سیاحوں کیلئے ویزہ میں آسانی سمیت ہر ممکن سہولیات کو یقینی بنا رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان

138

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان دلکش اور متنوع سیاحت کے لحاظ سے دنیا میں منفرد مقام رکھتا ہے، پرکشش پہاڑی سلسلوں، صحراﺅں، خوبصورت ساحلوں، آبشاروں اور تاریخی و مذہبی آثار قدیمہ کے حسین امتزاج کے حامل سیاحتی مقامات پاکستان کے علاوہ دنیا میں کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملیں گے، پاکستان کے دروازے سیاحوں کے لئے کھلے ہیں ، ویزہ میں آسانی سمیت ان کے لئے ہر ممکن سہولیات کو یقینی بنا رہے ہیں، سیاحت کے شعبہ کے فروغ میں سوشل میڈیا اہم کردار کا حامل ہے۔ وہ بدھ کو یہاں وزیراعظم آفس میں پاکستان ٹورازم سمٹ کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی و صوبائی وزرائ، اراکین پارلیمنٹ، سیاحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے نجی شعبہ کے لوگوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ وزیراعظم عمران خان نے پہلی ٹورازم سمٹ کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں خوبصورت پہاڑی سلسلے ہیں اور ان میں بھی تنوع پایا جاتا ہے، ملک کی ساحلی پٹی بھی منفرد نوعیت کی ہے، صحرا، ندیاں، آبشاریں، مختلف مذاہب کے مقدس مقامات، آثار قدیمہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لئے کشش کا باعث ہیں، اس قسم کی متنوع سیاحت دنیا میں کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے ساحلی علاقے سیاحت کے لئے موزوں ترین ہیں، یہاں پر جو بیچ ٹورازم ہوسکتی ہے وہ دنیا میں کہیں بھی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے طبقہ اشرافیہ کو پتہ ہی نہیں کہ پاکستان کتنا خوبصورت ہے کیونکہ جب بھی ایلیٹ کلاس کو وقت ملتا تو وہ سیرو سیاحت کے لئے پاکستان کے دل آویز سیاحتی مقامات کی بجائے یورپ اور لندن کا رخ کرلیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بچپن سے ہی سیرو سیاحت کا شوق تھا، اسی شوق کے ساتھ پوری دنیا دیکھی۔ سوئزر لینڈ، آسٹریلیا، افریقہ بھی دیکھے لیکن پاکستان میں سیاحت کے حوالے سے جو تنوع پایا جاتا ہے اس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ہے، پاکستان میں مونٹیئن ٹورازم، بیچ ٹورازم، ڈیزرٹ ٹورازم، مذہبی سیاحت کا جو امتزاج ہے وہ دنیا میں کہیں یکجا نہیں ملے گا، پاکستان دنیا کی خوش قسمت سرزمین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اتنے خوبصورت اور متنوع علاقوں سے نوازا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انہوں نے 15سال کی عمر میں شمالی علاقہ جات کو بہت قریب سے دیکھا، ہمارے استاد خصوصی طور پر پہاڑی علاقوں اور شمالی علاقہ جات کے سیاحتی دوروں کا اہتمام کرتے تھے تا کہ ہماری دلچسپی بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر پہاڑی سلسلہ الگ الگ خصوصیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس انگریز کے دور کے ریزارٹس ہیں لیکن پاکستان بننے کے بعد کوئی نیا ریزارٹ نہیں بنا۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کے فروغ کے لئے اب اتنی تشہیر کی ضرورت نہیں ہے، سوشل میڈیا ایک تیز رفتار ذریعہ ہے جس کے ذریعے کوئی بھی چیز سیکنڈز میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دہشت گردی کی وجہ سے ہمارے شمالی علاقہ جات کی سیاحت بھی متاثر ہوئی لیکن امن و امان کی بہتری کے ساتھ ہی شمالی علاقہ جات سمیت ملک بھر میں سیاحت دوبارہ فروغ پارہی ہے، مقامی سیاحت میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے، تین سال قبل جب شمالی علاقہ جات گیا تو وہاں کے کسی ہوٹل میں گنجائش نہیں تھی پتہ چلا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے پاکستانی موسم گرما کی تعطیلات پر پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں آئے ہوئے ہیں، ان لوگوں کو شمالی علاقہ جات کی جانب سوشل میڈیا نے ہی