نئے آٹو میکرز کی آمد سے پاکستان میں آٹو پارٹس کی مقامی انڈسٹری کس قدر متاثر ہوگی؟

مقامی پارٹس میکرز اس لیے ناخوش ہیں کیونکہ یورپی اور جنوبی کوریا کے آٹو موبائل مینوفیکچررز کو کم قیمت پر پرزہ جات کی درآمد کی اجازت دی جائے گی

758

پاکستانی آٹو انڈسٹری سوزوکی، ٹویوٹا اور ہونڈا کیساتھ جاپانی آٹو مینو فیکچررز کا ایک کارٹل نظر آتی ہے، سوزوکی چھوٹی گاڑیاں بنا رہی ہے، ٹویوٹا درمیانے سائز کی جبکہ ہونڈا بڑی گاڑیاں بنا رہی ہے. تینوں کمپنیوں ایک دوسری سے مقابلہ نہیں کرتی ہیں اور اپنی اپنی حدود میں رہتی ہیں جو کہ اجارہ داری قائم رکھنے کیلئے کسی خفیہ گٹھ جوڑ کی واضح مثال ہے.

تاہم انڈس موٹرز (ٹویوٹا کا پاکستان میں‌ذیلی ادارہ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) علی اصغر جمالی اس خیال سے اتفاق نہیں‌ کرتے. وہ کہتے ہیں کہ چند عشرے قبل ٹویوٹا دیگر اوریجنل ایکویپمنٹ مینوفیکچررز کیساتھ پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہوئی تو اس وقت صنعتوں کے حوالے سے حکومتی پالیسیاں محض درآمدات کے متبادل پر مبنی تھیں. حکومت آٹو کمپنیوں کو زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر قائم کرنا چاہتی تھی یہی وجہ تھی کہ آٹو کمپنیوں نے زیادہ تر پروڈکشن مقامی سطح پر کرنے کی کوشش کی.

علی اصغر جمالی نے کہا کہ ہم نے مقامی سطح پر پروڈکشن بڑھانے کی کوشش کی، اس وقت ہم زیادہ پروڈکشن مقامی طور پر کر رہے ہیں اور قیمتوں میں بھی کافی فرق ہے.

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹویوٹا کاریں خاص طور پر کرولا میں زیادہ تر مقامی طور پر تیارکردہ پرزہ جات استعمال کیے جاتے ہیں. پرزہ جات کی بناوٹ کے حوالے سے مزید تجربات کی روشنی میں کرولا کے ہر ماڈل کو ٹویوٹا نے زیادہ سے زیادہ کامیابی کیساتھ مقامی بنانے کی کوشش میں جہاں متوقع نتائج حاصل کیے ہیں وہیں قیمت بھی کم کی ہے.

انڈس موٹرز کے سی ای او کے مطابق پہلی کرولا کار میں بہت کم مقامی پرزے استعمال ہوئے تھے اور اس کی قیمت زیادہ تھی جبکہ حالیہ کرولا کار میں 64 فیصد پرزہ جات مقامی لگائے گئے ہیں. اس کے علاوہ بھی کار میں بہت سے اضافے کیے گئے ہیں جیسے کہ دو ائیر بیگس، پاور سٹیرنگ، اے بی ایس بریکس، اموبیلائیزر وغیرہ.

ٹویوٹا نے حال ہی میں پاکستان میں پیداواری صلاحیت 20 فیصد تک بڑھا دی ہے اور موجودہ ماڈلز کی پیداوار میں اضافہ کرنے اور پاکستانی مارکیٹ میں‌نئے ماڈلز متعارف کرانے کیلئے 126 ملین ڈالر سرمایہ کاری بھی کی ہے. کمپنی کی پیداواری صلاحیت 54 ہزار 800 گاڑیوں سے بڑھ کر 66 ہزار ہو چکی ہے جبکہ اوورٹائم میں ٹویوٹا 80 ہزار گاڑیاں پاکستان میں بناسکتی ہے.

