سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی 460 ارب کی پیشکش قبول کرلی

98

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کو کلین چٹ دینے کیلئے 460 ارب روپے کی پیشکش قبول کرتے ہوئے نیب کو ریفرنس دائر کرنے سے روک دیا۔
سپریم کورٹ میں جسٹس عظمت سعید شیخ کی زیر سربراہی بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی جس میں بحریہ ٹاؤن کراچی کا فیصلہ سنا دیا۔
گزشتہ سماعت پر بحریہ ٹاؤن نے کراچی پروجیکٹ کو کلین چٹ دینے کے لیے 440 ارب روپے کی پیشکش بڑھا کر 460 ارب روپے کردی تھی جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
آج بروز جمعرات کو سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے کراچی پروجیکٹ کو کلین چٹ دینے کے عوض 460 ارب روپے کی پیشکش قبول کرلی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ بحریہ ٹاؤن 27 اگست تک 25 ارب کی ڈاؤن پیمنٹ جمع کرائے گا جبکہ تمام ادائیگی 7 سال میں کرنے کا پابند ہوگا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بحریہ ٹاؤن ستمبر سے ماہانہ 2.25 ارب روپے چار سال تک ادا کرے گا اور پھر بحریہ ٹاؤن آخری 3 سال میں بقیہ رقم ادا کرنے کا پابند ہوگا۔
آخری 3 سال کی رقم پر بحریہ ٹاؤن کو 4 فیصد مارک اپ بھی ادا کرنا ہوگا جبکہ بحریہ ٹاؤن تمام 460 ارب روپے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گا۔
فیصلے کے مطابق مکمل ادائیگی کے بعد زمین بحریہ ٹاؤن کے نام منتقل ہوگی اور مسلسل تین قسطیں دینے میں ناکامی پر بحریہ ٹاؤن کو ڈیفالٹ قرار دیا جائے گا اور نیب کو دوربارہ تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ بحریہ ٹاؤن رہائشیوں کو 99 سال کی لیز دے گا۔
عدالت نےقرار دیا ہے کہ نیب نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف ریفرنس دائر کرنا ہوا تو سپریم کورٹ سے رجوع کرے گا۔ عدالت فریقین کو سن کر ہی ریفرنس کے متعلق فیصلہ کرے گی۔
سماعت کے موقع پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ تمام رقم سندھ حکومت کو جمع کرائی جائے۔ جس پر جسٹس عظمت سعید نے ان کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے پیسے آنے تو دیں، آپ نے پہلے ہی لڑائی ڈال لی۔
جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ سندھ حکومت تو کہتی تھی اس کا نقصان ہی نہیں ہوا اور سندھ حکومت کتنے پیسوں پر راضی تھی یہ بھی پتا ہے۔
بحریہ ٹاؤن کو سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ کے خلاف 2015 میں کراچی انڈی جنیس رائٹس الائنس قائم ہوا جس کی سربراہی ایم پی اے سلیم بلوچ کر رہے تھے جبکہ ایم این اے حکیم بلوچ، ایم پی اے شفیع جاموٹ، تاریخ دان گل حسن کلمتی، سماجی کارکن مستی خان اور سابق دیہی ناظم خدا ڈنو بھی اس میں شامل تھے۔
کراچی انڈی جنیس رائٹس الائنس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے 2011 میں حکم دیا تھا کہ حکومت اپنی ملکیتی اراضی کسی نجی ادارے کو الاٹ نہیں کرسکتی جبکہ سندھ حکومت نے بحریہ ٹاؤن کو اراضی الاٹ کردی جو نہ صرف سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے بلکہ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 اور سندھ گوٹھ آباد ایکٹ 1987 کے تحت بھی غیرقانونی ہے۔
سپریم کے حالیہ فیصلے کے چند روز قبل کراچی انڈی جنیس رائٹس الائنس نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت عظمیٰ کے مئی 2018 کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے جس میں عدالت نے حکم دیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی سے سرکاری اراضی واپس لی جائے۔
بحریہ ٹاؤن کیس کا پس منظر
گزشتہ برس 4 مئی کو سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ اور تبادلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ملک ریاض کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا تھا جبکہ بحریہ ٹاؤن اراضی سے متعلق کیسز پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے معاملہ نیب کو بھیجنے اور 3 ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے ساتھ اراضی کا تبادلہ غیرقانونی ہے۔ اس لیے حکومت کی اراضی حکومت کو واپس کی جائے جبکہ بحریہ ٹاؤن کی اراضی بحریہ ٹاؤن کو دی جائے۔
عدالت کی جانب سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا تھا جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے درخواست کی گئی کہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دیں۔
دوسری جانب عدالت نے اپنے ایک اور فیصلے میں اسلام آباد کے قریب تخت پڑی میں جنگلات کی زمین کی از سر نو حد بندی کا حکم دیا اور کہا کہ تخت پڑی کا علاقہ 2210 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے، لہٰذا فاریسٹ ریونیو اور سروے آف پاکستان دوبارہ اس کی نشاندہی کرے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں بحریہ ٹاؤن کو جنگلات کی زمین پر قبضے کا ذمہ دار قرار دیا اور مری میں جنگلات اور شاملات کی زمین پر تعمیرات غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مری میں ہاؤسنگ سوسائٹیز میں مزید تعمیرات کو فوری طور پر روکنے کا حکم دیا۔
بعد ازاں عدالت کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں دیے گئے فیصلے پر عمدرآمد کےلیے ایک خصوصی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔
اس کیس میں بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اپنی زمین کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے پہلے 250 ارب روپے کی پیش کش کی تھی جسے مسترد کردیا تھا، جس کے بعد 16 ہزار ایکڑ زمین کے عوض 358 ارب روپے دینے کی پیشکش کی گئی تاہم اسے بھی عدالت نے مسترد کردیا تھا۔
بعد ازاں بحریہ ٹاؤن نے کراچی کے منصوبے کے لیے 405 ارب روپے کی پیش کش کی تھی لیکن عدالت نے اس پیش کش کو بھی مسترد کردیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here