یواے ای سے ادھار تیل فراہمی کا معاہدہ منسوخ ہونے کا خدشہ

92

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 3.2ارب ڈالر کی مؤخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کا معاہدہ ختم ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ وزیرخزانہ اسد عمر نے ایک نجی انگریزی اخبار کوبتایا کہ غالب امکان ہے کہ یو اے ا ی سے مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی فراہمی کا معاہدہ تکمیل تک نہیں پہنچ پائیگا لیکن حکومت نے رواں مالی سال کے لیے بیرونی ادائیگیوں کیلیے ضروری متبادل انتظامات کر لیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی منسوخی کی وجوہات کا فورا علم نہیں ہوسکا، یو اے ای نے پچھلے ماہ مشترکہ وزارتی کمیشن سطح کی طے شدہ میٹنگ بھی منسوخ کردی تھی۔ یواے ای کی طرف سے 3.2 ارب ڈالر کے ادھار تیل کی فراہمی کا معاہدہ دسمبر میں پاکستان کو دی جانیوالی 6.2 ارب ڈالرکی مجموعی امداد کا حصہ تھا۔ متحدہ عرب امارات دو ارب ڈالر پہلے ہی اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے پاس رکھوا چکا ہے جبکہ ایک ارب ڈالر جلد ملنے کا امکان ہے۔ یواے ای کی طرف سے مؤخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کامعاہدہ منسوخ کرنا وزارت خزانہ کے لئے بہت بڑا دھچکا ہے، جو سعودی عرب، یو اے ای اور چین کی طرف سے ملنے والی 14.5ارب ڈالر امداد کی بدولت مالی خسارہ کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ وزارت خزانہ کے ترجمان ڈاکٹرخاقان نجیب کا کہنا تھا کہ انٹرنیشل اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن (آئی ٹی ایف سی) کی طرف سے ایک بلین ڈالر کی امداد کا انتظام پہلے ہی کرلیاگیا تھا، جو یو اے ای کی طرف سے ادھار تیل فراہمی معاہدے کی ممکنہ منسوخی یا تاخیر کے اثرات کوکم کر دے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here