پیداواری صلاحیت میں اضافہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹویوٹا ریونیو اور مارکیٹ آپریشنز کے حساب سے پاکستان میں سب سے بڑی کمپنی بن چکی ہے جبکہ اسے نئی اور پرانی کاریں درآمد کرنے پر بھی سرکاری ٹیرف سے کافی تحفظ حاصل ہے اور جاپانی کمپنیاں بشمول ٹویوٹا حکومت سے مزید تحفظ کی خواہاں ہیں. موجودہ کمپنیاں حکومت سے خاص طور پر اس لیے بھی ناراض ہیں کہ حکومت نے مارکیٹ میں نئی آنے والی کمپنیوں کو زیادہ مراعات دینے کی پیشکش کی ہے جو موجودہ کمپنیوں کو حاصل نہیں تھیں.

جمالی تسلیم کرتے ہیں کہ حکومت کو نئی کمپنیوں کو مراعات دینی چاہیں تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے مذکورہ کمپنیوں کیلئے درآمدات پر اپرچونٹی کاسٹ بڑھا دینی چاہیے تاکہ وہ مقامی طور پر تیار کردہ زیادہ سے زیادہ پرزہ جات خریدیں.

نئی پالیسی کے تحت مارکیٹ میں نئی داخل ہونے والی کمپنیوں واکس ویگن، نسان، رینالٹ، ہونڈائی، کیا اور دیگر کمپنیاں کمپلیٹلی نوکڈ ڈائون (سی کے ڈی) یونٹ 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی پر درآمد کرسکتی ہیں جبکہ مقامی پرزہ جات تیار کرنے والے پرزہ جات 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی پر اور سب اسمبلیز 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی ادا کرکے منگوا سکتے ہیں جس کی وجہ سے جمالی کے خیال میں مقامی دکاندار اِن کمپنیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے.

مقامی آٹو پارٹ میکرز کو بڑی معیشتوں کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑتا ہے اس لیے حکومت کو چاہیے کہ پرزہ جات پر کسٹمز ڈیوٹی کو 5 فیصد اور سب اسمبلیز پر 15 سے 10 فیصد کرکے ٹیرف کی اس غلطی کو درست کرے. اس اقدام سے مقامی پرزہ جات کی قیمت میں کمی واقع ہو گی اور یہ پارٹ میکرز نئی آنے والی کمپنیوں کیلئے پرزہ جات تیار کرنے کے قابل ہونگے.

جمالی کے مطابق موجودہ اور نئے اسمبلرز کی جانب سے آٹو پارٹس کی قریباََ 30 فیصد خریداری بارڈرلائن پر ہوگی جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مقامی پرزہ جات درآمدی متبادل پرزہ جات کی نسبت سستے ہوئے تو وہ مقامی پرزے ہی خریدیں گے.

مثال کے طور پر اگر کوئی پرزہ 125 روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور درآمد کرنے پر 130 روپے میں پڑ رہا ہے تو وہ درآمد ہی کریں گے. لیکن اگر ڈیوٹیز کم ہو جائیں اور پاکستانی آٹو پارٹ میکرز 110 روپے پر فروخت کر سکیں تو مقامی پرزہ جات کی فروخت میں یقینی اضافہ ہو سکتا ہے.

علی اصغر جمالی کا کہنا تھا کہ ٹویوٹا نے ہمیشہ مقامی انجنئیرنگ بیس کی حوصلہ افزائی کی ہے اور مقامی و غیر ملکی پارٹ میکرز کے مابین مخلتف ٹیکنالوجیز اور پرزہ جات کیلئے 35 ٹیکنیکل اسسٹنٹس اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے معاہدے کرائے ہیں. اسکے علاوہ 2004ء سے لیکر 170 پرزہ جات کی مقامی طور پر پروڈکشن شروع کی ہے جس سے روزانہ 200 ملین سے زائد کے پرزہ جات حآصل ہو رہے ہیں جس سے اس سلسلے میں ہمارا عزم ظاہر ہوتا ہے.

