گا۔”
واشنگٹن ڈی سی میں موسم بہار کے سالانہ اجلاس میں اسد عمر کی زیر سربراہی اعلیٰ سطحی وفد کی آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے حکام سے ملاقات میں آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 3 سالہ بیل آؤٹ پیکج پر اتفاق کر لیا ہے۔
مبینہ طور پر عالمی قرض دہندہ نے پاکستان کی جانب سے تجویز کردہ اثاثہ جات سے متعلق اعلاناتی اسکیم پر اعتراض نہیں‌ کیا کیونکہ پاکستان پہلے ہی ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کو اس اسکیم کے ابتدائی امور سے متعلق آگاہ کر چکا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here