ایف بی آر پانچ ماہ کی کوششوں کے بعد 400 سے زائد آف شور اکائونٹس میں سے صرف ایک اکائونٹ سے ٹیکس وصول کرسکا

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ایف بی آر، ایف آئی اے، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور قومی احتساب بیورو کو معاملے پر بریفنگ کے لیے طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا

200

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) پانچ ماہ کی کوششوں کے باوجود صرف ایک آف شور اکائونٹ سے رقم وصول کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے.

جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مالیات کے اجلاس میں بیرون ملک اثاثوں کے مقدمات میں ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس ریکوری کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ آف شور اکاؤنٹس سے کم وصولی پر کمیٹی اراکین نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ایف بی آر کی کارکردگی پر تشویش ظاہر کی.

انگریزی روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق دس لاکھ ڈالر فی کس مالیت کے حامل پاکستانیوں کے 400 سے زائد آف شور بینک اکاؤنٹس میں سے ایف بی آر 5 ماہ کی کوششوں بعد بمشکل ایک اکاؤنٹ سے 12 لاکھ 20 ہزار ڈالر کا ٹیکس وصول کرنے میں کامیاب ہوسکا ہے.

رپورٹ کے مطابق چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ بینک اکاؤنٹس کی اصل معلومات سٹیٹ بنک کے پاس ہیں اور مرکزی بینک ہی ریگولیٹر کے طور پر کمیٹی کو تفصیلات بتانے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہو گا۔
یہ بھی پڑھیے: ایف بی آر نے ڈیڑھ لاکھ بیرون ملک اکاؤنٹس کا پتہ لگا لیا
جس کے بعد قائمہ کمیٹی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ایف بی آر، ایف آئی اے، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور قومی احتساب بیورو کو معاملے پر بریفنگ کے لیے طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے.

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے 1 لاکھ 52ہزار 518 اکاؤنٹس کی تفصیلات ملی ہیں، جن کا ٹیکس کے تناظر میں جائزہ لیا گیا ہےاور ایف بی آر اس وقت برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میںآف شور اکاؤنٹس کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایف بی آر کا ٹیکس چوروں کیخلاف کریک ڈاؤن
کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ایف بی آر کے چیف انٹرنیشنل ٹیکسز اشفاق احمد نے بتایا کہ اس وقت بیرون ملک 400 اہم بینک اکاؤنٹس کے مقدمات کی تحقیقات کر رہے ہیں اور 28ملکوں سے ڈیٹا موصول ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کو متحدہ عرب امارات میں صرف 5ہزار جائیدادوں کے ثبوت ملے ہیں البتہ اکثر مقدمات میں جائیداد کے مالکان نے سابقہ ایمنسٹی اسکیم سے بھی فائدہ اٹھایا تھا۔ جن پاکستانیوں کی آف شور جائیدادیں ہیں ان کے پاسپورٹ نمبر اور جائیدادوں کی تفصیلات متحدہ عرب امارات کے حکام سے طلب کی گئی ہیں لیکن متحدہ عرب امارات کے حکام معلومات کی فراہمی میں وقت لے رہے ہیں۔

اشفاق احمد کا کہنا تھا کہ برطانیہ سے مفاہمتی یادداشت کی بدولت وہاں سے بھی ایف بی آر کو 525 جائیدادوں کی تفصیلات ملی ہیں ، ہم ان کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ پتہ چلا سکیں کہ ان میں سے غیراعلان دہ اور ٹیکس ادا نہ کی گئی جائیدادوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ٹیکس کی جلد از جلد وصولی کے حوالے سے اشفاق احمد نے کمیٹی کو بتایا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 165اے کے تحت بینکس مسلسل معلومات فراہم کر رہے ہیں اور اب تک ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو نے 8ہزار بے نامی اکاؤنٹس لا پتہ لگایا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here