پاکستان میں کاروں کی ملکیت کی شرح نسبتاََ کم ہے یہاں ایک ہزار میں سے محض 18 افراد کے پاس کاریں موجود ہیں. 20 کروڑ سے زائد آبادی والی ابھرتی ہوئی معیشت میں جہاں نئی کمپنیوں کو حکومت گرین فیلڈ اور برائون فیلڈ سٹیٹس کے تحت خاطر خواہ مراعات دے رہی ہے وہاں کاروں کی ملکیت کی کم شرح نئے آنے والوں کیلئے اس صنعت کو قطعاََ منافع بخش بنا دیتی ہے.

آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ کمپنی لوڈز لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر منیر کریم بنا کہتے ہیں کہ 2021ء تک آٹو انڈسٹری کا ارادہ سالانہ 4 لاکھ 15 ہزار کاریں تیار کرنا، ملکی جی ڈی پی میں 3 فیصد سے زائد حصہ ڈالنا اور آٹو انڈسٹری اور اس سے جڑی دیگر صنعتوں میں 40 لاکھ لوگوں کو روزگار فراہم کرنا ہے.
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں اب چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور امریکا سے سرمایہ کاری آ رہی ہے اور آئی ایم ایف بیل آئوٹ پیکج ملنے کی بھی امید ہو چلی ہے، ایسے حالات میں پاکستان میں کاروں کی فروخت میں اضافہ بھی متوقع ہے اور ہو سکتا ہے یہ پہلے اندازوں کے برعکس 5 لاکھ یونٹس سے زیادہ ہو جائے.

منیر بنا نے کہا کہ ان سب کیلئے ضروری ہے کہ حکومت طویل المدتی اور ٹھوس پالیسیاں جاری رکھے، تاہم حالیہ نافذ کردہ 10 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سرمایہ کاروں کے ذہنوں میں غیریقینی پیدا کرنے کے علاوہ ان کے منصوبوں کو متاثر کرتی ہے.

منیر بنا پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ اسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) کے سابق چیئرمین رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مراعات دیکر اور پالیسیوں کے تسلسل کیساتھ مقامی آٹو مینوفیکچررز کی مدد کی جاسکتی ہے اور اس طرح وہ ملکی معیشت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں خاطر خواہ حصہ ڈال سکیں گے.

ٹیکنو آٹو گلاس لمیٹڈ (جو پاکستان میں ونڈ سکرین بنانے والی پہلی کمپنی ہے) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر اللہ والا نے کہا کہ آٹو پارٹس مینوفیکچررز کو ایک دوسرا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ آٹو پارٹس کی درآمد میں غیر قانونی دھندہ جاری ہے. جس کی وجہ سے اس صنعت کیلئے مسائل جنم لے رہے ہیں جبکہ حکومت بھی کسٹمز ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی مد میں سالانہ 19 ارب روپے سے محروم ہو رہی ہے کیونکہ پاکستان کسٹمز کی جانب سے درآمدی پرزہ جات کا تخمینہ کم لگایا جاتا ہے.

عامر نے کہا کہ کسٹمز ویلیوایشن رولنگ 661 میں تضادات کی وجہ سے غیر دیانتدار درآمدکنندگان کو ٹیکس چوری کا موقع ملتا ہے اور مقامی اندسٹری کو نقصان پہنچتا ہے. کمرشل امپورٹرز پرزہ جات کی ویلیوایشن کے تحت کسٹمز رولنگ 661 کے ذریعے اچھا خاصا ٹیکس بچاتے ہیں، خاص طور پر اعلیٰ معیار کے ٹیکنالوجی کے پرزہ جات پر ٹیکس بچایا جاتا ہے، اور مالیت کا تخمینہ او ای ایم امپورٹس اور مقامی طور پر تیار کردہ پرزہ جات کی قیمت سے بھی کم ہوتا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ درآمدی پالیسی کے تحت پرانے اور استعمال شدہ پرزوں کی درآمد کی اجازت نہیں ہے. تاہم ایک کسٹمز نوٹیفکیشن کے تحت 20 فیصد جرمانے کی ادائیگی پر پرانے اور استعمال شدہ پرزوں کی درآمد پر کلیئرنس کی اجازت دی جا رہی ہے. ہم نے حکومت کو ان تضادات کو دیکھنے کیلئے کافی بار کہا ہے جو کہ ناصرف مقامی آٹو انڈسٹری کی متاثر کر رہے ہیں بلکہ کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں کمی کی وجہ سے حکومت کو بھی خاطر خواہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے.

