بروقت کاریں فراہم کرنے میں ناکامی پر کمپنیوں نے صارفین کو 2 ارب روپے واپس کیے، قائمہ کمیٹی میں جواب

91

اسلام آباد: کار ساز اداروں نے بتایا ہے کہ انہوں‌ نے بروقت گاڑیاں فراہم نہ کرسکنے پر صارفین کو 2 ارب روپے گزشتہ سال میں ادا کیے ہیں.

ہونڈا اور ٹیوٹا کے نمائندوں نے جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ دی.

کمیٹی کے اجلاس میں مقامی کارساز کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو گاڑیوں کی تاخیر سے فراہمی اور جلد وصولی (اوون منی) کی شکایات پر بحث کی گئی.

وزارت صنعت و پیداوار کے نمائندے نے کمیٹی کو بتایا کہ گاڑیاں دیر سے فراہم کی جانے کی شکایات موصول ہوئی ہیں اور وزارت اس سلسلے کے خاتمے کے لیے متعدد آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

ایف بی آر نے کمیٹی کے سامنے انکشاف کیا کہ گزشتہ 5 سال کے دوران کراچی کے ایک ڈیلر نے اپنے نام پر 10ہزار گاڑیاں رجسٹر کرائیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے پوچھا کہ ٹیکس حکام نے مذکورہ فرد کو نوٹس جاری کیا تھا یا نہیں؟

ایف بی آر کی جانب سے کہا گیا کہ مطلوبہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد مذکورہ شخص کو نوٹس جاری کیا گیا تھا. کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں معاملے پر ایف بی آر کے انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کے نمائندے تفصیلی بریفنگ دیں گے.

کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ہونڈا اور ٹیوٹا کے نمائندوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران گاڑیوں کی دیر سے فراہمی پر صارفین کو تقریباً 2 ارب روپے ادا کیے۔ انہوں نے کہا کہ آٹو پالیسی کمپنیوں کو پابند کرتی ہے کہ بکنگ کے دو ماہ کے اندر گاڑیاں فراہم کریں اگر وہ اس میں ناکام ہوں تو پالیسی کے مطابق صارفین کو رقم واپس کریں.

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ہمارے پاس زیادہ لوگ گاڑیاں خریدنے آئے اس لیے ہم گاڑیاں وقت پر فراہم نہیں کرسکے. ہم نے پیداواری صلاحیت بڑھا دی ہے اور اب 25 دن میں گاڑی فراہم کرسکتے ہیں.

کارساز اداروں کے نمائندوں نے بتایا کہ پریمیم سسٹم سے فائدہ اٹھانے کیلئے سرمایہ کار مارکیٹ میں مصنوعی قلت بھی پیدا کر رہے ہیں. ہم پریمیم سسٹم سے چھٹکارے کیلئے کام کر رہے ہیں ہم اس سلسلے میں آگاہی مہموں پر بھی رقم خرچ کر رہے ہیں.

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ کاروں کی کوالٹی وقت کیساتھ ساتھ بگڑ رہی ہے جبکہ ترقی یافتہ ملکوں کی طرح کمپنیاں سیفٹی کے معیار پر بھی پورا نہیں اتر رہی ہیں.

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here