راغب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ عموماً چھٹیوں میں محدود نوعیت کے سیاحتی مقامات پر جانا پسند کرتے ہیں، گرمیوں کی چھٹیوں یا کسی بھی تعطیلات پر مری سے نتھیا گلی تک ٹریفک جام ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم سیاحت کے نئے مقامات ڈھونڈ رہے تھے تو پتہ چلا کہ نتھیا گلی جیسے 100 مقامات موجود ہیں، ان مقامات کو سہولیات فراہم کر کے انہیں بہترین سیاحتی مقام بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک فضائی جائزہ کے دوران اپر دیر کے کمراٹ کے مقام کی تصویر سوشل میڈیا پراپ لوڈ کی تو لاکھوں لوگ وہاں پر پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مقامی سیاحت فروغ پا رہی ہے جو مواقع پاکستان کی سیاحت میں ہے وہ دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خیبر پختونخواہ میں 2013-18 حکومت کے دوران نتھیا گلی میں میں صرف صفائی کرائی، سٹرکیں بہتر کیں اور انگریز دور کے بنے ہوئے ٹوائلٹس کو ٹھیک کیا تو وہاں کی زمین کے ریٹس کئی گنا بڑھ گئے اور سیاحوں کی ایک کثیر تعداد نے نتھیاگلی کا رخ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے بیرون ملک سے جو بھی دوست آتے تھے انہیں ایک مرتبہ شمالی علاقہ جات کی سیر کرائی تو وہ ہر بار شمالی علاقہ جات جانے کی خواہش رکھتے تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سیاحت کو ریگولیٹ اور سیاحت کے حوالے سے قوانین نہ بنائے گئے تو یہ سیاحتی مقامات خراب ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی علاقہ جات اور کے پی کے کے سیاحتی مقامات کے مقامی لوگ بہت مہمان نواز ہیں، سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کی حالت زار کو بھی بہتر بنانے اور انہیں سہولیات فراہم کر کے بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں پرانے مقامات، قلعے اورعمارتیں ہیں، بس ہم نے وہاں سیاحوں کو ایک دفعہ راغب کرناہے اسکے بعد سیاح خود وہاں پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سیاحت میں مذہبی سیاحت اہم جزو ہے، پاکستان میں صوفیائے کرام کے مزاروں پر عرس کے علاوہ بدھ ازم، ہندو ازم اور سکھ ازم سے متعلق مذہبی سیاحتی مقامات ہیں، پوری دنیا سے ان مقامات کے لئے لوگ آئیں گے، ہم نے اسی لئے پاکستان کی ویزہ نظام کو تبدیل کر دیا اور غیر ملکی سیاحوں کے لئے این او سی کی شرط ختم کر دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور ٹورازم ٹاسک فورس سیاحوں کو سہولیات فراہم کرے گی، باقی کام پرائیویٹ سیکٹر نے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دوبئی طرز پر بلندو بالا عمارتوں کی اجازت دی ہے جلد اس سے متعلق قانون بھی بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسلام آباد اور راولپنڈی کا فضائی جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ اسلام آباد بارہ کہو سے بھی آگے پھیل چکا ہے اور راولپنڈی ایک کنکریٹ سلیبس کا منظر پیش کر تا ہے، دونوں شہروں میں زرعی زمین ختم ہوگئی ہے، جو فوڈ سکیورٹی کے مسائل پیدا کرے گی اسی لئے شہروں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں اپنے پرائیویٹ سیکٹر کے علاوہ ملائیشیا اور دیگر ممالک بھی دلچسپی لے رہے ہیں، ہمارے سامنے مثال ہے کہ ترکی اور ملائیشیا نے سیاحت کے شعبے میں ریکارڈ آمدن حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاحت کے فروغ سے زرمبادلہ پاکستان آئے گا اور نوکریوں کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ غربت میں بھی کمی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شماریات ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ پانچ سالوں میں سب سے کم غربت خیبر پختونخواہ میں ہوئی ہے اس کی بنیادی وجہ سیاحت کا فروغ ہے۔ خیبرپختونخوا کے سینئر صوبائی وزیر برائے سیاحت عاطف خان نے سیاحت کے فروغ بالخصوص صوبے میں اس ضمن میں اٹھائے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here