گزشہ سال “منافع” نے نسان موٹرز کارپوریشن کے سینئر نائب صدر پیمن کارگر کا انٹرویو کیا تھا. انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ نسان ابتدائی طور پر 20 فیصد دیسی پرزہ جات سے آغاز کرے گا اور آہستہ آہستہ اسے بڑھایا جائے گا.

نسان کے سینئر نائب صدر نے مزید کہا کہ پرزہ جات کی مقامی سطح پر تیاری کا عمل کاروں کی پیداوار پر منحصر ہے. قیمت اور فائدے کی شرح اس وقت بڑھ جاتی ہے جب درآمدی پرزہ جات سے موازنہ کرتے ہوئے کم طلب میں مقامی طور پر تیار کیے جاتے ہیں. انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیر مستحکم شرح مبادلہ کی وجہ سے لوکلائزیشن پراسس (پرزہ جات کی مقامی سطح پر تیاری ) کو زیادہ قابل عمل بناتا ہے اور قیمت کے تعین کے لحاظ سے بھی ٹھیک ہوسکتا ہے.

لیکن اس صنعت سے وابستہ ایک افسر نے دعویٰ کیا کہ اس طرح‌ نئے آنے والوں کے غیرملکی شراکت داروں کے مفادات کا ٹکرائو بھی ہوتا ہے. ہو سکتا ہے وہ بیرونی شراکت داروں کیلئے سہولتیں پیدا کرنے کی بجائے اپنے ملک کی برآمدات بڑھانے کی تگ و دو میں ہوں.

پاکستان میں آنے والی ایک نئی کمپنی کے ایک افسر نے بتایا کہ اگر مقامی پرزہ جات بنانے والوں کو ڈیوٹی میں چھوٹ دے دی جائے تو وہ نئی کمپنیوں کو اپنے پرزے فروخت کر سکتے ہیں اس صورت میں نئی کمپنیاں بھی جتنی جلدی ممکن ہوا مقامی طور پر پیداوار شروع کرنے کی کوشش کریں گی. لیکن حکومت کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ ڈیوٹی پر چھوٹ صرف اسی صورت دی جائے جب مقامی آٹو پارٹ میکرز نئی کمپنیوں کو پرزے فروخت کریں تاکہ نئی کمپنیوں کو دیے گئے وہ فوائد برقرار رہیں جس کی وجہ سے انہوں نے پاکستان میں کام شروع کیا.

ذرائع نے بتایا کہ مثال کے طور پر نئی کمپنیوں کو پرزے بیچنے والی مقامی لوگوں سے حکومت 5 فیصد کم ٹیکس وصول کرے. اس طرح نئی کمپنیوں کو پرزہ جات کم قیمت پر ملیں گے جس کی وجہ سے وہ مقامی طور پر پیداوار کی جانب بڑھیں گی اور بالآخر اس کا فائدہ زیادہ ہوگا. پیداواری لاگت قدرے کم اور مسابقتی ہو گی.

ذرائع نے اس بات کی تردید کی کہ مقامی طور پر پیدوار کے حوالے سے نئی کمپنیوں کے مفادات متصادم ہیں کہ شائد اس کی وجہ سے ان کی پیرنٹ کمپنی کی سیلز کم ہو جائیں. بلکہ اب تو چینی کمپنیاں بھی پاکستان میں پیداوار شروع کرنے پر غور کر رہی ہیں کیونکہ یہاں بہ نسبت دیگر ممالک کے لیبر سستی ہے. چینی لیبر پاکستان کی نسبت مہنگی ہے. آٹو کمپنیاں جب بھی مقامی سطح پر پیداوار شروع کریں ان کا مقابلہ البتہ جاری رہے گا.

کم ڈیوٹیز کی وجہ سے موجودہ ڈیوٹی سٹرکچر میں رہتے ہوئے وینڈرز نئی کمپنیوں کو جلد مقامی پیداوار شروع کرنے میں مدد کر سکیں گے.

تاہم باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی کمپنی کیلئے وینڈر بننا بھی آسان نہیں. جاپانی کمپنیوں کو زیادہ تر ٹیکنیکل پارٹس مہیا کرنے والے وینڈرز ان کمپنیوں کیساتھ تکنیکی اشتراک میں کام کر رہے ہیں. عام آدمی کو شائد یہ اچھا لگے کہ مقامی پرزہ جات بنانے والوں کیلئے ڈیوٹیز کم کی گئی ہیں تاکہ وہ سستے داموں پارٹس سپلائی کرسکیں، اسی وجہ سے نئی کمپنیاں مقامی سطح پر زیادہ پارٹس بنانے کی جانب متوجہ ہونگی. تاہم یہ اتنا سادہ نہیں جتنا دکھائی پڑتا ہے.

ذرائع نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نئی کمپنیاں‌ یقیناََ مقامی کاریگروں کو ٹیکنیکل پارٹس کی ڈرائنگ (کمپیوٹر ایڈڈ ڈیزائن) دکھانے سے ہچکچائیں گے جو پہلے ہی ان کے مدمقابل کمپنیوں کے ساتھ اشتراک میں‌کام کر رہے ہیں. اس لیے وہ مقامی آٹو پارٹس مثلاََ ٹائرز، آڈیو سسٹم، شیشے اور بیٹریاں وغیرہ تو خریدیں گے لیکن اپنے برانڈز کے حساب سے منفرد ٹیکنیکل پارٹس نہیں خریدیں گے.

کیڈ (کمپیوٹر ایڈڈ ڈیزائن) ڈرائنگ کسی انجنئیرنگ یا آرکیٹیکچرل پروجیکٹ کی 2 ڈی یا 3 ڈی السٹریشن ہوتی ہے جو اس کے تمام کمپوننٹس کو ظاہر کرتی ہے. کسی پروجیکٹ کے تصوراتی ڈیزائن سے لیکر اسکی کنسٹرکشن اور اسمبلنگ تک سارے عمل کے دوران استعمال کیلئے بنائی جانے والی ڈرائنگ کو کیڈ میں خاص قسم کا سوفٹ ویئر استعمال کرکے تیار کیا جاتا ہے.

ذرائع نے مزید بتایا کہ اگر مقامی پرزہ جات بنانے والوں کو کم ڈیوٹی کی شکل میں مراعات دی جاتی ہیں تو اس سے لوکل وینڈرز اور اوریجنل ایکویپمنٹ مینوفیکچرر کے منافع میں مزید اضافہ ہوگا. اس طرح ان کمپنیوں کی مراعات بڑھیں گی اور موجودہ کار میکرز کی لاگت بھی موثر ہو جائے گی.ذرائع کے مطابق نئے وینڈرز کو پاکستان میں آپریشنز شروع کرنے کیلئے حکومت زیادہ سے زیادہ ایسی مراعات دینے پر غور کر رہی ہے جو اوریجنل ایکویپمنٹ مینیوفیکچررز کو آٹو موٹیو ڈویلپمنٹ پالیسی 2016-21 کے تحت حاصل ہیں.

“حکومت کیلئے یہی مناسب راستہ ہے کہ وہ نئی کمپنیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دے تاکہ وہ مقامی طور پر زیادہ سے زیادہ کام کرسکیں اور نئی کمپنیوں کیلئے بھی راستہ کھلے.”

ذرائع نے بتایا کہ موجودہ حالات میں نئی کمپنیاں محض نان ٹیکنیکل پارٹس ہی لوکل لائز کرنے کے قابل ہوں گی چاہے لوکل وینڈرز مراعات حاصل کریں یا نہ کریں.

آٹو موٹیو ڈویلپمنٹ پالیسی (اے ڈی پی)2016-21ء پر نظرثانی:

سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) کے مطابق کوئی نیا مینوفیکچرر آٹوموٹیو ڈویلپمنٹ پالیسی کے تحت نیا اسمبلمنگ پلانٹ لگاتا ہے تو اسے اپنا برانڈ متعارف کرانے،مارکیٹ میں مخصوص شیئر حاصل کرنے، ڈسٹری بیوشن اینڈ آفٹر سیلز نیٹ ورک بنانے اور پارٹ مینو فیکچرر بیس تشکیل دینے کیلئے ہمیشہ زیادہ مراعات کی ضرورت ہوگی.

اسی تناظر میں سرمایہ کاری بورڈ نے نئی سرمایہ کاری لانے کیلئے مختلف مراعات پر مشتمل دو مختلف کیٹیگریز بنائی ہیں.

پہلی کیٹیگری کو گرین فیلڈ انویسٹمنٹ کا نام دیا گیا ہے. گرین فیلڈ کیٹیگری میں‌ سرمایہ کار ایک نیا اور خود مختار آٹوموٹیو اسمبلنگ اینڈ مینوفیکچرنگ پلانٹ لگاتا ہے جہاں وہ گاڑیاں بنائی جاتی ہیں جو پہلے پاکستان میں نہیں بنتی ہیں.

دوسری کیٹیگری برائون فیلد انویسٹمنٹ کے زمرے میں آتی ہے جس کے تحت جولائی 2013ء سے بند پڑے اسمبلنگ یا مینوفیکچرنگ پلانٹس کو آپریشنل کرنا شامل ہے.

بحالی یا تو آزادانہ طور پر اصل مالکان کی جانب سے کی جائی گی یا نئے سرمایہ کار یا پھر عالمی اصول کے مطابق جوائنٹ وینچر کے تحت کی جائے گی. پلانٹ کو خرید لینے کی صورت میں فارن پرنسپل بھی آزادانہ ہو سکتا.

گرین فیلڈ انویسٹمنٹ کے تحت ان نئے وینچرز کو اسمبلنگ پلانٹ یا مینوفیکچرنگ یونٹ یا دونوں لگانے کیلئے ایک بار ڈیوٹی فری پلانٹ یا مشینری کی امپورٹ کی اجازت ہے. پروجیکٹ شروع کرنے کے بعد انہیں ٹیسٹ مارکیٹنگ کے لیے مروجہ ڈیوٹی 50 فیصد کی ادائیگی پرایک ہی قسم کی 100 گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت ہوگی.

کاروں اور لائٹ کمرشل وہیکلز کی تیار پر 5 سال کیلئے غیر مقامی پرزہ جات پر کسٹمز ڈیوٹی 10 فیصد اور مقامی پرزہ جات پر 25 فیصد ہوگی. یہی کسٹمز ڈیوٹی ٹرکوں ، بسوں اور پرائم موورز کی مینوفیکچرنگ کیلئے پرزہ جات کی درآمد پر 3 سال کیلئے عائد ہوگی.

برائون فیلڈ انویسٹمنٹ میں سرمایہ کار کاروں اور لائٹ کمرشل وہیکلز کی مینوفیکچرنگ کیلئے غیر مقامی پرزہ جات کی درآمد پر 10 فیصد جبکہ مقامی پرزہ جات پر 25 فیصد کسٹمز ڈیوٹی تین سال کیلئے ادا کریں گے یہی ڈیوٹی ٹرکوں، بسوں وغیرہ کی تیاری کیلئے استعمال ہونے والے پرزہ جات پر لگے گی.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here